مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
ہمارے والدین نے شاید یہ سوچ کر اپنی بیٹی کا نام ’’امتیاز‘‘ رکھا تھا کہ اس کی شخصیت بھی بہت خاص اور منفرد ہو۔ اور میری بہن نے بھی اُن کی اُمید سے بڑھ کر اپنے نام کی لاج رکھی۔ وہ صرف نام ہی کی امتیاز نہیں تھی، اسے ہم سب بہن، بھائیوں میں واقعتاً امتیازی حیثیت حاصل تھی۔
ہماری مثالی بہن اپنے اعلیٰ اخلاق، کردار کی پختگی اور تعلیمی میدان میں اپنی مثال آپ تھی اور ہر جہت سے ہم سب میں نمایاں اور ممتاز مقام رکھتی تھی۔ والدین کی خدمت میں بھی ہم سب بہن بھائیوں میں اُسے سبقت حاصل تھی۔
والد کی وفات کے بعد والدہ کا سہارا بنی، اس حد تک کہ والدہ اُسے اپنی لاٹھی کہا کرتیں۔ وہ اسی لاٹھی کے سہارے زندہ تھیں۔ لیکن جب میری پیاری بہن امتیاز اچانک داغِ مفارقت دے گئی، تو اس کے سانحۂ ارتحال کے بعد والدہ کے لیے زندگی کی ڈور تھامے رکھنا محال ہو گیا اور ابھی بہن کی وفات کو ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ وہ خود بھی داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئیں۔
میری پیاری بہن، امتیاز ایک بہترین بیٹی، وفا شعار بیوی، فرماں بردار اور با ادب بہو، سب سے بڑھ کر مخلص قابل بھروسا اور رازدار بہن اور سہیلی تھی۔ صبر، برداشت اور ہمّت اس کا طرئہ امتیاز تھے۔ذہانت، معاملہ فہمی کا یہ عالم تھا کہ والدین بھی اس سے مشورہ کرتے تھے۔ سائنس گریجویٹ ہونے کے باوجود ہوم مینجمینٹ میں مہارت رکھتی تھی، گھر کا بجٹ بنانا اور اسی کی حدود میں رہ کرخرچ کرنا، اس کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک انتہائی نمایاں اور روشن وصف اور گھریلو نظم و ضبط کا غماز تھا۔
وہ ہمیشہ سچی اور کھری بات کرنے کی عادی تھی، اختلاف کی صُورت میں بھی اخلاق کا دامن کبھی نہ چھوڑتی اور بحث کے بجائے سمجھوتا کرتی، کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ سچّی محبّت بحث سے نہیں، سمجھوتے سے پنپتی ہے۔ بہترین سامع ہونے کی وجہ سے وہ دوسروں کی بات پوری توجّہ سے سنتی ہی نہیں، محسوس بھی کرتی تھی، جس سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا اور مسئلہ بھی حل ہوجاتا۔
کسی نے کیا خُوب کہا ہے کہ’’ بہنیں وہ ہوتی ہیں ،جن سے ہم بچپن میں لڑتے ہیں اور بڑے ہو کر اُن کے لیے لڑتے ہیں۔‘‘ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بھانجے، بھانجیوں، بھتیجوں سے اولاد جیسی محبّت کرتی تھی، ان کی ہر فرمائش کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتی۔ اس لیے سب بچّوں کی بہت لاڈلی خالہ اور پھوپی تھی۔
اپنی اس پیاری بہن کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد احساس ہوا کہ وہ اللہ کے چُنے ہوئے نیک لوگوں میں شامل تھی۔ دونوں گردے فیل ہوجانے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی شُکر گزار بندی نے اس خطرناک مرض کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ڈائلیسز جیسے مشکل اور صبر آزما عمل سے گزرنے کے باوجود نہ صرف ازدواجی زندگی اور تمام تر اخلاقی سماجی ذمّے داریاں بھی نہایت خوش اسلوبی سے نبھائیں، حج کی سعادت بھی حاصل کی۔
ہمیشہ اپنے ربّ کا شُکریہ ادا کرتی، اس کی یہی شُکر گزاری تھی، جس کی وجہ سے کئی بار موت کے منہ سے نکل آئی، لیکن پھر6جون2020 ءکو موت نے مزید مہلّت نہ دی اور وہ اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی بہترین مغفرت فرمائے اور ہمیں اپنی اس عظیم بہن کی زندگی سے صبر اور شُکر کا سبق لینےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، ثم آمین۔ (بلقیس متین، کراچی )