طبی اور غذائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صحت بخش سمجھی جانے والی خوراک کی بےجا اور حد سے زیادہ مقدار جسمانی نظام کو فائدہ پہنچانے کے بجائے شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
پالک، چقندر اور گری دار میوے جیسے نیوٹریینٹس سے بھرپور کھانے حد سے زیادہ کھانے سے جسم میں 'اگزالیٹ' کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو گردے کی پتھری کا بڑا سبب بنتی ہے۔
کیٹ فش اور ٹُونا جیسی پروٹین سے بھرپور مچھلیوں کا روزانہ اور بے تحاشا استعمال جسم میں 'مرکری' کی سطح بڑھا سکتا ہے، جو اعصابی نظام کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
اسی طرح گاجر، شکرقندی اور کلیجی جیسی اشیاء کا ضرورت سے زیادہ استعمال جسم میں وٹامن A کی زہریلی حد (Toxicity) پیدا کر سکتا ہے، جس سے جگر کو نقصان پہنچتا ہے۔
بادام، اخروٹ اور کاجو صحت مند فیٹس فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کی بڑی مقدار وزن میں غیر متوقع اضافے اور ہاضمے کی خرابی کا باعث بنتی ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، پنی کسی بھی بیماری کی تشخیص کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