خیبر پختون خوا اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں موسمِ سرما کے دوران مویشیوں کے لیے سبزچارہ دست یاب نہیں ہوتا، کیوں کہ اس موسم میں وہاں کے پہاڑ، میدان اور راستے برف کی سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ ایسے میں جانوروں کی خوراک کے طور پر وہی خشک گھاس کام آتی ہے کہ جسے ستمبر اور اکتوبر میں بڑی محنت سے کاٹ کر محفوظ کیا جاتا ہے۔
آج سے چند برس قبل تک ان دِنوں اگر آپ ہزارہ ڈویژن یا آزاد کشمیر کے کسی پہاڑی علاقے کا رُخ کرتے، تو آپ کو یوں محسوس ہوتا، جیسے پورے گاؤں کے مکین ہی کسی خاص مِشن پر نکلے ہوئے ہیں۔ ہر شخص آپ کو مصروف نظر آتا، سبھی درانتیاں لیے میدان میں موجود ہوتے۔ کوئی گھاس کاٹ رہا ہوتا، کوئی کاٹی گئی گھاس کی گڈیاں بنا رہا ہوتا اور کوئی دُور کھڑا سب کو ہدایات دینے میں مصروف ہوتا، اور وہ عموماً گھر کا سربراہ ہوتا۔
جانوروں کے لیے گھاس کاٹنے کی یہ روایت صدیوں پُرانی ہے اور جب گھاس کاٹنے کا موسم عروج پر ہوتا، تو ہر گھر کے سربراہ کو ایک ہی فکر لاحق ہوتی کہ اب کہیں بارش نہ شروع ہوجائے۔ دیہی علاقے کی اس روایت کو ’’حشر‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں گاؤں کے تمام افراد مل جُل کر ایک دوسرے کے لیے گھاس کاٹتے تھے۔ اس دوران ہر روز ایک ایک گھر کی، گھاس کاٹنے کی باری ہوتی تھی اور اہلِ دیہہ ایک دوسرے کا کام اپنا فریضہ سمجھ کر انجام دیتے تھے۔
گھاس کاٹنے کے دوران کئی خوش گوار مناظر بھی دیکھنے کو ملتے۔ درانتیوں کی چرچراہٹ، ہنسی مذاق، دُور درازعلاقوں سے لوگوں کی شرکت، کھیل تماشے اور ڈھول کی تھاپ پر علاقائی رقص اس سرگرمی کو ایک میلے کے منظر میں تبدیل کر دیتے۔
نیز، جس روز، جس شخص کے لیے گھاس کاٹی جاتی، وہ اُس روز، کام میں حصّہ لینے والے تمام افراد کے لیے لذیذ روایتی کھانوں کا اہتمام کرتا، لیکن پھر مشینوں کی آمد کے بعد لوگوں نے درانتیوں سے گھاس کاٹنے کا سلسلہ ترک کر دیا، تو بتدریج گاؤں کے مکینوں کا ایک دوسرے سے میل جول کا سلسلہ بھی کم ہوگیا۔ گرچہ آج بھی کئی علاقوں میں یہ روایت قائم ہے، لیکن وہ بھی آہستہ آہستہ دَم توڑ رہی ہے۔
چوں کہ گھاس کی کٹائی ایک محنت طلب اور پُرمشقّت کام ہے، اسی لیے عام طور پر جب کوئی شخص بہت تھکا ماندہ بیٹھا ہو، تو کہا جاتا ہے کہ ’’کیا تم دن بَھر گھاس کاٹتے رہے ہو، جو اتنا تھک گئے ہو؟‘‘ دوسری جانب یہ عمل خطرات سے بھی خالی نہیں، کیوں کہ کبھی گھاس میں سے کوئی سانپ، بچّھو نکل آتا ہے، تو کبھی شہد کی مکھیاں حملہ آور ہوجاتی ہیں اور کبھی بِھڑ، جسے مقامی باشندے ’’ڈبوک‘‘ یا ’’بڈوک‘‘ کہتے ہیں، اپنے خطرناک ڈنک کے ساتھ استقبال کرتی ہے۔
