• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریما عمران خان

انسان کی اصل آزادی اُس کے ہاتھوں میں نہیں، اُس کے تصور، خیال میں ہوتی ہے۔ جسم کو زنجیروں میں جکڑا جا سکتا ہے، راستوں پر پہرے بٹھائے جا سکتے ہیں، زبان کو خاموش کیا جا سکتا ہے، مگر جب تک انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت محفوظ رکھتا ہے، آزادی کی ایک شمع اُس کے اندر روشن رہتی ہے۔ لیکن اگر خیال ہی قید ہوجائے تو پھر ’’بےداری‘‘ بھی محض ایک لفظ بن کر رہ جاتی ہے۔

یاد رہے، قومیں صرف ہتھیاروں سے غلام نہیں ہوتیں، کبھی اُنہیں خوف و دہشت کے ذریعے خاموش کروایا جاتا ہے، کبھی تعصب کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے اور کبھی ایسےعقائد و نظریات کا اسیر کر دیا جاتا ہے، جن پر سوال اٹھانا جُرم محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور…یہی وہ لمحہ ہوتا ہے، جب غلامی جسم سے نکل کر ذہن میں داخل ہو جاتی ہے۔ ’’تم اتنے خاموش کیوں ہو؟‘‘ ’’کیوں کہ بولنے سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ ’’تو پھر سوچتے کیوں نہیں؟‘‘ ’’سوچنے سے بھی ڈر لگتا ہے۔‘‘ ’’پھر تم آزاد کیسے ہو؟‘‘ وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا۔ ’’شاید میں آزاد نہیں ہوں۔‘‘ یہ مختصر سا مکالمہ، دراصل ہمارے عہد کا ایک بڑا سوال ہے۔

کیا آزادی صرف یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں، اپنی مرضی کے ملبوسات پہن سکتے ہیں، اپنی پسند کی چیزیں خرید سکتے ہیں، اپنی بات کسی حد تک کہہ سکتے ہیں؟ یا آزادی کا اصل مفہوم یہ ہے کہ انسان سوال کرسکے، اختلاف کرسکے، غوروفکر کرے اور اپنی رائے خود تشکیل دے۔ زندہ معاشروں کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں سب لوگ ایک جیسا سوچتے ہیں، بلکہ اصل پہچان یہ ہے کہ وہاں مختلف خیالات کو سننے اور سمجھنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔

اختلاف دشمنی نہیں، اختلاف تو فکر کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔ جس معاشرے میں ہر سوال کو گستاخی، ہر اختلاف کو بغاوت اور ہر تنقید کو دشمنی سمجھ لیا جائے، وہاں خاموشی تو بہت ہوتی ہے، مگر شعور کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اندھی تقلید بے داری نہیں۔ بغیر سوچے سمجھے کسی بات کو مان لینا علم نہیں۔ اور ہر بلند آواز کو سچ سمجھ لینا شعور نہیں۔

بےداری کا مطلب ہے کہ انسان اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کو صرف دیکھے نہیں، اُن کے اسباب بھی تلاش کرے۔ وہ یہ پوچھے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اس کا فائدہ کس کو ہوا؟ نقصان کس کا ہوا؟ اور کیا اس سے بہتر راستہ ممکن تھا؟ آج کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ لوگ کم پڑھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ پڑھ کر بھی سوچنے سے گریز کرتے ہیں۔ معلومات ہمارے پاس پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر معلومات اور شعور ایک چیز نہیں۔

معلومات ہمیں بتاتی ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور شعور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کیوں ہو رہا ہے اور ہمیں کیا سوچنا چاہیے۔ اسی لیے خیال کی آزادی کسی فرد کی ذاتی آسائش نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ جو نوجوان سوال کرنا چھوڑ دے، وہ مستقبل بنانا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ جو قلم صرف تعریف لکھے، وہ معاشرے کا آئینہ نہیں رہتا۔ اور جو معاشرہ اپنے آئینے سے ڈرنے لگے، وہاں چہرے نہیں، حقیقتیں چُھپائی جاتی ہیں۔

ہمیں اپنے بچّوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ صحیح جواب کیا ہے، ہمیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ صحیح سوال کیسے کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ سوال سوچ کو جنم دیتا ہے، سوچ شعور کو، اور شعور آزادی کو۔ لہٰذا اگر ہم واقعی ایک بےدار، مضبوط اور باوقار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے ذہنوں کے دروازے کھولنے ہوں گے۔ ہمیں اختلافِ رائے سے خوف زدہ ہونے کے بجائے دلیل سے جواب دینا ہوگا، سوال سے ناراض ہونے کے بجائے سوال کے پیچھے چُھپی تشنگی کو سمجھنا ہوگا، اور اپنے نوجوانوں کو خاموش پیروکار نہیں بلکہ باشعور انسان بنانا ہوگا۔

یاد رکھیے، جس دن انسان نے سوچنا چھوڑ دیا، اُسی دن اس کی آزادی نے دَم توڑنا شروع کر دیا۔ اور شاید اسی لیے یہ جملہ ہمارے عہد کی سب سے بڑی حقیقت بیان کرتا ہے کہ’’خیال اگر قید ہوجائے تو بےداری بھی غلام ہو جاتی ہے۔‘‘ اس لیے اظہار کرو، بولو، یہ سوچے بغیر کہ کس کو برا لگے گا۔ آزادی کا مطلب محض ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگانا نہیں بلکہ اپنے خیالات کا اظہار بھی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید