• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کا موجودہ نظامِ خوراک ایک سنگین بین الاقوامی تضاد پر استوارہے۔ ایک طرف عالمی سطح پر جدید ترین زرعی ٹیکنالوجی، عالم گیر تجارتی معاہدے، خوراک کے وسیع و عریض ذخائر اور ترقّی یافتہ منڈیاں موجود ہیں، تو دوسری طرف دنیا کے متعددِ خطّوں میں کروڑوں انسانوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مناسب، محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا حصول ایک کٹھن اور بظاہر لامتناہی جدوجہد بن چکا ہے۔’’ بھوک اور غذائی قلت ‘‘صرف خالی پیٹ کا نام نہیں، یہ کم زور جسم، پست قد، کم وزن ، خون کی شدید کمی، بار بار لاحق ہونے والے امراض، اسکولز میں بچّوں کی خراب کارکردگی اور ایک ایسی نسل کی صُورت اُبھرتی ہے جو اپنی عُمر کے طبعی تقاضوں کے مطابق نشوونما پانے سے محروم رہ جاتی ہے۔

اسی لیے دنیا بھر میں ہر سال 16 اکتوبر کو عالمی یوم ِخوراک (World Food Day) منایا جا تا ہے ۔یہ دن کئی ممالک اور پالیسی سازوں کے سامنے یہ بنیادی سوال رکھتا ہے کہ کرۂ ارض پر پیدا ہونے والی خوراک آخر کس کی دسترس میں ہے اور کون محض قوتِ خرید نہ ہونے کے باعث غذائیت سے محروم رہ جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ادارۂ خوراک و زراعت (Food and Agriculture Organization - FAO) اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی تازہ ترین جائزہ رپورٹس کے مطابق عالمی برادری کی جانب سے پائےدار ترقیاتی اہداف (Sustainable Development Goals - SDGs) بالخصوص’’ زیرو ہنگر‘‘ (Zero Hunger) کے حصول کے دعووں کے باوجود بحران کی سنگینی میں کمی نہیں آئی۔

ادارۂ خوراک و زراعت کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 ء میں دنیا بھر میں تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افرا،جو دنیا کی کُل آبادی کا تقریباً 7.8 فی صد بنتے ہیں، دائمی بھوک (Chronic Hunger) کے شکار تھے۔ اسی عرصے کے دوران دنیا کی ایک چوتھائی سے بھی زائد آبادی، یعنی تقریباً 2.1 ارب انسان، درمیانے یا شدید نوعیت کے غذائی عدم تحفّظ سے دوچار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ان اربوں انسانوں کو سال کے مختلف مراحل میں خوراک کی درکار مقدار، اس کے بنیادی معیار یا باقاعدگی میں ایسی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا ، جس نے ان کی صحت مند زندگی کے اصولوں کو متاثر کیا۔

خصوصاًدنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد براِعظم ایشیا میں صورتِ حال انتہائی تشویش ناک رہی۔ جہاں 2025 ءمیں 29 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد دائمی بھوک کے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے۔عالمی سطح پر غذائی بحران کی موجودہ شدت کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ متعدد بین الاقوامی معاشی، ماحولیاتی اور جیو پولیٹیکل عوامل کا مشترکہ حاصل ہے۔ ادارۂ خوراک و زراعت اور عالمی بینک کے تجزیوں کے مطابق عالمی غذائی بحران کے بنیادی محرکات درج ذیل ہیں۔

٭جغرافیائی سیاسی تنازعات اور جنگیں: مشرقی یورپ میں روس اور یوکرین کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحیرۂ احمر میں تجارتی راہ داریوں کی ناکہ بندی نے عالمی سطح پر اناج، بالخصوص گندم، سورج مکُھی کے تیل اور کیمیائی کھادوں کی عالمی سپلائی چین کو بُری طرح متاثر کیا۔ یورپ اور بحیرۂ اسود کے خطے سے اناج کی برآمدات میں رکاوٹ نے ایشیا اور افریقا کے درآمد کنندہ ممالک میں خوراک کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا۔

٭ عالم گیر معاشی بحران اور افراطِ زر : کووِڈ۔ 19 کے بعد اُبھرنے والے عالمی افراطِ زر، مرکزی بینکوں کی جانب سے سود کی بلند شرح اور بالخصوص درمیانی و کم آمدنی والے ممالک میں مقامی کرنسیوں کی قدر میں مسلسل کمی نے خوراک کی عالمی برآمدات کو مقامی منڈیوں میں انتہائی منہگا کر دیا۔

