• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دِنوں دُنیا کی دو بڑی طاقتوں، امریکا اور چین کے صدور کے مابین ہونے والی ملاقات موجوہ عالمی منظرنامے میں حالات کی سمت کا تعیّن کرنےمیں فیصلہ کُن حیثیت کی حامل ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جِن پِنگ کے مابین یہ گزشتہ تین ماہ کے دوران دوسری ملاقات تھی، جس سے عالمی حالات کی سنگینی اور دُنیا پر تبدیلیوں کے اثرات کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی حالیہ ملاقات میں دُنیا میں جاری جنگوں، تنازعات اور مصنوعی ذہانت کے عالمِ انسانیت پر اثرات زیرِ بحث آئے۔

دُنیا کو درپیش چیلنجز پر دو عالمی رہنماؤں کی بات چیت اس لیے بھی اہم تھی کہ پانچ سال قبل جب دُنیا کو کورونا جیسی وبا کا سامنا تھا، تو اس دوران یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ عالمی بُحران صرف مشترکہ تعاون ہی سے حل ہو سکتے ہیں، جب کہ اس سےبھی زیادہ حوصلہ افزا اَمر یہ ہےکہ اختلافات کے باوجود چین اور امریکا کے لیڈرز کو اس بات کا احساس ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں ان دونوں ممالک ہی نے سب سے اہم کردار ادا کرنا ہے، کیوں کہ رُوس نے یوکرین جنگ کو طول دے کر اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، جو رُوسی صدر، ولادیمیر پیوٹن کے لیے غوروفکرکا مقام ہے۔

واضح رہے،ٹرمپ نے رواں ماہ جی۔20 اجلاس میں انہیں شرکت کی دعوت دی ہے، جب کہ چند سال قبل رُوس کو اس فورم سے نکال دیا گیا تھا۔ امریکی و چینی صدور کی ملاقات میں تین امور پر خاصی توجّہ دی گئی، جن کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا تھا۔

دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کا امکان نہیں، جس کا ماہرین ذکرکررہے تھے۔ ٹرمپ کے دوسرے دَورِ صدارت میں امریکا کی جانب سے لگائے گئے بھاری بھرکم ٹیرفس دونوں ممالک کے تعلقات میں چیلنج بن گئے تھے اور کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ کسی بھی وقت عالمی تجارتی جنگ چِھڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دُنیا کا پورا معاشی نظام ہی تلپٹ ہو جائے گا۔

تاہم، حالیہ ٹرمپ، شی ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ تجارتی معاملات کومعمول کے مطابق چلنے دیا جائے اور یہ بھی طے کیا گیا کہ ٹیرفس کو کم از کم سطح پر ر کھا جائے تاکہ دو طرفہ تجارت میں کوئی رُکاوٹ نہ آئے۔ واضح رہے، تمام تر اختلافات کے باوجود امریکا اور چین کے مابین سالانہ ایک ہزار بلین ڈالرز کی تجارت ہوتی ہے۔

دوسری جانب اس وقت مصنوعی ذہانت دُنیا بَھر کی توجّہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اورعصرِ حاضر کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کسی مرحلے پر اے آئی عالمی نظام، معاشرے اور انسانیت کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران ہائی ٹیک کمپنیز کے مالکان اور ماہرین پر ان اندیشوں کے تدارک کے لیے زور دیا۔ ایران جنگ پر بند کمرے میں مذاکرات ہوئے اور اطلاعات کےمطابق امریکا نے چین سے درخواست کی کہ وہ ایران کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انٹیلی جینس کی فراہمی میں مدد فراہم نہ کرے۔

یاد رہے، چین، ایران کا حلیف ہے اور اس کی تیل کی غیر قانونی فروخت کا سب سے بڑا خریدار بھی۔ دوسری جانب چین نےامریکا پر زور دیا کہ وہ تائیوان کی خُود مختاری کی مخالفت کرے، جب کہ امریکی حُکّام نے تائیوان کو سپورٹ کرنے کی اپنی پالیسی کا اعادہ کیا۔ تاہم، ملاقات کےاختتام پر دونوں رہنماؤں نے آئندہ مختلف فورمز پر وقتاً فوقتاً مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ امریکا اور چین عالمی معاملات میں ایک رہنما کا کردار ادا کرنے پر متفق ہیں۔ گرچہ ایک عام آدمی کے لیے یہ خوش خبری ہے، لیکن اُن تجزیہ نگاروں اور ماہرین کے لیے ایک مایوس کُن خبرہے، جو ہمہ وقت دونوں عالمی طاقتوں کے مابین جنگ اور کشیدگی کی پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں۔

امریکا اور چین دونوں ہی انڈوپیسیفک خطّے میں دل چسپی رکھتے ہیں اور ان دونوں بڑی طاقتوں کی خواہش ہے کہ یہاں طاقت کا توازن قائم ہو۔ امریکا اس خطّے کو ہمیشہ سے اپنا ’’زون آف انفلوئینس‘‘ قرار دیتا آیا ہے لیکن چین کے عالمی طاقت بننے کے بعد صُورتِ حال بدل گئی ہے۔ ماضی میں اس خطّے میں امریکا ایک سُپرپاور کے طور پر خاصا دخیل رہا۔ یہ سلسلہ دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے شہروں، ناگاساکی اور ہیروشیما پرامریکا کی جانب سے ایٹم بم گرائے جانے کے بعد سے شروع ہوا۔

اس الم ناک واقعے کے بعد جاپان کا سُپرپاور کے طور پر کردار ختم ہوگیا اور اس کے زیرِقبضہ علاقے بھی آزاد ہوگئے۔ ان نو آزاد ممالک میں چین بھی شامل تھا۔ بعدازاں، خطّے میں کوریا کی جنگ شروع ہوئی اور اس کےنتیجے میں دو ممالک، جنوبی کوریا اور شمالی کوریا وجود میں آئے۔ شمالی کوریا کمیونسٹ نظام کے زیرِاثر رہا، جب کہ جنوبی کوریا امریکا کا حلیف۔ امریکا اور ویت نام کی جنگ اس خطّے کا طویل ترین تنازع تھا، جس میں گوریلا جنگ کے نتیجے میں امریکا کو پسپا ہونا پڑا۔ چین کی آزادی کی بعد تائیوان کےتنازعے نے سَر اُٹھایا۔

تائیوان، چین کا حصّہ ہے لیکن امریکا اس کی بطور خودمختار ریاست حمایت کرتا ہے۔ اس تنازعے نے اتنی طوالت اختیار کی کہ نومبر 1971ء تک چین کو اقوامِ متّحدہ کی رُکنیت نہ مل سکی۔ بعد ازاں، سابق امریکی صدر، رچرڈ نکسن نے چین کا دورہ کیا، تو دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلی۔ اس دوران پاکستان نےامریکا اورچین کےمابین ثالثی میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، خطّے میں اصل انقلاب اُس وقت آیا، جب چین نے ڈنگ ژیاؤ پنگ کی قیادت میں 1979ء کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ عالمی نظام کا بھرپورحصّہ بنے گا۔

اس موقعے پر چین نے اقتصادی برتری حاصل کرنے کی پالیسی اپنائی اور اپنے معاشی نظام میں لچک پیدا کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ متعدد سمجھوتے کیے۔ یہ وہی زمانہ تھا،جب سوویت یونین شکست وریخت کا شکارتھا۔ گرچہ تب چینی سرحد پر افغان، سوویت جنگ جاری تھی لیکن چینی قیادت نے خود کو اس سےدُوررکھا اوریہ ایک ایسا فیصلہ تھا، جس نے اس کی اقتصادی ترقّی میں اہم کردار ادا کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دُنیا میں سب سے زیادہ مصنوعات تیار کرنے والا مُلک اور ’’فیکٹری آف دی ورلڈ‘‘ بن گیا۔

علاوہ ازیں، چین نے ٹیکنالوجی کے شُعبے میں بھی غیرمعمولی ترقّی کی۔ یہاں ایک سبق آموز اور دِل چسپ اَمر یہ ہے کہ ہر نئی چینی قیادت نے ترقّی کےعمل کو مزید آگے بڑھایا۔ یہ کہنا نہایت آسان ہے لیکن درحقیقت چین نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ یہی وجہ ہے، آج چین عالمی معاملات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چین نے اپنی ثابت قدمی سے ثابت کر دکھایا کہ صرف اپنے شان دار ماضی کے قصّے سُنانے اور خوابوں کی دُنیا میں رہنے کی بجائے اَن تھک محنت اور عرق ریزی ہی سے دُنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

