دُنیا بَھر میں، حکومتوں اور پالیسی سازوں کے لیے اپنے عوام کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنا ہمیشہ سے ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔ اقوامِ متّحدہ کے شعبہ برائے معاشیات و سماجیات کے مطابق، اس وقت دُنیا بھر میں 7 کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہیں، جب کہ 2050ء تک دُنیا کی آبادی تقریباً 10 ارب نفوس تک پہنچ جائے گی، جن میں سے 6 ارب افراد 18 سے60 برس کی عُمرکےہوں گے، یعنی ملازمت یا کاروبار کرنے کی عُمر کے حامل۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی، آٹومیشن اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز روزگار کی منڈی میں متعدد تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
ان دِنوں آرٹی فیشل انٹیلی جینس یعنی مصنوعی ذہانت کو دُنیا بَھر میں انسانی معاشرتی اقدار اور معیشت کی ڈیجیٹل تبدیلی کے اہم ترین عُنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجیز کا نفاذ ترقّی یافتہ ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں بہت تیزی سے زندگی کے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
آرٹی فیشل انٹیلی جینس ایک ٹُول کے طور پر دُنیا بَھر کی معیشتوں اور کاروبارِ زندگی کو متاثر ک رہا ہے اور جلد یا بدیر پاکستان جیسے ترقّی پزیر ممالک بھی اے آئی پر انحصار کرنے والے اداروں اور ملازمتوں کی جانب رُخ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے لیکن کیا اس ضمن میں ہماری تیاریاں مکمل ہیں؟ ذیل میں اس جدید ترین ٹول یعنی مصنوعی ذہانت سے متعلق نئی ملازمتوں اور کارکنان کے کردار اوراہمیت کا مختصر جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مغربی ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیشنل جاب مارکیٹ یا ملازمتوں کی عالمی منڈی میں آرٹی فیشل انٹیلی جینس اور آٹومیشن جیسی مہارتوں کی مانگ سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اے آئی میں مہارت کے حامل افراد کو دیگر شُعبوں کے مقابلے میں زیادہ معاوضہ مل رہا ہے۔ دوسری جانب ملازمتوں کے میدان میں کارکنان کو درکار مہارتیں تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں اور ایسے میں جو لوگ یہ نئی اِسکلز نہیں سیکھ رہے، اُن کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔
یاد رہے، اے آئی کی آمد سے ملازمتیں ختم نہیں ہو رہیں بلکہ روزگار کے مواقع نئی مہارتوں اورنئی اِسکلز سیکھنے کا مطالبہ کررہےہیں۔ آرٹی فیشل انٹیلی جینس کی مدد سے چلنے والا ملازمتوں کا نظام انسان اور کمپیوٹر کے پیچیدہ تعلق کی حامل ہائبرڈ خصوصیات کا حامل ہے، جس کی وجہ سے کارکنان کو خود کو فوری طور پر نئے ہُنر کے لیے آمادہ کرنے اور زندگی بَھر سیکھنے پر توجّہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہوگی، جب کہ سُست اور کام چور شخص اس نئے نظام میں ناکام ہو جائے گا، کیوں کہ اب ورکرز کے لیے بدلتے ہوئے ورک انوائرمنٹ کو اپنانا ناگزیر ہوگیا ہے۔
اب ملازمین کو خُود کو نئی مہارتوں کے لیےتیارکرنا ہوگا تاکہ وہ ایک ایسے ماحول میں کام یاب ہو سکیں، جہاں ٹیکنالوجی نہ صرف خُود تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے بلکہ چیزوں کو بھی تبدیل کررہی ہے۔ ایک ایسے ماحول میں کہ جب روزگار کے روایتی اصولوں کی تشکیلِ نوہورہی ہے، ذیل میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی نئی جاب مارکیٹ میں کون سے نئے مواقع میسّر اور نئی دشواریاں پیش آ سکتی ہیں۔
آٹومیشن میں اضافہ
اگر اے آئی بیسڈ جاب مارکیٹ پر نظر دوڑائی جائے، تو پتا چلتا ہے کہ مستقبل میں ڈیٹا اینٹری، کسٹمر سروس، پیداوار اور دیگر صنعتوں میں معمول کے کاموں کی آٹومیشن میں اضافہ ہو جائے گا اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹُولز کے اطلاق کے نتیجے میں کچھ ملازمتیں ختم ہوجائیں گی۔ تاہم، دوسری جانب کچھ ایسی ملازمتوں کے دروازے کُھل سکتے ہیں کہ جو سسٹم ایڈمنسٹریشن اور آٹومیشن کے نظام کی نگرانی سے متعلق ہیں۔
نئی ملازمتوں کے مواقع
وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے اے آئی کے ٹُولز مختلف مہارتوں کے ساتھ مربوط ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کا امکان بھی بڑھ رہا ہے اور بتدریج اے آئی اخلاقیات، حکومتی شعبوں میں ڈیٹا کے استعمال اور اے آئی آڈٹنگ میں نئےعُہدوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب مستقبل میں اے آئی کی تربیت دینے والوں کا کردار اور اثرورسوخ بھی بڑھ جائے گا اور آئندہ جاب مارکیٹ میں ’’پرامپٹ انجینئرز‘‘ کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہوگا۔