٭ زرعی اِن پٹس (Inputs)کی گرانی: بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیمیائی کھادوں، زرعی ادویہ اور ٹیوب ویلز چلانے کی لاگت میں تاریخی اضافہ ہوا۔ اس نے عالمی اور قومی سطح پر کسان کے لیے فصل اگانا انتہائی منہگا کر دیا۔

٭شدید موسمیاتی جھٹکے: غیر معمولی موسمیاتی اثرات کے تحت افریقا، جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکامیں طویل خشک سالی، بے وقت بارشوں اور تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں ہیکٹرزپر کھڑی فصلیں اور مویشی تباہ کیے، جس سے عالمی منڈی میں خوراک کی دست یابی کم ہو گئی۔

بچّوں کی نشوونما پر غذائی قلّت کے اثرات اور دہرا بوجھ

عالمی غذائی بحران کا سب سے دردناک چہرہ بچّوں کی غذائی قلت (Child Malnutrition) کی صُورت اُبھرتا ہے۔ یونیسیف ، عالمی ادارۂ صحت اور عالمی بینک کے مشترکہ عالمی تخمینوں کے مطابق سال 2024ء میں دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عُمر کے تقریباً 15 کروڑ 2 لاکھ بچے قد کی کمی Stuntingکے عارضے میں مبتلا تھے، جب کہ 4 کروڑ 28 لاکھ سے زائد بچّےWastingیعنی قد کے تناسب سے انتہائی کم وزن کی کیفیت کا شکار تھے۔

تشویش ناک بات یہ ہے کہ اسی عرصے میں دنیا کے 3 کروڑ 55 لاکھ بچّے غیر صحت بخش اور پروسیسڈ غذا کے سبب فربہی مائل تھے۔ یہ اعدادوشمار اس حقیقت کو واشگاف کرتے ہیں کہ دنیا بیک وقت دو باہم متضاد، مگر یک ساں خطرناک مسائل کا سامنا کر رہی ہے، جسے بین الاقوامی صحت کی زبان میں ’’غذائی قلت کا دہرا بوجھ‘‘ کہا جاتا ہے۔

ایک طرف بچّے مناسب غذائیت نہ ملنے کے باعث دائمی معذوری اور جسمانی و ذہنی مسائل کے شکار ہیں، تو دوسری طرف غیر صحت بخش، سستی، انتہائی پروسیسڈ اور توانائی سے بھرپور، مگر غذائیت سے خالی خوراک کے استعمال کی وجہ سے بچّوں میں فربہی اور موٹاپے کا عارضہ بڑھ رہا ہے۔

غذائی بحران کو محض ’’پیٹ بھرنے یا نہ بھرنے‘‘ کا نام دینا طبّی اور علمی اعتبار سےگمراہ کن ہے۔ اگر ایک بچّے کو روزانہ اتنی کیلوریز مل رہی ہیں کہ وہ بھوکا نہ سوئے، مگر اس کی روزمرہ غذا میں پروٹین ، آئرن ، زنک ، وٹامن اے، وٹامن ڈی اور کیلشیم جیسے حیاتیاتی اجزا ءشامل نہیں تو اس بچّے کی غذائی ضرورت ہرگز پوری نہیں ہو رہی۔

اگر ایک غریب خاندان مہینے کے آخر میں صرف روٹی، چاول یا آلو خرید کر پیٹ بھرنے پر مجبور ہے اور دودھ، انڈے، دالیں، گوشت اور پھل اس کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں تو بظاہر دسترخوان پر کھانا موجود ہونے کے باوجود وہ خاندان شدید ترین غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔

پاکستان کا قومی منظرنامہ: پیداوار اور دست یابی کا تضاد

عالمی منظرنامے کے آئینے میں پاکستان کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو تصویر خاصی تشویش ناک نظر آتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے ،جس کی معیشت کا بنیادی ستون زراعت ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں، وسیع نہری نظام، دریا اور کروڑوں محنتی کسان ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے، مگر اس زرعی طاقت کے باوجود غذائی عدم تحفظ اور بچّوں میں شدید غذائی قلت ملک کے سرفہرست انسانی و معاشی مسائل میں شامل ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے پاکستان پروفائل کے مطابق ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فی صدبچّے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں اور یہ بحران ملک کے طول و عرض میں مسلسل پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان کے لیے اس مسئلے کی گہرائی سمجھنے کے لیے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( PBS) کا حال ہی میں مکمل ہونے والا ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES 2024-25) انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس قومی سروے میں پہلی بار بین الاقوامی معیار کا فنکشنل اسکیل (Food Insecurity Experience Scale) استعمال کرتے ہوئے گھریلو سطح پر خوراک کے عدم تحفظ کی درست اور سائنسی پیمائش کی گئی۔