آج چین کی اہمیت کااندازہ اس بات سےلگایا جاسکتا ہےکہ حالیہ ملاقات میں امریکی صدر کو اپنے چینی ہم منصب سے یہ درخواست کرنا پڑی کہ وہ ایران کوایڈوانسڈ انٹیلی جینس فراہم نہ کرے۔ تاہم، اسی ضمن میں یہ بھی طے پایا کہ دونوں ممالک کی افواج عالمی بُحرانوں کے درمیان ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں گی تاکہ انہیں مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور یہ کسی بھی تنازعے یا جنگ کو علاقائی یا عالمی سطح پر پھیلنے سے روکنے کا معقول طریقہ ہے۔ اس ضمن میں چینی قیادت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اُس نے مختلف تنازعات اور کشیدگی میں الجھنے کی بجائے معاشی مضبوطی کو اپنا مطمحِ نظر بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطّے اور دُنیا بَھر میں ان دو بڑی طاقتوں کے درمیان جنگ کا خطرہ دُور دُور تک نظر نہیں آتا۔

قبل ازیں، چینی صدر، شی جِن پِنگ اور اُن کی اہلیہ جب امریکا کے مشہور فوجی ہوائی اڈّے، سینٹ انڈریوز بَیس پراپنے تین روزہ دورے کے آغاز پر اُترے، تو اُن کےاستقبال کے لیے امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ اوراُن کی شریکِ حیات، میلینیا ٹرمپ خُود موجود تھے۔ چینی صدر کے استقبال کا یہ انداز روایتی امریکی پروٹوکول سے مختلف اور جذبۂ خیرسگالی کا منفرد اظہار تھا۔ اسی طرح چینی صدر کو ریڈ کارپٹ ریسیپشن بھی دیا گیا۔

یاد رہے، تین ماہ قبل جب ٹرمپ بیجنگ کے دورے پر گئے تھے، تو اُس وقت شی جِن پِنگ نے بھی اُن کا اسی طرح پُرتپاک استقبال کیا تھا اور استقبال کا یہ انداز اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دونوں بڑی طاقتیں تمام تر اختلافات کے باوجود نہ صرف ایک دوسرے کا احترام کرتی ہیں بلکہ عالمی معاملات سُلجھانے میں دِل چسپی بھی رکھتی ہیں، جب کہ اس کے برعکس چھوٹے ممالک کے لیڈرز محض اپنی انا کی تسکین اور اپنے عوام سے پذیرائی حاصل کرنے کے لیے حریف ممالک کے رہنماؤں سے ہاتھ تک ملانے سے انکار کر دیتے ہیں۔

واضح رہے، اقوام کے درمیان ازلی و ابدی دُشمنی نام کی کوئی شے نہیں ہوتی بلکہ یہ رہنماؤں کی عاقبت نا اندیشی اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے حربے ہیں۔ ڈپلومیسی سے واقفیت رکھنے والے ماہرین اسے بخوبی سمجھتے ہیں، تاہم وہ خود ساختہ ماہرین، تجزیہ کاریا اہلِ دانش، جو حقیقت کی بجائے تعصب کی عینک لگا کر معاملات کا جائزہ لیتے ہیں، انہیں یہ نکتہ بمشکل ہی سمجھ آئے گا، کیوں کہ اگر ان کے تبصروں، تجزیوں پر نظرڈالیں، تو یوں محسوس ہوگا کہ لیڈرز کا کام صرف قوم کی بقا کے آڑ میں جذباتی نعرے بلند کر کے عوام کی حمایت حاصل کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ نِت نئے سازشی نظریات اور جھوٹے تاریخی قصّے کہانیاں گھڑتے رہتے ہیں۔

ان کی خواہش ہے کہ اقوامِ عالم ہمہ وقت ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کل تک افغان طالبان ہمارے ہیرو تھے، اُن کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے قصّے سُنائے جاتے تھے، جب کہ آج وہی افغان ہمارے دُشمن، ہمارے معصوم بچّوں کے قاتل اور دہشت گرد بن چُکے ہیں۔ ہر مُلک کی خواہش ہوگی کہ وہ عالمی طاقت بنے، اُس کے عوام کا معیارِ زندگی بلند ہو، لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ خواہشات محض بیانات، سازشی نظریات اور مَن گھڑت قصّے کہانیوں سے پوری نہیں ہو سکتیں۔ دُنیا ہر روز بدل رہی ہے، تو جو مُلک آئینِ نو پر چلنے کی بجائے طرزِ کُہن پر اڑا رہے گا،صفحۂ ہستی سے مِٹ جائے گا۔