اِسکلز کی تبدیلی
ان دِنوں آئے روز جاب مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کی تربیت، ڈیٹا اینالائزیشن اور سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ میں درکار مہارتوں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ کسی بھی شُعبے میں مہارت کے حصول کے لیے تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ اور جذباتی ذہانت بھی اہمیت کی حامل ہوگی، خاص طور پر اُن کاموں کی تکمیل کے لیے کہ جن میں انسانی عمل دخل اور تنقیدی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج سے چند سال پہلے تک جاب مارکیٹ کی نوعیت مختلف تھی۔ آپ نے کسی ایک فیلڈ میں گریجویشن کر لی یا کوئی ایک اِسکل سیکھ لی، تو زندگی بھر اسی کی بنیاد پر ملازمت یا کاروبار برقرار رکھنا ممکن تھا، لیکن اب ٹیکنالوجی کے تیزی سے تبدیل ہونے کی وجہ سے ملازمت اور کمانے کے طریقے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب صُورتِ حال یہ ہے کہ اگر آپ نے ہر سال دوسال بعد اپنی اِسکلز یا مہارتوں میں اضافہ نہ کیا، نوکری برقرار رہے گی اور نہ ہی کاروبار۔
مستقبل کی مہارتیں
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں ملازمتوں کے حصول کے لیے کون سی نئی مہارتیں حاصل کی جائیں؟ اس ضمن میں ماہرین نے 228 ملین ملازمتوں کی پوسٹنگ کا تجزیہ کیا، جن میں تیس ہزار اِسکلز شامل ہیں۔ ماہرین نے مکمل تجزیے کے بعد چار ایسی اِسکلزیا مہارتیں شناخت کیں،جو تیزی سے بڑھتے اور پھیلتے ہوئےجاب ٹرینڈز ہیں: مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، پراڈکٹ مینجمینٹ اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ ٹیکنالوجی۔
ماہرین کے مطابق یہ وہ مہارتیں ہیں، جو مستقبل میں آپ کی جاب متاثر کرسکتی ہیں۔ 2021ء میں آٹھ میں سے ایک ملازمت کے لیے ان میں سے ایک مہارت درکار تھی، جب کہ موجودہ دَور میں ہر دس میں سے چھے ملازمتوں کے لیے ان اِسکلز کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جاب مارکیٹ کا مستقبل مذکورہ بالا مہارتوں سے وابستہ ہے۔
گرچہ مصنوعی ذہانت کے سبب بہت سی موجودہ ملازمتیں ختم ہوجائیں گی، مگر جتنی نوکریاں ختم ہوں گی، ان سے دُگنے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس وقت مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ 638 ارب ڈالرز سے زائد ہے، جس کے سال 2034ء تک 3600 ارب ڈالرز تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آن لائن کورسز اور سرٹیفیکیشن کا کردار
عصرِ حاضر میں وسیع پیمانے پر ریموٹ لرننگ دست یاب ہونے کے سبب آن لائن کورسز اور سرٹیفیکیشن کیریئر کی ترقّی کے لیے قابلِ قدر ٹُولز بن گئے ہیں۔ اِسکلز ڈیویلپمنٹ کے یہ ٹولز نئی مہارتیں حاصل کرنے کا ایک سَستا ذریعہ فراہم کرتے ہیں اور انہیں سیکھنے کے لیے وقت اورعُمرکی کوئی قید نہیں۔
آپ اپنی سہولت کے مطابق اپنا سیکھنے کا شیڈول تیار کر سکتے ہیں۔ ڈیٹا کا تجزیہ، سائبر سیکیوریٹی، پراجیکٹ مینجمینٹ اور دیگر ہائی ڈیمانڈنگ یا زیادہ طلب والے شُعبوں میں سرٹیفکیشن کا حصول آپ کے مستقبل کے امکانات روشن کر سکتا ہے۔
دوسری جانب اپنے شُعبے میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا دُرست استعمال آپ کے موجودہ پیشے میں آپ کی پیداواری صلاحیت 10 گُنا تک بڑھا سکتا ہے۔ چاہے آپ استاد ہوں، مارکیٹر یا پروگرامر، اے آئی آپ کے روزمرّہ کے مشکل اور وقت طلب کاموں کو چند سیکنڈز میں مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اپنے پیشے میں اے آئی اپنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے مشکل کاموں کی ایک فہرست بنائیں اور پھر چیٹ جی پی ٹی یا کسی دوسرے اے آئی ٹُول پر جا کر یہ پرامپٹ لکھیں کہ ’’مَیں ایک [اپنا پیشہ لکھیں] ہوں۔ مُجھے اس کام [کام کا نام] کو کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔
مُجھے بتائیں کہ مَیں آپ کو کیا پرامپٹ دوں کہ آپ یہ کام میرے لیے خُود کر دیں؟‘‘ اب اے آئی ٹُول اِس حوالے سے آپ کو خُود گائیڈ کر دے گا۔ یاد رکھیں، اے آئی ملازمتیں چھین نہیں رہی بلکہ کام کرنے کا طریقہ بدل رہی ہے اور جو لوگ خُود کو وقت کے ساتھ تبدیل نہیں کریں گے، وہ اپنے شعبے اور معاشی ترقّی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