• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشرتی تعمیر و اصلاح کیلئے زوال پذیر اقدار و روایات کا احیاء ناگزیر

موجودہ دَور کا انسان بظاہر تاریخ کے سب سے ترقی یافتہ اور باخبر عہد میں سانس لے رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جغرافیائی حدود مٹا کر دنیا کو ایک 'عالمی گاؤں (گلوبل ویلیج) میں تبدیل کر دیا ہے۔ موبائل فونز نے فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے، جب کہ سوشل میڈیا نے رابطوں کا ایک ایسا وسیع نیٹ ورک قائم کر دیا ہے، جس کے باعث دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے شخص سے چند سیکنڈز میں رابطہ ممکن ہو چکا ہے۔

مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ترین مواصلاتی ذرائع کی بدولت آج کے انسان کو وہ سہولتیں میسّر ہیں، چند دہائی قبل تک جن کا تصوّر بھی محال تھا۔ تاہم، اس بے مثال مادّی اور تیکنیکی ترقی کے پردے میں ایک تشویش ناک تضاد بھی تیزی سے ابھر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف ڈیجیٹل رابطوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، وہیں دوسری طرف حقیقی انسانی تعلقات کم زور تر ہوتے جا رہے ہیں۔

فاصلے تو سمٹ گئے، لیکن دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ گفتگو کا دورانیہ تو طویل ہو گیا ہے، مگر باہمی احساس اور ہم دردی کا گراف مسلسل گر رہا ہے۔ماہرینِ سماجیات کے مطابق، روابط کی اس کثرت کے باوجود پیدا ہونے والا یہ خلا دراصل اس گہری معاشرتی بے گانگی، بے حسی اور لاتعلقی کا عکّاس ہے، جو جدید سائنسی دور میں انسانی معاشرے کو اپنے حصار میں لے چکی ہے۔

ایک ہی چھت تلے رہنے والے افراد کے درمیان باہمی گفتگو کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، لوگ اپنوں سے بات کرنے کے بجائے موبائل اسکرینز تک محدود ہو گئے ہیں اور یہ صورت ِحال صرف گھروں تک محدود نہیں، محلوں کی سطح پر بھی برسوں سے ساتھ رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے دکھ، بیماری اور دیگر مشکلات سے مکمل طور پر بے خبر نظر آتے ہیں۔ رشتے داروں کے درمیان ذاتی سطح پر ملنے جلنے کا رواج دم توڑ رہا ہے اور اب باہمی تعلقات محض سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی زندگیاں دیکھنے ہی تک محدود رہ گئے ہیں۔

اس دوری کا سب سے بڑا خمیازہ گھر کے بزرگوں اور بچّوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔عموماً بزرگ گھروں میں اپنوں کی موجودگی کے باوجود شدید تنہائی کا شکار ہیں، جب کہ بچے والدین کی توجّہ اور تربیت سے محروم ہو رہے ہیں۔ پڑوسی کا دکھ اب محض اس کا ذاتی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال صرف ایک عام سماجی تبدیلی نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی معاشرتی و اخلاقی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

دینِ اسلام اور معاشرتی ذمّے داری: دینِ سلام محض انفرادی عبادات کا مجموعہ نہیں، ایک ذمّے دار اور فعال معاشرے کی تشکیل کا علَم بردار ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رُو سے ایک مثالی مسلمان صرف مسجد کی حد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ حقوق العباد کی پاس داری کرتے ہوئے اپنے گِردونواح کے لیے بھی مشعلِ راہ بنتا ہے۔ اسلام میں حُسنِ سلوک، والدین کی خدمت، صلۂ رحمی اور پڑوسیوں کے حقوق کی ادائی کو ایمان کا لازمی حصّہ قرار دیا گیا ہے۔

معاشرتی ذمّے داریوں کی اسی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے قرآنِ مجید کی سورۃ النساء کی آیت نمبر 36میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے۔’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، قرابت والے پڑوسی اور اجنبی پڑوسی، اور پہلو کے ساتھی اور مسافر کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو۔‘‘یہ قرآنی احکامات اسلامی معاشرت کا ایک جامع خاکہ پیش کرتے ہیں۔

توحید اور عبادتِ الٰہی کے فوراً بعد انسانی حقوق کا تذکرہ اس امَر کی غمازی کرتا ہے کہ اسلام میں سماجی تعلقات اور انسانی ہم دردی کو غیر معمولی اور کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ چناں چہ، اگر کوئی شخص ذاتی عبادات میں توپیش پیش ہو، لیکن اُس کے والدین اس سے ناخوش، پڑوسی اُس کی اذیّت کا شکار اور ضرورت مند اس کے رویّے سے مایوس ہو ں، تو ایسے شخص کو اپنے دینی و اخلاقی کردار پر نظرِ ثانی کی ازحد ضرورت ہے۔

والدین، اولاد، اقرباء کے حقوق: معاشرتی بے گانگی کے بڑھتے رجحانات نے ہمارے خاندانی نظام کو شدید متاثر کیا ہے اور اس کے سب سے زیادہ شکار عمر رسیدہ والدین ہیں۔ اولاد کے مستقبل پر اپنی جوانی اور خواہشات قربان کرنے والے والدین بڑھاپے میں اپنوں ہی کے حُسنِ سلوک سے محروم ہو کر تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں، جو ایک سنگین خاندانی اور سماجی المیے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، اسلامی تعلیمات میں والدین کے حقوق کی ادائی کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔’’اور تمہارے ربّ نے حکم دیا ہے کہ اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو، بلکہ اُن سے عزت کے ساتھ بات کرو۔‘‘( سورئہ بنی اسرائیل، آیت23)۔ 

قرآن ہمیں والدین کے لیے یہ دُعا بھی سِکھاتا ہے۔’’اے میرے ربّ! ان دونوں پر رحم فرما، جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔‘‘(سورئہ بنی اسرائیل، آیت 24)۔اوریہ صرف ایک دُعا نہیں، پورا اخلاقی فلسفہ ہے۔ جب والدین ہماری بے بسی کے زمانے میں ہمارے محافظ تھے، تو اب اُن کے کم زور ہونے کے وقت اُن کا سہارا بننا ہماری اخلاقی اور دینی ذمّے داری ہے۔آج ضرورت اس امَر کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں موجود بزرگوں کو صرف اخراجات اٹھانے کو ذمّے داری نہ سمجھیں، انہیں محبّت، عزّت، وقت اور توجّہ بھی دیں۔

بعض اوقات ایک بزرگ کو منہگی دوا سے زیادہ اپنے بچّے کی چند لمحوں کی توجّہ درکار ہوتی ہے۔ معاشرتی بے گانگی کا دوسرا اہم پہلو نئی نسل کی تربیت ہے۔والدین کی ذمّے داری صرف بچّوں کو کھانا، لباس، تعلیم اور دیگر سہولتیں فراہم کرنا نہیں، انہیں اخلاق، محبّت، برداشت، سچّائی، دیانت اور انسان دوستی سِکھانا بھی ازحد ضروری ہے۔

آج بہت سے والدین بچّوں کی مادّی ضروریات پوری کرنے میں اس قدر مصروف ہیں کہ اُن کے ساتھ بیٹھنے، اُن کی بات سننے اور اُن کے مسائل سمجھنے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ بچّے نصیحت سے زیادہ والدین کے عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں احترام، سچائی، برداشت اور محبّت کا ماحول ہوگا، تو یہی اقدار نئی نسل کی شخصیات کا حصّہ بنیں گی۔

اسلامی تعلیمات میں صلۂ رحمی اور قریبی رشتوں کو جوڑنے پر بے حد زور دیا گیا ہے۔ تاہم، دورِ حاضر کا مادی معاشرہ اس سنہری اصول سے تیزی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں، جہاں خاندان کا ہر فرد ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں پیش پیش ہوتا تھا، وہ مخلصانہ وابستگی اب ناپید ہے۔

بڑھتی ہوئی معاشی مصروفیات، مالی مفادات اور ذاتی اَنا نے خاندانی نظام کی جِڑوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔ افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ معمولی تنازعات اور چھوٹی چھوٹی باتیں اب برسوں کی طویل ناراضی اور خلیج میں بدل جاتی ہیں۔

اَنا پرستی اس حد تک جڑ پکڑ چکی ہے کہ درگزر اور معافی مانگنے کو اخلاقی برتری کے بجائے کم زوری کی علامت سمجھا جانے لگا ہے، رشتوں کی پاس داری کے مقابلے میں ذاتی ضد اور انا کو ترجیح دی جا رہی ہے، حالاں کہ مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے، جہاں اختلاف کے باوجود تعلق قائم ر ہے۔ صلۂ رحمی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر رشتے دار سے ہر معاملے میں اتفاق کیا جائے۔ اس کا تقاضایہ ہے کہ اختلاف کے باوجود انسانیت، احترام اور تعلق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔

پڑوسی، سب سے قریب، مگر اجنبی: اسلامی معاشرت میں پڑوسی کا مقام کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ ِگرامی ہے۔’’جبرائیلؑ مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔

یہ حدیث پڑوسیوں کے حقوق کی اُس غیر معمولی اہمیت کو اُجاگر کرتی ہے، جو شریعت نے متعین کی ہے، جب کہ آج کا معاشرتی منظرنامہ اس سے یک سر مختلف نظر آتا ہے۔ ایک ہی گلی، محلّے میں زندگی بسر کرنے والے افراد ایک دوسرے کےحالات، دُکھ سُکھ سے غافل ہی دیکھے جارہے ہیں۔

