• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجم السحر

نئی نسل کا ایک بڑا شکوہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی ذہنی صحت یا نفسیاتی مسائل کی بات کرتے ہیں تو ان پر فوراً ایمان کی کمزوری یا دین سے دوری کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ اور ہر مسئلے کا واحد حل صرف ’’نماز پڑھو‘‘ بتا یا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے مذہب سے متعلق گفتگو میں اکثر لوگ اعتدال کا راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو نماز، دعا اور ذکر کو ذہنی صحت کے حوالے سے غیر متعلق سمجھتے ہیں۔ اور ہر مسئلے کا حل صرف سائنس اور تھراپی میں تلاش کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ افراد ہیں، جو ہر نفسیاتی بیماری کو ایمان کی کم زوری قرار دے کر پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت سے انکار کر دیتے ہیں۔ حقیقت تویہ ہے کہ یہ دونوں رویّے انتہا پسندانہ ہیں اور دونوں حقیقت کا پورا عکس پیش نہیں کرتے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق ہماری روک تھام (prevention) ہے، صرف علاج نہیں۔ جیسے سنّت کے مطابق متوازن غذا کوئی دوا نہیں، مگر جسم کو بے شمار بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے، اسی طرح نماز، ذکر، دعا اور اللہ سے مسلسل تعلق انسان کے ذہنی، اعصابی اور قلبی نظام مضبوط بناتے ہیں۔

یہ روحانی قوت انسان کو زندگی کے دباؤ، صدمات اور آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے، لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ نیک اور باعمل مسلمان ذہنی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اضطراب، ڈیپریشن، غم، صدمہ اور دیگر نفسیاتی مسائل انسان کی فطرت اور زندگی کا حصہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اللہ سے جُڑا ہوا دل ایک ایسی روحانی، نفسیاتی اور جذباتی بنیاد رکھتا ہے، جو انسان کو breakdowns، burnouts اور بہت سے جذباتی و نفسیاتی بحرانوں سے بہتر انداز میں نمٹنے کی طاقت دیتی ہے۔

اسی لیے کبھی زندگی کے کسی حصّے میں ضرورت محسوس ہو تو تھراپی، کاