• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کانٹوں پر چلنا آتا ہے، نہیں سوچ رہا مستقبل میں کپتانی ملے گی یا نہیں: صاحبزادہ فرحان

فوٹو: اسکرین گریب/پی سی بی
فوٹو: اسکرین گریب/پی سی بی

پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان صاحبزادہ فرحان نے کہا ہے کہ کرکٹ کیریئر کے دوران کانٹوں پر چلنا مجھے آتا ہے۔ نہیں سوچ رہا کہ مجھے مستقبل میں کپتانی ملے گی یا نہیں۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو مثبت پیغام دینے کےلیے کپتان کی انفرادی پرفارمنس ضروری ہے۔ میرے لیے کپتانی زیادہ مسئلہ نہیں کیونکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کپتانی کرچکا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں جونیئرز اور سینئرز کا کمبی نیشن ہے۔ سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی سے مجھے بطور کپتان بھی مدد ملے گی۔

صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ کپتانی کا پریشر ضرور ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں چھوٹی اور بڑی ٹیمیں نہیں ہوتیں۔ چھوٹی ٹیموں کا بھی پریشر ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ آسان نہیں ہوتی۔

قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ون ڈے سیریز کےلیے بھی قومی کھلاڑیوں کی اچھی پریکٹس ہوجائے گی۔ 

صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ خواہش ہے ٹاپ آرڈر ٹی ٹوئنٹی کے مائنڈ سیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے بیٹنگ کرے۔ پاکستان ٹیم کا ٹاپ آرڈر میری طرح جارحانہ انداز میں ہی بیٹنگ کرتا ہے۔ پاکستان کا ٹاپ آرڈر دائیں اور بائیں ہاتھ پر مشتمل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا سیریز کے بعد ٹی ٹوئنٹی میچز کی تعداد کم ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ کپتان ہوں، مجھے زیادہ اسکواڈ کا معلوم نہیں تھا۔ مجھے 15 ممبران کا بہترین اسکواڈ دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بیٹنگ کنڈیشنر ملیں گی، دو اسپنرز تین فاسٹ بولرز کے ساتھ کھیلیں گے۔

صاحبزادہ فرحان نے کراؤڈ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں کراؤڈ ہمیشہ آتا ہے۔ کراؤڈ نہیں آتا تو ہمیں بھی مزہ نہیں آتا۔

 ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ وہ دونوں کبھی بھی ٹی ٹوئنٹی میں آسکتے ہیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید