مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
کائناتِ ہستی میں پدرِ بزرگوار کی ذاتِ گرامی محبّت، خلوص اور عظمتِ رفتہ کا ایک ایسا درخشاں استعارہ ہے، جس کی تابندگی سے حیات کے ایوان منور رہتے ہیں۔ میرے محترم اور شفیق والد، محمد شریف، ایک ایسی جامع اور تاب ناک شخصیت کے مالک تھے، جن کی عظیم قربانیوں، ایثار و محبّت کو چند الفاظ میں سمیٹنا بہت مشکل ہے۔ وہ سراپا شفقت ہی نہیں، بے لوث محبّت کا مکمل پیکر تھے۔
بلاشبہ، اُن کا وجود ہمارے لیے شجرِ سایہ دارکی مانند تھا۔ اُن دنوں ہم مسلم ٹاؤن میں مقیم تھے۔ گھر سے اسکول کا فاصلہ خاصا طویل تھا، لیکن وہ روزانہ ہم تینوں بہن بھائیوں کو اپنی پرانی سائیکل پر بٹھا کر پہلے صدر کے علاقے میں واقع اسکول چھوڑتے اور پھر خود اپنے آفس جاتے۔ جب کہ آفس سے چُھٹی کے بعد گھر آنے کے بجائے شام کو وہیں سے دوسری ملازمت پر چلے جاتے۔
ایک نوکری کے بعد دوسری ملازمت کا کٹھن سفر طے کرتے اور رات گئے اسی تھکی ہاری سائیکل کو چلاتے ہوئے واپس گھر لوٹتے۔ نیز، ہفتہ واری چُھٹی کے روز بازاروں کے چکّر لگاتے تو دیگر امورِ زندگی بھی نمٹاتے۔ حیات کی تمام تر ذمّے داریوں کا بوجھ وہ اس خوش اسلوبی سے اُٹھاتے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔ وہ گھر کے تنہا معمار، واحد کفیل تھے، مگر ہم پر کبھی کسی محرومی کا سایہ تک نہ پڑنے دیا، کبھی ہمیں کسی شئے کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا۔
ہم سب بہن بھائیوں کو بہترین اور نام وَر تعلیمی اداروں میں پڑھایا، اچھے سے اچھا کھلایا، پہنایا اور زندگی کے ہر موڑ پر عمدہ مشاورت سے نوازا۔ اولاد کی شادیاں کیں، خون کے رشتوں کو اوّلیت دی، دوستی کے تمام تر تقاضے نبھائے۔وہ جہاں جہاں بھی ملازم رہے، وہاں کے لوگ آج بھی اُنہیں بے حد عقیدت و احترام سے یاد کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی یادیں ہی ہمارا کُل سرمایہ ہیں۔ اُن کا کردارو عمل ہمارے لیے ایک ایسا روشن چراغ ہے، جو تازندگی روشنی دیتا رہے گا۔
یہ ہمارے لیے انتہائی خوش بختی کی بات ہے کہ ہمارےشفیق والدین کی محبّت کا درخشاں چراغ تا دیر فروزاں رہا اور اُسی کی ضو پاشیوں نے حیات کے کٹھن راستوں کو منور کیے رکھا۔ اولاد کی خاطر اُن کے ایثار و قربانی کا بے پایاں جذبہ تادمِ آخرماند نہ پڑا۔
نیز، زندگی کے آخری لمحے تک خودداری کے بلند مینار بنے رہے۔ لبوں پر ہمیشہ یہ دُعا رہی کہ ’’معبود! بسترِ مرگ کی محتاجی سے بچا کر، چلتے پھرتے اس دنیاسے رخصتی عطا فرما۔‘‘ میرے والدین کی رفاقت کا سفر چھے دہائیوں پر محیط تھا، جو وقت کے ساتھ نکھرتا اور مضبوط ہوتا گیا۔
والدہ نے بھی ہر قدم پر والدکا خُوب ساتھ نبھایا، اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسراٹھا نہ رکھی۔1987ءکا ایک واقعہ آج بھی دل پر نقش ہے کہ مجھے شاپنر کی ضرورت تھی۔ اُن دنوں عام پنسل شاپنر محض دس یا پچیس پیسے کا ملتا تھا۔ اسٹیشنری کی دکان پر والد صاحب کے ساتھ گیا تو دکان کے شوکیس میں طرح طرح کے شاپنرز رکھے تھے، اُن ہی میں سے گھر کی شکل کا ایک خُوب صُورت شاپنر مجھے پسند آگیا، جس کی قیمت پانچ روپے تھی۔
مَیں شاپنر کی قیمت دیکھ کر ہچکچایا، مگر انہوں نے بِنا کسی تامّل دکان دار سے کہا۔ ’’یہ بچّے کو دے دیں۔‘‘ اتنے منہگے شاپنر پر اُن کا ایک لفظ بھی نہ کہنا، اُن کی بے پناہ محبّت کا غمّاز تھا اور مشقّت و محبّت کے ایسے سیکڑوں لمحات ہیں، جنہیں اس مختصر سی تحریر میں سمیٹنا ناممکن ہے۔ اور یہ بھی محض ایک شاپنر کی بات نہیں، ایک شفیق باپ کی لامحدود عنایات کا استعارہ ہے۔
میرے محترم والدِ گرامی نے میرے تاب ناک مستقبل کی خاطر مجھے لندن بھیجا اور مسافت کی ہر منزل پر سراپا لطف و کرم بن کر دست گیری فرمائی۔ پردیس کی تنہائی میں روزانہ اُن کے مہر و محبّت سے لب ریز دو دو، تین تین فون آتے، جن میں نصائح کے موتی بکھرتے، احتیاطوں کے پیرایے سمجھائے جاتے اور امورِ زندگی سنوارنے کے احکام ملتے۔
غرض، اُن کی نگہ داشت کا سایہ مجھ پر ہر لحظہ دراز رہا۔ جب میں ویڈیو کال کے توسّط سے انہیں لندن کے درو دیوار کا نظارہ کرواتا، تو فرنگ کی حیرت انگیز ترقی دیکھ کر ان کے چہرے پر دیدہ ورانہ مسّرت اور والہانہ حیرت کے اَن مٹ نقوش اُبھر آتے۔ اُن کی تمام تر شاپنگ بھی مَیں وہیں سے کرتا، اُن کے ملبوسات، خوشبوئیں، کوٹ، سویٹرز، ادویہ اور نہ جانے کیا کیا کچھ مَیں وہیں سے مہیّا کرتا۔
پروردگار کا شُکر ہے کہ مجھے اُن کی خدمت گزاری کا بھرپور موقع ملا، اور مَیں نے حتی الامکان سعی کی کہ اس باب میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ میرے والد ایک بے مثال شوہر، شفیق ترین پدر، مہربان دادا اور ہیرے جیسے نانا تھے۔ دست بہ دُعا ہوں کہ ربِ کائنات اُنہیں جنّت الفردوس میں بلند ترین مقام سے سرفراز فرمائے، اور وہ عالمِ بالا سے ہمیں دیکھ کر شادکام و مسرور ہوں۔ (عمران سہیل)