لاہور صرف ایک شہر نہیں بلکہ یہ برِعظیم کی تہذیبی، علمی، ادبی اور سیاسی تاریخ کا گہوارہ ہے۔ اس شہر کی فصیل کے اندر مُغلوں، سِکھوں اور اس سے پہلے کی کئی تہذیبوں کےآثار موجود ہیں، تو فصیل کے باہر پھیلا جدید لاہور برطانوی عہد کی شہری منصوبہ بندی اور نو آبادیاتی طرزِ تعمیر کی داستان سُناتا ہے۔
مال روڈ، میکلوڈ روڈ، نکلسن روڈ، ہال روڈ، بیڈن روڈ، ایمپریس روڈ، ڈیوس روڈ، ایجرٹن روڈ، منٹگمری روڈ، برانڈرَتھ روڈ، کوپر روڈ اور لارنس روڈ محض شاہ راہوں کے نام نہیں بلکہ ان کے پس منظرمیں دو سو سال سے زائد عرصے پر مشتمل ایک پورا سیاسی و انتظامی عہد موجود ہے۔
’’تختِ لاہور‘‘ سے ’’نئے لاہور‘‘ تک
1849ء میں دوسری اینگلو، سِکھ جنگ کے بعد پنجاب برطانوی سلطنت میں شامل ہوا اور اس مرحلے پر لاہور کی شہری ساخت میں ایک بنیادی تبدیلی واقع ہوئی۔ اُس زمانے میں قدیم لاہور اپنی فصیل، دروازوں، تنگ وتاریک گلیوں، بازاروں، حویلیوں، مساجد اور تاریخی عمارتوں کے ساتھ اپنی جگہ موجود تھا مگر برطانوی حُکم رانوں کو ایک ایسا شہر درکار تھا کہ جو ان کی فوجی، سرکاری اور شہری ضروریات پوری کر سکے۔
چناں چہ فصیل کے باہر ایک نیا شہر تعمیر کیا گیا۔ نیا لاہور، پُرانے لاہور سے یک سَر مختلف تھا۔ وسیع سڑکیں، کُھلے میدان، سرکاری دفاتر، بنگلے، باغات، تعلیمی ادارے، عدالتیں، ریلویز، فوجی تنصیبات اور سب سے بڑھ کر مال روڈ اس کی شناخت تھی۔
مال روڈ
مال روڈ کا تصوّر 1851ء میں سامنے آیا۔ تب سِول انجینئر، لیفٹیننٹ کرنل نیپیئر کو انارکلی اور میاں میر چھاؤنی کو براہِ راست ملانےکے لیے ایک سڑک تعمیر کرنے کی ذمّے داری سونپی گئی، جسے ’’ ڈائریکٹ روڈ‘‘ کا نام دیا گیا۔ برطانوی دَور میں مال روڈ کو اس انداز سے ترقّی دی گئی کہ اس سے نکلنے والی متعدد سڑکیں لاہور کے مختلف علاقوں کو آپس میں ملانے لگیں۔ 1867ء کے نقشے میں بھی مال روڈ اور اس سے منسلک متعدد سڑکوں کا ایک جال دکھائی دیتا ہے۔ بعد ازاں، مال روڈ کے اطراف سرکاری رہائش گاہیں، عدالتیں، تعلیمی ادارے، کُتب خانے، ہوٹلز، باغات اور تجارتی مراکز بنتے چلے گئے اور برطانوی دَور کی یہ سڑک آج بھی لاہور کی اہم ترین شاہ راہوں میں شمار ہوتی ہے۔
لاہور ریلوے اسٹیشن
یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ اگر مال روڈ نے لاہور میں شہری منصوبہ بندی کو جنم دیا، تو لاہور ریلوے اسٹیشن نے اس شہر کو پورے برِعظیم سے ملادیا۔ لاہور ریلوے اسٹیشن کی تعمیر 1859ء سے 1860ء کے درمیان ہوئی۔ اس عمارت کی موٹی دیواریں، بُرج نما ساخت اور دفاعی خصوصیات اُس خدشے کو ظاہر کرتی تھیں کہ جو 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی حُکم رانوں کے دِل و دماغ میں موجود تھا۔