گرچہ بِھڑ دیکھنے میں معصوم سی مخلوق دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے ڈنک مارنے کے کچھ ہی دیر بعد جسم کا متاثرہ حصّہ بری طرح سُوج جاتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات شہد کی مکھیوں اور بِھڑوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے اُن کے چھتّوں کو آگ بھی لگا دی جاتی ہے۔
علاوہ ازیں، گھاس کاٹنے کے دوران درانتی بھی بعض اوقات خطرہ بن جاتی ہے کہ بعض اوقات گھاس کاٹنے والا شخص خود اپنا ہاتھ ہی کاٹ بیٹھتا ہے۔ گھاس کاٹنے سے پہلے درانتی کو تیز کرنا بھی ایک فن ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف اوزار استعمال کیے جاتے ہیں۔ پھر گھاس کی کٹائی کے بعد مختلف سائز کی حامل گڈیاں تیار کی جاتی ہیں اور انہیں اس انداز سے رکھا جاتا ہے کہ گھاس بارش کے پانی سے بالکل محفوظ رہے۔
گئے وقتوں میں معمّر افراد بادلوں کی رنگت دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ آج بارش ہوگی اور حیرت انگیز طور پر اکثر و بیش تر اُن کی پیش گوئیاں دُرست ثابت ہوتیں۔ اس دوران آدھی رات کو بھی بارش کی اطلاع ملتے ہی لوگ اُٹھ کھڑے ہوتے اور گھاس کی گڈیوں کو اس انداز سے ترتیب دیا جاتا کہ بارش کا پانی زیادہ تر بالائی حصّے کو متاثر کرے، اندر خشک گھاس محفوظ رہے اور اگر ترپال میسّر ہوتی، تو فوری طور پر وہ اوپر ڈال دی جاتی۔
کچھ دن بعد یہی گھاس گھر کے قریب ایک جگہ جمع کی جاتی اور ایک تجربہ کار آدمی اُسے اس انداز سے ترتیب دیتا کہ دُور سے دیکھنے والے کو وہ ایک چھوٹا سا گھر معلوم ہوتا۔ پھر اس کے اوپر گھاس کی چھت بنائی جاتی اور گھاس ہی کی لمبی لمبی رسیاں بنا کر اس قدر مضبوطی سے باندھ دیا جاتا کہ چارہ بالکل محفوظ ہو جاتا اور پھر… جب موسمِ سرما میں برف باری ہوتی اور ہر شے سفید چادر اوڑھ لیتی، تو یہی گھاس جانوروں، مال مویشیوں کے چارے کے طور پر کام آتی اور تب شاید وہ مویشی دل ہی دل میں اپنے مالک کو خُوب دُعائیں بھی دیتے ہوں گے۔
گرچہ ہزارہ ڈویژن اور آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں گھاس کاٹنے کی روایت آج بھی موجود ہے، لیکن مشینوں اور لوگوں کی عدیم الفرصتی کے سبب ’’حشر‘‘ کی روایت دَم توڑتی جا رہی ہے۔ آج سہولتیں بہت ہیں، مگر فرصت کم۔ پہلے لوگ ایک دوسرے کے گھر کام کرنے جاتے تھے اور آج قریب سے گزرتے ہوئے صرف اتنا کہہ دیتے ہیں کہ ’’برکت ہووے۔‘‘ یہ بھی ایک خُوب صُورت ہندکو روایت ہے۔ ٹھیک ہے، مشینیں ضرور آنی چاہئیں، زندگی ضرور آسان ہونی چاہیے، لیکن ایک دوسرے کے ساتھ مل جُل کر بیٹھنے، ہنسنے بولنے، دُکھ سُکھ میں شریک ہونے کی روایات کہیں گُم نہیں ہونی چاہئیں۔