آج کی دُنیا میں ٹیکنالوجی کا بھی اہم کردار ہے اور ان دِنوں مصنوعی ذہانت ہر جگہ ہی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے جہاں مقابلے کی فضا گرماتے ہیں، وہیں ان کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ دُنیا میں امن و استحکام برقرار رکھا جائے۔ ان دِنوں ہمارے مُلک میں نئی صف بندیوں کا ذکر عام ہے۔ ویسے تو ہر کچھ عرصے بعد ماہرین یہ تجزیے پیش کررہے ہوتے ہیں کہ اب نئی صف بندی ہوگئی ہے اوراب ایک فریق دوسرے فریق کو تباہ کردے گا، حالاں کہ یہ ساری باتیں پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے زمانے کی ہیں۔

اب دُنیا ان باتوں سے بہت آگےنکل چُکی ہے۔ اب سرد جنگ کا زمانہ بھی نہیں کہ نظریاتی کشمکش ہر شے پر حاوی ہو۔ آج ہر مُلک ترقّی کی دوڑ میں دوسرے سے آگے نکلنا چاہتا ہے اور اسی لیے نئی نئی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ہم اتنے پیچھے رہ گئے ہیں کہ یہ باتیں ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔ ہم شکست اور فتح کے درمیان ہی اُلجھے رہتے ہیں اور ترقّی کو معیارِ زندگی سے جوڑنے میں ناکام ہیں، جب کہ ملاقاتوں کے دوران ٹرمپ اورشی جن پنگ کی تمام ترتوجّہ اس بات پر مرتکز رہی کہ دُنیا کے نظام میں کوئی خلل نہ آنے پائے۔

تنازعات کو یک دم ختم کرنا ممکن نہیں، لیکن انہیں عالمی نظام میں رہتے ہوئے مسلسل ایک دوسرے سے رابطہ رکھ کر مینیج ضرور کیا جا سکتا ہے۔ ایران کی جنگ ہو یا یوکرین پر رُوسی حملہ یا پاک بھارت جنگ، اگر فریقین میں کسی نہ کسی سطح پر ہم آہنگی نہ ہوتی، تو آج صورت ِحال خاصی مختلف ہوتی۔ اختلافات کے باوجود چین اور امریکا حد پار نہیں کرتے۔

اس بات کو یوں بھی سمجھاجا سکتا ہے کہ دونوں طاقتوں کے دُنیا بَھر میں مفادات ہیں اور دونوں انہیں نقصان پہنچائے بغیر ایک دوسرے سے تعاون کرتی ہیں۔ اس ضمن میں ٹیرفس ہی کے معاملے کو لے لیں، تو فریقین کی طرف سے اس میں 30 بلین ڈالرز کی کمی کی گئی اور یہ طے کیا گیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات کو کم داموں میں عوام تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ انہیں اپنے عوام عزیز ہیں نہ کہ جُھوٹی شان اور انا۔

اسی لیے تو ٹیرفس میں اتنی بڑی کمی کی گئی۔ گرچہ نایاب اور حسّاس معدنیات پر کوئی معاہدہ توسامنے نہیں آیا لیکن اس ضمن میں بھی بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک کسی ایسے فارمولے تک پہنچنے کی کوششیں جاری رکھیں گے کہ جو ان کی ضرویات کے مطابق ہو۔ یاد رہے، نایاب معدنیات ہی پر مستقبل کی تیز رفتار ٹیکنالوجی کا دارومدار ہے۔

اب ہم شنگھائی تعاون تنظیم کی بات کر لیں۔ رواں برس اس تنظیم کی چیئرمین شپ پاکستان کے پاس ہے۔ گزشتہ دِنوں اس تنظیم کےاجلاس میں تمام ترعالمی معاملات زیرِ بحث آئے۔ اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ ایس سی او، نیٹو کا مقابلہ کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے لیکن اگر گزشتہ برسوں میں اس تنظیم کے رکن ممالک کی فوجی مشقوں پر نظر ڈالی جائے، تو ان میں سے تقریباً تمام تر دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق تھیں اور پاکستان اور بھارت دونوں ہی ان مشقوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے چین اور امریکا دونوں ہی سے اچّھے تعلقات ہیں اور پاکستان کے پاس یہ نادر موقع ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفّظ کرے۔ ہمیں اس موقعے کو ہرگز نہیں گنوانا چاہیے۔

سنڈے میگزین سے مزید