یہ ریلوے اسٹیشن پنجاب ریلوے کا اہم مرکز بنا اور نتیجتاً لاہور کی معاشی و تجارتی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ بعد ازاں، لاہور ریلوے اسٹیشن کو شہر کی دوسری اہم شاہ راہوں سے ملایا گیا اور یوں نئے لاہور کا شہری ڈھانچا مزید مضبوط ہوگیا۔
چیف کورٹ آف پنجاب
مال روڈ کے قریب واقع چیف کورٹ آف پنجاب بھی، جو بعد میں لاہور ہائی کورٹ کےنام سےمشہور ہوئی، اسی نوآبادیاتی انتظامی نظام کا ایک اہم ستون تھی۔ لاہور ہائی کورٹ کی تاریخی دستاویز کے مطابق پنجاب میں باقاعدہ چیف کورٹ کے قیام کی ضرورت 1860ء کی دہائی میں شدّت سے محسوس کی گئی۔ بعد ازاں، 1866ء میں چیف کورٹ ایکٹ منظور ہوا اور اسی سال پنجاب کی چیف کورٹ کا قیام عمل میں آیا۔
فین روڈ
چیف کورٹ کے قریب واقع ’’فین روڈ‘‘ برطانوی فوجی شخصیت، سر ہنری فین سے منسوب ہے۔ چُوں کہ اُس زمانے میں لاہور کی سڑکوں کے نام سرکاری، فوجی اور انتظامی شخصیات کے نام پر رکھنے کا رجحان عام تھا، اس لیے ایک ہی علاقے میں عدالت، سرکاری دفاتر اور انتظامی عمارتیں ایک دوسرے سے جُڑی نظر آتی ہیں۔
ٹرنر روڈ
فین روڈ کے قریب واقع ’’ٹرنر روڈ‘‘ بھی نو آبادیاتی دَور کی یادگار ہے۔ یہ قدیم شاہ راہ اس دَور کی عدلیہ اور وکالت کی بھی یاد دلاتی ہے۔
ہال روڈ
مال روڈ سے نکلنے والا ’’ہال روڈ‘‘ آج پاکستان بَھر میں الیکٹرانکس کی بڑی مارکیٹ کے طور پر معروف ہے۔ مختلف تاریخی حوالہ جات سے پتا چلتا ہے کہ نوآبادیاتی دَور میں یہاں مختلف ہالز موجود تھے، جہاں نمائشیں، اجتماعات اور دیگر سرگرمیاں منعقد ہوتی تھیں۔ گرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ان ہالز کی جگہ تجارتی عمارات نے لے لی، مگر نام باقی رہ گیا۔
بیڈن روڈ
ہال روڈ سے منسلک ’’بیڈن روڈ‘‘ مال روڈ کو میکلوڈ روڈ سے ملاتا ہے۔ مذکورہ سڑک سر سیسل بیڈن کے نام سے منسوب ہے۔ یاد رہے، برطانوی عہد میں اعلیٰ انتظامی عُہدوں پر فائز شخصیات کے ناموں سے شاہ راہوں کو موسوم کرنا دراصل نوآبادیاتی دَور کی یاد زندہ رکھنے کا ایک طریقہ بھی تھا، تب ہی لاہور کی بیش تر سڑکیں اُن شخصیات سے منسوب ہیں کہ جنہوں نے برطانوی دَورِ حکومت کے فوجی یا انتظامی ڈھانچے میں خدمات انجام دیں۔
چیئرنگ کراس
مال روڈ کا سب سے اہم مقام ’’چیئرنگ کراس‘‘ تھا، جسے آج ’’فیصل چوک‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی نام کا ایک مقام لندن میں بھی موجود ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی حُکم رانوں نے لاہور میں اپنی سلطنت کے دارالحکومت کی علامات تک منتقل کرنےکی کوشش کی۔ کسی دَور میں یہاں ملکہ وکٹوریا کا مجسمہ بھی نصب تھا، مگر پھر یہ مقام بتدریج سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔
کوئنز روڈ
چیئرنگ کراس کے سامنے سے قرطبہ چوک کی طرف جانے والی سڑک ’’کوئنز روڈ‘‘ کہلاتی تھی۔ اس کے اطراف برطانوی افسران اور اعلیٰ طبقے کی رہائش گاہیں قائم تھیں اور یہاں آج بھی ہمیں نوآبادیاتی دَور کا طبقاتی تصوّر ملتا ہے۔
میکلوڈ روڈ
لاہور ہائی کورٹ کے مقابل مال روڈ سے نکلنے والا ’’میکلوڈ روڈ‘‘ بھی لاہور کی اہم تاریخی سڑکوں میں شامل ہے۔ یہ سڑک سر ڈونلڈ فریل میکلوڈ سے منسوب ہے، جو پنجاب کی انتظامی تاریخ کی نمایاں شخصیت تھے اور ان کی تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں کا ذکر لاہور کی تاریخ میں ملتا ہے۔ یوں میکلوڈ روڈ صرف ایک تجارتی شاہ راہ نہیں بلکہ لاہور کے علمی و انتظامی ماضی کا ایک مستند حوالہ بھی ہے۔
نکلسن روڈ
میکلوڈ روڈ سے نکلنے والا ’’نکلسن روڈ‘‘ جان نکلسن سے منسوب ہے، جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا فوجی افسر تھا اور 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران دہلی کے محاذ پر مارا گیا۔ یہاں لاہور کی سڑکوں کے ناموں کا یہ اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ بہت سے نام ایسے برطانوی فوجی افسران کی یاد میں رکھے گئے کہ جنہوں نے ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے قیام یا دفاع میں کردار ادا کیا تھا۔ آج نکلسن روڈ پر سفر کرنے والا شخص شاید اس کی وجۂ تسمیہ اور خُوں ریز تاریخ سے واقف نہ ہو، مگر یہ نام ہمیں 1857ء کے ہنگامہ خیز دَور تک لے جاتا ہے۔
ایمپریس روڈ
’’ایمپریس روڈ‘‘ کا نام ملکہ وکٹوریہ کے ’’Empress of India‘‘ (ہندوستان کی خاتون حُکم راں) بننے کے بعد کے دَور کی یاد دلاتا ہے۔ یہ سڑک شملہ پہاڑی کے علاقے کو ریلوے اسٹیشن سے ملانے والے اہم راستوں میں شامل رہی اور ریلوے ہیڈ کوارٹرز کا قیام بھی اسی وسیع انتظامی اور مواصلاتی نظام کا حصّہ تھا۔ اُس دَور میں لاہور صرف پنجاب کا انتظامی مرکز نہیں رہا تھا بلکہ ریلوے کے ذریعے برِعظیم کے بڑے شہروں سے منسلک اور ایک نئے معاشی نظام میں داخل ہو رہا تھا۔
ایجرٹن روڈ اور فلیٹیز ہوٹل
یہ سڑک برطانوی گورنر، سر رابرٹ ایجرٹن کے نام سے منسوب ہے۔ اس شاہ راہ کی خاص بات ’’فَلیٹیز ہوٹل‘‘ ہے اور اس تاریخی ہوٹل کی تاریخ بھی لاہور کے بدلتے ہوئے معاشرے کی عکّاس ہے۔ یاد رہے، برطانوی دَورمیں ایسےہوٹلز یورپی تاجروں اور افسران کے لیے سماجی میل جول، کاروباری ملاقاتوں اور نوآبادیاتی اشرافیہ کی سرگرمیوں کے مراکز بھی تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد فَلیٹیز ہوٹل لاہور کی ثقافتی تاریخ کا حصّہ بن گیا اور یہاں پاکستان کی سیاسی، ادبی اور فنونِ لطیفہ کی دُنیا سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کی آمد و رفت رہی۔
