مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
کچھ رشتے محض قرابت داری یا روایتی تعلق کے محتاج نہیں ہوتے، وہ ہماری ذات کے آئینے کو جِلا بخشتے، ہماری شخصیت کی تعمیرِ نَو میں سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ زندگی کے سفر میں کچھ لوگ ایسے بھی ملتے ہیں، جو ہمارے اندر پوشیدہ تخلیقی صلاحیتیں ہم سے بھی پہلے دیکھ لیتے ہیں اور پھر اپنی محبّت سے انہیں شعلۂ جوّالا بنادیتے ہیں۔
میرے لیے میرے انکل، الطاف مجاہد، ایک ایسی ہی اَن مول ہستی،ایک سایہ دار شجر کا نام ہے۔ لکھنے لکھانے کا جنون، لفظوں سے کھیلنے کا شوق مجھے اسکول، کالج ہی کے زمانے سے تھا۔ میرے لیے خیالات کو قرطاس پر بکھیرنا ہمیشہ سے ایک سحر انگیز تجربہ رہا، جو بات دل کو چُھوتی، یا جواحساس رُوح میں اُترتا، مَیں اسے لفظوں کا روپ دے دیتی۔
کبھی وہ نظم کے مصرعوں میں ڈھلتا، تو کبھی کسی جامع مضمون یا یادوں کے خُوب صُورت قالب میں سما جاتا، مگر یہ شوق محض ایک بے سمت ندی کی طرح تھا، جسے ایک باقاعدہ دھارے، پختہ سمت، بے باک اعتماد اور تخلیقی نکھار کی ضرورت تھی اور اس موڑ پر انکل الطاف مجاہد کی رہنمائی اور اُن کی بے پناہ حوصلہ افزائی نے مہمیز کا کام کیا۔ انہوں نے نہ صرف میرے لفظوں کو وقار بخشا، بلکہ میری تخلیقی صلاحیتوں کو وہ پرواز دی، جس نے میرے شوق کو ایک معتبر پہچان کا راستہ دکھایا۔
دنیائے صحافت کے جانے مانے قلم کار، انکل الطاف مجاہد نے میرے اندر موجود لکھنے کی صلاحیت کو روایتی شوق کے بجائے ایک تخلیقی ذمّے داری کے طور پر پروان چڑھایا۔ وہ میری تحریروں کا ناقدانہ جائزہ لیتے، اسلوبیاتی خامیوں کی نشان دہی کرتے اور ابلاغ بہتر بنانے کے لیے فکری رہنمائی بھی فرماتے۔ اُن کا فلسفہ تھا کہ اگر الفاظ میں صداقت، گہرا احساس اور فکری خُوب صُورتی موجود ہو، تو ایک عام سا نکتہ بھی قاری پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
بلاشبہ، اُن کی اسی فکری سرپرستی نے مجھے وہ خود اعتمادی دی، جس کے بعد میرا قلم ڈائری کے محدود صفحات سے نکل کر عوامی شعور کا حصّہ بنا اور میری تحریریں معتبر اخبارات میں تواتر کے ساتھ شائع ہونے لگیں۔ آج بھی جب کسی جریدے میں میری کوئی تحریر شائع ہوتی ہے، دل خوشی سے لب ریز ہوجاتا ہے، اورساتھ ہی اپنے محسن انکل، الطاف مجاہد کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔
بلاشبہ، کسی بھی نوآموز قلم کار کے لیے سفر کے آغاز میں ملنے والی تھپکی اور حوصلہ افزائی کسی گراں قدر انعام سے کم نہیں ہوتی اور مجھے یہ تھپکی، حوصلہ انکل الطاف سے ملا۔ اُن کا اپنا صحافتی سفر بھی عزم و استقلال اور کام یابیوں کا ایک روشن باب ہے۔ وہ طویل عرصے تک پاکستان کے ایک موقر روزنامے سے وابستہ رہے۔ پہلے کراچی میں بحیثیت ڈسٹرکٹ ایڈیٹر خدمات انجام دیں، بعدازاں ایڈیٹر، سندھ و بلوچستان کے معتبر مناصب پر فائز ہوئے۔
سندھ اور بالخصوص کراچی کی سیاسی اُتھل پُتھل، سماجی، تہذیبی و تاریخی پس منظر پر انہیں کامل دست رس حاصل تھی۔ اُن کی اسی عمیق نظر اور بے باک قلم نے اُنھیں صحافت کے اُفق پر ایک منفرد و معتبر شناخت عطا کی اور آج میری تحریروں کو ملنے والی پزیرائی دراصل اُن ہی کی فکری سرپرستی، تربیت کا ثمر ہے۔ زندگی کے سفر میں رہبر تو بہت ملتے ہیں، مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں، جو صرف راستہ نہیں دکھاتے، ہمارے لڑکھڑاتے قدموں کو اُس راستے پر چلنے کا حوصلہ اور یقین بھی بخشتے ہیں۔
گرچہ مجھے یہ خوب صورت رشتہ وراثت میں ملا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان سے ملنے والی بے لوث حوصلہ افزائی میری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ میرے لیے ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ محض کوئی روایتی عنوان نہیں، میری ادبی و قلمی زندگی کی ایک سچّی، دل کش حقیقت ہے۔میرے انکل الطاف مجاہد منجھے ہوئے صحافی ہی نہیں، میرے شفیق مربّی بھی ہیں، جنہوں نے میرے خاموش الفاظ کو تخلیق کے پَر عطا کردیئے۔ (ثناء توفیق خان، کراچی)