کسی بھی ادارے کی کام یابی وترقّی میں منصوبہ بندی، انفرا اسٹرکچر اوربنیادی سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ ایسے مخلص، محنتی اور صاحبِ بصیرت افراد کا کردار بھی خاصا اہم ہوتا ہے کہ جو اسے ایک ممتاز ادارہ بنانے کے ضمن میں اپنی تمام تر توانائیاں اورصلاحیتیں صَرف کر دیتے ہیں۔
سینئر انجینئر امتیازحسین سولنگی کا شمار بھی ایسی ہی نابغۂ روزگار شخصات میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے اپنے 36 سالہ پروفیشنل کیریئر کے دوران صوبۂ سندھ کے تعلیمی اداروں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقّی میں خاموشی اور مستقل مزاجی سے نمایاں خدمات انجام دیں۔
چُوں کہ وہ ایجوکیشنل انفرااسٹرکچر کی تعمیر و ترقّی کے شُعبے سے وابستہ ہیں، لہٰذا کیڈٹ کالج، لاڑکانہ سے لے کر شہید محترمہ بےنظیر بُھٹّو گرلز کیڈٹ کالج، لاڑکانہ کے قیام میں کردار ادا کرنے تک اُن کی عملی زندگی کا ایک بڑا حصّہ ایسے اداروں کی تعمیر و توسیع کے لیے وقف رہا ہے کہ جو آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت اور روشن مستقبل کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
انجینئر امتیاز حسین سولنگی نے 1990ء میں کیڈٹ کالج، لاڑکانہ کی تعمیر و ترقّی کا بیڑا اُٹھایا، تو اس وقت انہیں ادارے اور اس کے گردونواح کے ضمن میں متعدد چیلنجز کا سامنا تھا۔ چُوں کہ زمین کا بڑا حصّہ بنجر تھا، لہٰذا ایک وسعت پذیر رہائشی تعلیمی ادارے کے لیے موزوں ماحول اور جدید عمارت کی تشکیل طویل اور مسلسل جدوجہد کی متقاضی تھی اور بلند حوصلہ و عالی ہمّت انجینئر امتیاز حسین سولنگی کی طویل منصوبہ بندی، منفرد مہارتوں اور عزم و استقامت کے نتیجے میں کیمپس نے بتدریج ایک جدید رہائشی تعلیمی ادارے کی شکل اختیار کر لی، جہاں طلبہ کی ضروریات کی تکمیل کے لیے وسیع پیمانے پر تعلیمی و رہائشی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
کیڈٹ کالج، لاڑکانہ کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کے دوران انجینئر امتیاز حسین سولنگی نے متعدد اہم ترقّیاتی منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان میں نمایاں ترین اقبال آڈیٹوریم ہے، جہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، جب کہ اتنی ہی بڑی تعداد میں کیڈٹس کے لیے وسیع کیڈٹ میس کی تعمیر بھی ادارے کے بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم حصّہ ہے۔
علاوہ ازیں، کیمپس میں12ہاسٹلز، ایک مسجد، اسکواش کورٹس، ایک اسٹیڈیم اور دیگر ضروری عمارتیں بھی تعمیر کی گئی ہیں کہ جو کیڈٹ کالج، لاڑکانہ کو ایک جدید اورمکمل رہائشی تعلیمی ادارے کی شکل دیتی ہیں۔ انجینئر امتیاز سولنگی کے پیشہ ورانہ کیریئر کا ایک اور اہم باب شہید محترمہ بےنظیر بُھٹّو گرلز کیڈٹ کالج، لاڑکانہ کی تعمیر ہے۔ مذکورہ منصوبہ لڑکیوں کے لیے جدید کیڈٹ کالج کی طرز کے ایک معیاری تعلیمی ادارے کے قیام کی ایک اہم کاوش ہے۔
اس تصوّر کو تقریباً ڈھائی سال کے نسبتاً مختصر عرصے میں حقیقت کا رُوپ دیا گیا اور یہ ادارہ 2021ء سے فعال ہے۔ کالج میں جدید اکیڈمک بلاک، ہاسٹلز، آڈیٹوریم، اسکواش کورٹس اور دیگر تعلیمی و رہائشی سہولتیں شامل ہیں۔
انجینئر امتیاز حسین سولنگی کا طویل خدمات پر محیط پیشہ ورانہ سفرکبھی مشکلات وخطرات سے خالی نہیں رہا۔ 1991ء میں ایک تعمیراتی منصوبے پر فرائض کی انجام دہی کے دوران اُنہیں ڈاکوؤں نے اغوا کر لیا تھا اور بعد ازاں تاوان کی ادائی کے بعد رہا کیا گیا۔
گرچہ یہ واقعہ اُن کی زندگی کا ایک نہایت تکلیف دہ اور مشکل مرحلہ تھا لیکن اس کے باوجود ان کے عزم اور پیشہ ورانہ وابستگی میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس خطرناک واقعے کے بعد بھی اُنہوں نے اپنی ذمّےداریاں اسی عزم و حوصلے سے جاری رکھیں اور تعلیمی اداروں کی تعمیر وترقّی کے لیے سرگرم رہے۔ اُن کی فنی مہارت اور عملی تجربے سے سندھ کے مختلف کیڈٹ کالجز، جامعات اور سرکاری اسکولوں کی انتظامیہ نے بھی فائدہ اُٹھایا، جہاں انہوں نے اعزازی طور پر تیکنیکی رہنمائی اور مشاورت فراہم کی۔
انجینئر امتیاز حسین سولنگی نے اپنے پورے کیریئر کے دوران کسی صلے، ستائش کی تمنّا کے بغیرخدمات انجام دینے کو ترجیح دی اور اس ضمن میں کبھی شُہرت یا عوامی پذیرائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی، جب کہ اُن کا حقیقی تعارف جدید سہولتوں سے آراستہ وہ عمارات ہیں، جن سے آج ہزاروں طلبہ مستفید ہورہے ہیں اور ان کےخلوص ومحنت کے یہ اَن مٹ نقوش ان شاء اللہ سندھ کے تعلیمی منظرنامے کا ہمیشہ حصّہ رہیں گے۔
انجینئر امتیاز حسین سولنگی کی یہ داستان محض ایک سرکاری ملازم کے طویل کیریئر کی رُودار نہیں بلکہ ایک ایسے پُرعزم شخص کی کہانی ہے، جس کی زندگی اور خدمات سندھ میں تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقّی سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