ڈیوس روڈ
’’ڈیوس روڈ‘‘ شملہ پہاڑی کو اپرمال سے ملاتا ہے۔ یہ شاہ راہ گورنر سر رابرٹ ہنری ڈیوس سے منسوب ہے۔
لارنس روڈ اور لارنس گارڈن
لارنس روڈ اور لارنس گارڈن بھی نوآبادتی دَور کی نشانیاں ہیں۔ تاہم، لارنس گارڈن بعدازاں ’’باغِ جناح‘‘ کے نام سے معروف ہوا اور یہ تبدیلی صرف نام کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس امر کی علامت بھی تھی کہ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور نے نوآبادیاتی شناخت سے قومی شناخت کی طرف سفر شروع کیا۔
اسی طرح برانڈرَتھ روڈ، منٹگمری روڈ اور کوپر روڈ بھی مختلف برطانوی فوجی و سول حُکّام سے منسوب ہیں، جب کہ لاہور کا مشہور میو اسپتال لارڈ میو سے موسوم ہے۔ لارڈ میو 1869ء سے 1872ء تک ہندوستان کا وائسرائے رہا۔ اُس کا اصل نام رچرڈ سائوتھ ویل بورک تھا اور 1872ء میں انڈیمان کے دورے کے دوران اُسے ایک افغان قیدی نے قتل کردیا تھا۔ اس واقعے نے برطانوی ہندوستان کی تاریخ میں ایک غیرمعمولی باب رقم کیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخرانگریز حُکم رانوں نے اتنی بڑی تعدادمیں شاہ راہوں اور دیگر مقامات کو برطانوی فوجی و انتظامی افسران سے کیوں منسوب کیا؟ اس سوال کا جواب کچھ یوں ہے کہ اس کا مقصد محض برطانوی حکومت کے لیے خدمات انجام دینے والی شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے علاوہ اپنے اقتدار کودوام دینا بھی تھا۔
گرچہ برِعظیم سے مغلوں اور سِکھوں کی مانند انگریزوں کا دَور بھی ختم ہوگیا لیکن اُن کی تعمیر کردہ اور اُن سے منسوب سڑکیں اور عمارات باقی رہ گئیں۔ ہر چند کہ قیامِ پاکستان کے بعد کئی تاریخی مقامات کے نام تبدیل کیے گئے اور برطانوی دَور کی بعض عمارات کو نئے قومی اداروں میں ڈھال دیا گیا لیکن نوآبادیاتی عہد کے پُرانے نام آج بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔
واضح رہے، لاہور کی عظمت صرف مُغلیہ دَور کی بادشاہی مسجد، قلعۂ لاہور، شالامار باغ یا سِکھ دَور کی عمارات تک محدود نہیں بلکہ اس شہر کی اصل شان و شوکت اور شرف و اعزاز اس کے تہہ در تہہ تاریخی وجود میں پوشیدہ ہے۔ اس شہر پر مُغل، سِکھ اور انگریز برسرِ اقتدار رہے اور آزادی کے بعد یہ ’’پاکستان کا دِل‘‘ بن گیا لیکن ان تمام تہذیبوں نے ایک دوسرے کو مٹایا نہیں بلکہ کسی نہ کسی صُورت ایک دوسرے کی ثقافت پر نئی پرت چڑھائی۔
اسی لیے مال روڈ پر سفر کرتے ہوئے ایک طرف لاہور میوزیم، پنجاب یونی ورسٹی، نیشنل کالج آف آرٹس اور ہائی کورٹ جیسے ادارے نظر آتے ہیں، تو دوسری جانب تاریخی دروازے، بازار اور عمارتیں اس شہر کے قدیم وجود کی یاد دلاتی ہیں۔ لاہور کا ریلوے اسٹیشن ہمیں صنعتی انقلاب اور جدید مواصلات کی جانب متوجّہ کرتا ہے، تو فصیل ہمیں صدیوں پُرانی شہری تہذیب کی طرف واپس لے جاتی ہے۔