اس سروے کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں درمیانے یا شدید نوعیت کا غذائی عدم تحفظ 2018۔19 ءمیں 15.92 فی صدسے تیزی سے بڑھ کر2024۔25ءمیں 24.35 فی صد تک پہنچ چکا ہے، جب کہ شدید غذائی عدم تحفظ کی شرح 2.37 فی صد سے بڑھ کر 5.04 فی صد ہو گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ شرح 26.72 فی صد جیسی خطرناک سطح پر ہے، جب کہ شہری علاقوں میں 20.58 فی صد آبادی اس کی زد میں ہے۔

صوبائی تقابل اس بحران کی مزید پےچیدہ پرتیں کھولتا ہے۔ سروے کے مطابق بلوچستان میں درمیانے یا شدید غذائی عدم تحفظ کا تناسب 30.26 فی صد اور سندھ میں 29.42 فی صد ریکارڈ کیا گیا، جو کہ قومی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں غذائی بحران کا انداز اور شدت ہر علاقے میں مختلف ہے۔

ملک کے حسّاس اضلاع کی صورتِ حال 

جب ہم قومی اور صوبائی اعدادوشمار سے نکل کر پاکستان کے ان مخصوص علاقوں کی طرف دیکھتے ہیں، جہاں یہ بحران اپنی تمام تر ہول ناکیوں کے ساتھ پنجے گاڑ چکا ہے تواس ضمن میں IPC: Integrated Food Security Phase Classificationکی ر پورٹس ہمارے سامنے آتی ہیں،جس میں سال 2025-26ء کے تجزیاتی دورانیے میں بلوچستان، سندھ اور خیبر پختون خوا کے 45 انتہائی کم زور اور حسّاس دیہی اضلاع کی صُورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان 45 اضلاع میں تقریباً 3 کروڑ 56 لاکھ افراد مقیم ہیں، جو پاکستان کی کُل دیہی آبادی کا تقریباً 23 فی صد اور مجموعی قومی آبادی کا 14 فی صد بنتے ہیں۔

آئی پی سی کے تیکنیکی تجزیے کے مطابق دسمبر 2025 سے مارچ 2026 ءکے عرصے کے دوران ان اضلاع کے تقریباً 75 لاکھ افرادیعنی کُل جائزہ شدہ آبادی کا 21 فی صد آئی پی سی فیز 3 یا اس سے زیادہ کی خطرناک ترین غذائی عدم تحفّظ کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ ان میں سے تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار افراد فیز4 ہنگامی حالت میں تھے، جب کہ 63 لاکھ کے قریب افراد فیز 3 یعنی بحرانی حالت کا سامنا کر رہے تھے۔

یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ آئی پی سی کی درجہ بندی کوئی عام معاشی یا غربت کی سطح کی نشان دہی نہیں کرتی بلکہ یہ ہنگامی اور شدید غذائی عدم تحفظ کی سائنسی شدت کی پیمائش کرتی ہے۔ فیز 3 میں رہنے والے خاندان محض پیٹ بھرنے کے لیے اپنے پیداواری اثاثے بیچنے یا خوراک کی مقدار میں خطرناک حد تک کمی کرنے جیسے غیر پائےدار ذرائع اختیار کرتے ہیں، جب کہ فیز 4 میں خوراک کی شدید ترین قحط سالی، امراض اور اموات کے خطرات سر پر منڈلانے لگتے ہیں۔ رواں سال اپریل سے ستمبر کے لیے بھی آئی پی سی نےان 45 اضلا ع میں فیز 3 یا اس سے اوپر کے متاثر ین کی تعداد 67 لاکھ کے قریب رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

بچّوں اور خواتین میں شدید غذائی قلت

پاکستان کے غذائی بحران کا سب سے ہول ناک، الم ناک اور رُوح فرسا پہلو ہمارے معصوم بچّوں میں شدید غذائی قلت کا بے قابو پھیلاؤ ہے۔ آئی پی سی کی اپریل 2026 ءکی خصوصی رپورٹ کے مطابق بلوچستان، خیبر پختون خوا اور سندھ کےانہی 45 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے 27 لاکھ 10 ہزار سے زائد بچّے شدیدغذائی قلت سے متاثر تھے۔

ان میں سے تقریباً 7 لاکھ 6 ہزار بچّے انتہائی شدید غذائی قلت کا شکار تھے، جب کہ 20 لاکھ کے قریب بچّے درمیانی نوعیت کی شدید غذائی قلت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اسی دورانیے میں 2 لاکھ 32 ہزار سے زائد حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا شدید غذائی قلت سے متاثر ہونا اس المیے کو مزید بھیانک بناتا ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 45 اضلاع کے اس پورے خطّے میں شدید غذائی قلت کے شکار بچّوں کا تقریباً 44 فی صد، یعنی 11 لاکھ 80 ہزار بچّے صرف سندھ میں موجود تھے۔

خیبر پختون خوا میں ایسے بچّوں کی تعداد 11 لاکھ 10 ہزار، جب کہ بلوچستان میں 4 لاکھ 20 ہزار تھی۔ سندھ کی یہ تشویش ناک حالت صرف کسی ایک فصل کے خراب ہونے یا منہگائی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ دہائیوں پر محیط معاشی ناہم واری، صاف پانی اور صفائی کے ناقص انتظامات، بنیادی صحت کے ڈھانچے کی عدم دست یابی، ماحولیاتی آفات کی یلغار اور ماؤں اور بچّوں میں متوازن غذا کی عدم دست یابی کا مشترکہ ہول ناک ثمر ہے۔

غربت، منہگائی اور غریب کے بجٹ کا نا ممکن توازن

کسی بھی معاشرے میں غذائی بحران کا براہِ راست اور گہرا تعلق غربت سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں پچھلے چند سالوں کے دوران بے لگام منہگائی، تباہ کُن سیلابوں، کورونا کے بعد کے معاشی اثرات، اور معاشی نمو میں جمود نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔

عالمی بینک کی سال 2025 ءکی غربت ،مساوات اور Resilience Assessment کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قومی غربت کی شرح جو 2001-02 ءمیں 64.3 فی صد تھی، وہ 2018-19 ءتک کم ہو کر 21.9 فی صدپر آگئی تھی، لیکن 2020 ءکے بعد آنے والے مسلسل معاشی اور قدرتی جھٹکوں نے اس پیش رفت کو متاثر کیا اور غربت میں دوبارہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ واضح رہے، پاکستان میں کم آمدنی والے غریب گھرانے اپنی کُل محدود آمدنی کا تقریباً 45 فی صد صرف بنیادی خوراک خریدنے پر خرچ کر دیتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں ہونے والا معمولی سا اضافہ بھی غریب کا بجٹ ہلا کر رکھ دیتا ہے،جب روٹی منہگی ہوتی ہے تو غریب سب سے پہلے اپنی غذا میں سے پروٹین، وٹامن اور معدنیات خارج کر دیتا ہے۔ گوشت دسترخوان سے مکمل غائب ہو جاتا ہے، دودھ بچّوں کی ضرورت سے گھٹا کر چائے کے چند قطروں تک محدود ہو جاتا ہے، انڈے عیاشی بن جاتے ہیں اور دال بھی ناپ تول کر پکائی جاتی ہے۔

خاندان صرف گندم یا چاول سے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم کو کیلوریز تو شاید مل جائیں، لیکن وہ غذائیت سے مکمل طور پر محروم رہ جاتا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں ’’منہگی روٹی، کم زور جسم‘‘ محض ایک عنوان نہیں رہتا ، ہماری قومی حقیقت بن جاتا ہے۔

صحت کا نظام، ماؤں کی غذائیت اور بچّے کی زندگی کے پہلے 1000 دن

غذائی بحران کو صرف زراعت یا منڈی کا مسئلہ سمجھنا اور اسے صحت کے نظام سے الگ تھلگ دیکھنا ایک سنگین غلطی ہے، جب ایک بچّہ شدید غذائی قلت کے باعث کسی اسپتال کے میں تشویش ناک حالت میں لایا جاتا ہے، تو اس کی بیماری کا سفر اس دن سے شروع نہیں ہوا ہوتا بلکہ اس سفر کا آغاز اس کی پیدائش سے قبل ہوچکا ہوتا ہے۔

ماں کی غذائیت اس پورے سلسلے کی سب سے بنیادی اور پہلی کڑی ہے۔ حمل کے دوران اگر ماں کو مطلوبہ پروٹین، آئرن، فولک ایسڈ ، کیلشیم اور دیگر حیاتیاتی اجزا ءنہ ملیں تو نہ صرف اس کی اپنی صحت تباہ ہوتی ہے بلکہ بچّے کی جسمانی اور دماغی نشوونما کی بنیاد بھی کم زور رہ جاتی ہے۔ پیدائش کے بعد اگر ماں خود غذائی قلت کا شکار ہے تو وہ بچّے کو درست اور وافر دودھ نہیں پلا سکتی۔

طبّی سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ بچے کی پیدائش سے لے کر دو سال کی عمر تک کا عرصہ، جسے ’’زندگی کے پہلے 1000 دن‘‘ کہا جاتا ہے، بچّے کی تمام تر جسمانی، ذہنی اور مدافعتی صلاحیتوں کی تشکیل کا واحد اور آخری موقع ہوتا ہے۔ اگر اس دوران بچّہ غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اس کے بعد دیا جانے والا کوئی بھی سپلیمنٹ یا علاج اس کی معذوری اور کم زور قد و قامت کبھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں کر سکتا۔

زرعی پیداوار، سپلائی چین اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات

یہ ایک فکر انگیز تضاد ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود غذائی عدم تحفّظ کا شکار ہے۔ سال 2025-26 ءکے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق ملک کی قومی معیشت میں زراعت کا شعبہ 23.4 فی صد حصّہ ڈالتا ہے اور ملک کی 33.1 فی صد روزگار کی طاقت اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ اسی سال زرعی شعبے میں 2.89 فی صد کی مثبت نمو بھی ریکارڈ کی گئی۔

گندم کی سالانہ پیداوار تقریباًدو کروڑ 96 لاکھ ٹن، چاول کی پیداوار ایک کروڑ ٹن اور گنے کی پیداوار آٹھ کروڑ 95 لاکھ ٹن کے قریب رہی، جب کہ دالوں، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں بھی بالترتیب 31.4 فی صد، 12.6 فی صد اور 2.8 فی صد کا اضافہ دیکھا گیا۔

یہ اعدادوشمار یہ بنیادی سوال اُٹھاتے ہیں کہ اگر ملک اناج کی دولت سے مالا مال ہے اور پیداوار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے تو پھر 24 فی صد سے زائد پاکستانی غذائی عدم تحفّظ کا شکار کیوں ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ’’خوراک کا پیدا ہونا‘‘ اور ’’خوراک کا غریب کی پلیٹ تک پہنچنا‘‘دو بالکل مختلف حقیقتیں ہیں۔ 

ملک میں گندم وافر مقدار میں موجود ہو سکتی ہے، لیکن اگر ایک مزدور کی دہاڑی اتنی نہیں کہ وہ 20 کلو آٹے کا تھیلا خرید سکے تو گوداموں میں پڑا اناج اس کے بچّوں کی بھوک کو نہیں مٹاسکتا۔سبزیاں اور دودھ دیہات میں پیدا ہوتے ہیں، لیکن ناقص ٹرانسپورٹ اور کولڈ چین سسٹم کی عدم موجودگی کے باعث وہ شہر کی مارکیٹ تک پہنچتے پہنچتے اتنے منہگے ہو جاتے ہیں کہ عام شہری کی قوتِ خرید سے باہر ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں بنیادی ڈھانچے اور جدید کولڈ اسٹوریج کا نظام نہ ہونے کے باعث ہر سال پیدا ہونے والی دالوں، سبزیوں اور پھلوں کا ایک بڑا حصہ منڈی پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس ریاں کا نقصان کسان کو کم قیمت ملنے اور صارف کو انتہائی گرانی کی صُورت بھگتنا پڑتا ہے۔ اس غذائی بحران کی ایک اور اہم وجہ پانی کی عدم دست یابی اور موسمیاتی تبدیلی بھی ہے۔ واضح رہے، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

زیرِ زمین پانی کی سطح کا تیزی سے گرنا، آب پاشی کے نہری نظام کا پرانا اور بوسیدہ ہونا، بے وقت کی شدید بارشیں، تباہ کن سیلاب اور طویل خشک سالی نے پاکستان کے کسان کو شش و پنج میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حسّاس اضلاع کے تجزیے میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ مون سون سیلاب اور طویل خشک سالی نے دیہی اضلاع میں زراعت تباہ کر کے غذائی عدم تحفّظ کو تیز ترین مہمیز دی، جب موسمیاتی آفتوں سے فصل تباہ ہوتی ہے تو بازار میں خوراک کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، جس کاسب سے زیادہ اثرغریب کے بچّے کے جسم اور صحت پر پڑتا ہے۔اسی طرح زرعی اور تجارتی پالیسیوں میں برآمدات اور مقامی ضروریات کے درمیان توازن کا فقدان بھی مسائل پیدا کرتا ہے۔

اگرچہ زرعی مصنوعات باہر بیچ کر زرِ مبادلہ کمانا معیشت کے لیے ضروری ہے، لیکن اگر مقامی منڈی میں عام آدمی کے لیے دال، چاول یا گندم نایاب اور منہگی ہو جائے تو ایسی برآمدات قومی غذائی تحفّظ کی قیمت پر حاصل کی جاتی ہیں۔ پاکستان کو ایک ایسی مدبرانہ تجارتی پالیسی کی ضرورت ہے جو کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ دے، برآمدات سے زرِ مبادلہ بھی کمائے، مگر ساتھ ہی ملک کے کم آمدنی والے طبقے کو بھوک اور غذائی قلت کے جہنم میں دھکیلنے سے بھی روکے۔

آئندہ کی حکمتِ عملی اور جامع پالیسی سفارشات

پاکستان کو اس دلدل سے نکلنے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر ایک جامع اور ملٹی سیکٹرل قومی غذائی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔ زراعت، صحت، پانی، تعلیم، سماجی تحفّظ، تجارت اور موسمیاتی تبدیلی کے اداروں کو ایک پیج پر آ کر کام کرنا ہوگا، کیوں کہ یہ بحران کسی ایک وزارت کے بس کی بات نہیں۔ ’’عالمی یوم ِخوراک‘‘ ہمیں ہر سال یہی یاد دلاتا ہے کہ خوراک صرف پیٹ بھرنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

پاکستان کے لیے اصل اور حقیقی سوال گندم کی بوریوں کی تعداد کا نہیں بلکہ اس روٹی کے ساتھ انسان کو ملنے والی صحت مند زندگی کا ہے۔ ایک سوکھی روٹی پیٹ کی آگ کچھ دیر کے لیے بجھا تو سکتی ہے، لیکن وہ ایک بچّے کو معذوری، پست قداور دائمی بیماریوں سے نہیں بچا سکتی۔

اگر ہمارے بچّے کے سامنے صرف خالی نشاستہ ہے، پروٹین، وٹامنز اور معدنیات نہیں ، تو ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ ہمارے ملک سے بھوک ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے اپنا چہرہ بدل کر خاموش اور مہلک صورت اختیار کر لی ہے۔پاکستان کی حقیقی معاشی ترقی اور خوش حالی کا اندازہ اس کے بلند و بالا عمارات، موٹرویز یا اناج سے بھرے گوداموں سے نہیں، تھر، بلوچستان، خیبر پختون خوا اور دیہی سندھ میں رہنے والے ایک عام بچّے کے صحت مند جسم، مضبوط قد اور روشن دماغ سے لگایا جائے گا۔

اگر آج ہم نے غذائی عدم تحفّظ کو محض منہگائی کا عارضی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا تو مستقبل میں پاکستان کو اس کی قیمت ایک ناکارہ، امراض میں مبتلا اور غیر فعال انسانی سرمائے کی صُورت ادا کرنی پڑے گی، لیکن اگر آج ہم نے غذائیت اور خوراک کو اپنی تمام قومی اور معاشی پالیسیوں کے مرکز میں رکھ دیا، تو عالمی یومِ خوراک محض کیلنڈر کی ایک روایتی تاریخ نہیں رہے گا،ایک ایسے روشن،مضبوط اور توانا پاکستان کی بنیاد بنے گا ،جہاں کوئی ماں یا باپ اپنے بچّے کے حصّے کی روٹی دیکھ کر خاموشی سے آنسو نہیں بہائے گا۔

(مضمون نگار ،پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید