فائزہ حمزہ، نارتھ کراچی، کراچی
’’ہم تو کسی کا ادھار نہیں رکھتے‘‘،’’جھوٹے کو گھر تک پہنچا تی ہوں‘‘،’’ کوئی مجھے ایک بات کہے، میں دس کھری کھری سنا کر طبیعت صاف کردیتا ہوں‘‘، ’’بھئی، ہم سے منافقت نہیں ہوتی، جو دل میں ہوتا ہے، وہی منہ پر ‘‘۔ اس طرح کے جملے آپ نے اپنے اردگرد کئی خواتین وحضرات سے سُنے ہوں گے ، جن کی زبان بظاہر کسی تیز دھار آلے سے کم نہیں ہوتی۔ کہنے کو اپنے طور پر وہ دل کے بہت صاف ہوتے ہیں، کسی کے لیے کوئی میل نہیں رکھتے، لیکن کوئی ایک بات کہہ دے، جوابی حملہ پہلے سے تیار ہوتا ہے۔
یہ محافل میں دوسروں کے عیوب کا تذکرہ کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے، یہاں تک کہ نہ کسی کا بھرم توڑنے میں ایک لمحہ لگاتے۔ لیکن، ذرا سوچیے، کیا ایسے رویّے معاشرے میں پسندیدہ تصّور کیے جاتے ہیں؟ کیا اس طرح دل کا صاف اور زبان کا خراب ہونا اللہ اور اس کے رسولﷺ کو پسند ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:۔ ’’کامل مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ (صحیح بخاری) اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تو اپنی زبان سے دوسرے کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، کیوں کہ جو شخص اپنے بھائی کے عیب کے پیچھے پڑتا ہے، اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑ جاتا ہے اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑ جائے، اسے اس کے گھر کے اندر بھی رسوا کر دیتا ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد)
ہمارے معاشرے میں کئی خواتین و حضرات ایسے ہیں، جو دوسروں کے عیبوں کے گویا پیچھے پڑ جاتے ہیں، جب تک طعن و تشنیع کے تیر نہ برسا لیں، چین سے نہیں بیٹھتے، جب تک محفل میں کسی کا مذاق نہ اُڑا ئیں، اُنہیں سکُون نہیں ملتا اور اس بات کی بالکل بھی فکر نہیں ہوتی کہ، اگر آج آپ کسی کی خامیوں سے متعلق چار لوگوں کے بیچ باتیں بنارہے ہیں، تو اللہ خود آپ کے عیوب بھی اسی طرح سامنے لاسکتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا ۔’’مومن نہ تو طعنہ دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش گو ہوتا ہے اور نہ ہی بدزبان۔‘‘ (جامع ترمذی) ہم سب کو اپنے اپنے طرز ِعمل کی اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ، کیا ہم اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ ہماری اصلاح ناممکن ہے؟ صدق دل سے اپنے اعمال سے متعلق سوچیں اور اپنی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کریں کہ توبہ کا در ہماری آخری سانس تک کُھلا ہے۔
اللہ رب العزت تو ہر آن ہمارے پلٹ آنے کا انتظار کرتا ہے۔ کیا ہم خود پر جبر کر کے لوگوں کو معاف نہیں کرسکتے؟ کیا ہم نفس کے بہکاوے میں آنے کے بجائے سامنے والے کا پردہ نہیں رکھ سکتے؟ کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کی خامیوں پر نہیں، خوبیوں پر نظر ڈالیں۔ اس ضمن میں تبدیلی کا آغاز اپنے اردگرد کے افراد سے کریں، سب سے پہلے تو اپنے رویّے کی تلافی کے لیے دل میں گنجائش پیدا کریں ۔ آپ بھی یقیناً اسی معاشرے کے فرد ہیں۔ کچھ تلخیاں آپ نے بھی سہی ہوں گی، لیکن کسی اچھے کام میں پہل کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔’’تعلق توڑنے والا (رشتہ داروں سے) جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ (صحیح بخاری) آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ۔’’کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے، جب وہ دونوں ملیں تو یہ ادھر منہ پھیر لے اور وہ ادھر منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرے۔‘‘ (صحیح بخاری)۔
تو آج ہی خود سے عہد کریں۔ اپنے آپ کو بدل کر رب کو راضی کریں، اپنی آخرت سنواریں اور دوسروں کے لیے جس قدر بے ضرر، موجب ِفوائد ثابت ہوسکتے ہیں، ضرور ہوں، لیکن اگر کسی کے کام نہیں آسکتے، تو کم ازکم عیب جوئی سے تو ضرور گریز کریں۔