گرچہ آج لاہور کا شمار پاکستان کے بڑے اور جدید شہروں میں ہوتا ہے۔ اس کے شان دارانفرااسٹرکچر، بلندوبالا عمارات، تجارتی مراکز اور بڑھتی ہوئی آبادی نے اس کی شکل ہی بدل کے رکھ دی ہے لیکن اس شہر کی تاریخی شناخت اب بھی اس کی سب سے بڑی وجۂ شُہرت ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ لاہور کی تاریخی شاہ راہوں اور عمارتوں کومحض ذریعۂ مواصلات اور تجارتی مقامات نہ سمجھا جائے بلکہ ان کی تاریخی اہمیت کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے۔ مثال کے طور پر مال روڈ ایک تاریخی دستاویز ہے۔
فین روڈ کے پس منظر میں برطانیہ کی عسکری تاریخ پنہاں ہے۔ نکلسن روڈ 1857ء کی جنگِ آزادی کی یاد دلاتا ہے۔ ایمپریس روڈ ملکہ وکٹوریا کی یادگارہے۔میکلوڈ روڈ انتظامی و علمی تاریخ کا ایک مستند حوالہ ہے۔ ہال روڈ شہر کے بدلتے ہوئے معاشی مزاج کی کہانی سُناتا ہے۔ ڈیوس روڈ لاہور کے تعلیمی و فنون کا سفر ہے، جب کہ لارنس روڈ اور لارنس گارڈن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔
قصّہ مختصر، لاہور کی شاہ راہیں تاریخ کی کُھلی کتاب کا مانند ہیں۔ لاہور کو سمجھنے کے لیے صرف اس کی تاریخی عمارات کا مطالعہ کافی نہیں بلکہ اس کی گزرگاہوں پر غوروفکر بھی ضروری ہے۔ یہ سڑکیں ہمیں بتاتی ہیں کہ شہر کس طرح پھیلا؟ برطانوی انتظامیہ نے اسے کیسے منظّم کیا؟ فوجی اور سول ادارے کہاں کہاں قائم کیے گئے؟
ریلوے نے شہر کو کیسے بدلا؟ تعلیمی ادارے کس طرح وجود میں آئے اورکس طرح ایک پُرانے مشرقی شہر کے ساتھ ایک نیا نوآبادیاتی شہر تشکیل پایا؟ لاہور نے پچھلے تمام ادوار کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ جن سڑکوں کے نام کبھی برطانوی افسران اور حُکم رانوں سے موسوم تھے، آج اُن راستوں پر پاکستانی شہری چلتے ہیں۔ اُن کے ارد گرد پاکستانی ادارے قائم ہیں۔
ان راہوں پر سیاسی تحاریک جنم لیتی ہیں۔ ادباء اور صحافی اپنے خیالات کا اظہار اور طلبہ احتجاج کرتے ہیں۔ یہی لاہور کا طرّۂ امتیاز ہے کہ یہ فاتحین کا شہر بھی رہا اور مفتوحین کا بھی، بادشاہوں کا بھی اور عوام کا بھی۔ اس کی فصیل کے اندر مُغلیہ دَور کی یادیں اور سِکھ عہد کے آثار ہیں، تو فصیل کے باہر مال روڈ پر برطانوی شہری منصوبہ بندی کی نشانیاں۔ اور انہی راستوں پر آج پاکستان کی نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔
لہٰذا، لاہور کی سڑکوں پر سفر محض ایک سے دوسری جگہ منتقلی کا نام نہیں بلکہ یہ تاریخ کےمختلف ادوار کے درمیان سفر ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لاہور کو صرف دیکھا نہیں جا سکتا، لاہور کو پڑھنا پڑتا ہے۔