ہم سایوں کو محض ذاتی مفاد یا کسی فوری کام کی حد تک یاد رکھنے کا رجحان عام ہو گیا ہے حالاں کہ ہمارا اسلامی و اخلاقی ڈھانچا اس بے حسی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ تقاضا یہ ہے کہ بیمار کی مزاج پُرسی کی جائے، معاشی تنگی کے شکار خان دانوں کی استطاعت کے مطابق دست گیری اور غم کے لمحات میں ڈھارس بندھائی جائے۔

ورچوئل تعلقات کا فروغ، رشتوں سے فرار: ڈیجیٹل دَور کا ایک بڑا المیہ یہ سامنے آیا ہے کہ دورِ حاضر میں انسانی تعلقات بھی ’’آن لائن‘‘ ہوکر رہ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے سیکڑوں اجنبیوں سے رابطے میں رہنے والا انسان آج اپنے ہی گھر میں تنہائی کا شکار ہے۔ ورچوئل دنیا کی چکا چوند میں ہم دُور بیٹھے لوگوں کی تصاویر کو تو پسند کر رہے ہیں، لیکن پاس بیٹھے والدین کے چہروں پر لکھی پریشانی اور اپنوں کی خاموش پُکار سُننے سے قاصر ہیں۔

اس حوالے سے دیکھا جائے تو اصل مسئلہ جدید ٹیکنالوجی کا نہیں، انسانی ترجیحات میں آنے والی خطرناک تبدیلی کاہے۔ ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا تھا،لیکن اگر اس کے بے جا استعمال سے حقیقی، خونی رشتے کم زور ہو رہے ہیں، تو یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ معاشرہ ڈیجیٹل دنیا سے باہر نکل کر اپنی حقیقی ترجیحات پر نظرثانی کرے۔

اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے انفرادی سطح پر عملی اقدامات ناگزیر ہیں کہ معاشرے کی حقیقی تعمیرِنو کا آغاز گھر کی دہلیز ہی سے ہوگا۔ خاندانی اور سماجی روابط مضبوط بنا کر ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ والدین کے ساتھ وقت گزارنا، رشتے داروں سے رابطے بحال رکھنا، پڑوسیوں کی خبر گیری اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا بظاہر چھوٹے اقدامات نظر آتے ہیں، لیکن یہی اعمال اجتماعی سطح پر بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔

واضح رہے، اسلام صرف حقوق اللہ ہی نہیں، حقوق العباد اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حُسنِ سلوک پر بھی یک ساں زور دیتا ہے اور اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیثِ مبارکہ ایک جامع ضابطۂ اخلاق فراہم کرتی ہے۔ ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا، جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری ،حدیث نمبر13)اگر اس ارشادِ نبوی ؐ کو قومی واجتماعی زندگی کا حصّہ بنا لیا جائے، تو معاشرے سے خود غرضی، نفرت، حسد اور بے حسی جیسے منفی رجحانات کا مستقل خاتمہ ممکن ہے۔

کردار ہی معاشرے کی اصل طاقت: آج کے اس پُرآشوب دَور میں، جہاں ہر شخص معاشرے کی خرابیوں، دوسروں کے رویّوں سےنالاں ہے، وہیں بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنی ذات کا محاسبہ کیا ہے؟ معاشرے میں حقیقی، مثبت تبدیلی کے لیے دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے اپنی ذات سے آغاز کا فیصلہ کرنا ہوگا اور اصلاحِ احوال کا یہ سفر کسی طویل، یا کٹھن مرحلے کا محتاج نہیں۔

والدین سے والہانہ محبّت، اولاد کے لیے وقت نکالنا، بہن بھائیوں کا باہمی رشتہ استواررکھنا، قریبی رشتے داروں سے مسلسل رابطہ، پڑوسیوں کے شرعی و اخلاقی حقوق کی پاس داری اور اپنے اِردگرد بسنے والے حاجت مندوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہی اس سفر کی مسافتیں ہیں۔ اخلاقیات کو محض خطابت، دعووں یا تقریروں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ عملی طور پر روزمرّہ زندگی کا حصّہ بنایا جائے۔

کسی رنجیدہ شخص کی دل جوئی، کسی ناراض عزیز کی خبر گیری کے لیے محض ایک فون کال ، بیمار ہم سائے کی عیادت، والدین کےساتھ نرمی و الفت، بچّوں کی تعلیم و تربیت پر توجّہ اور کسی سفید پوش ضرورت مند کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچائے بغیر اس کی مدد۔ یہی وہ بنیادی اینٹیں ہیں، جن پر محبّت، رواداری اور باہمی اعتماد کے مضبوط معاشرے کی عمارت تعمیر ہوسکتی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید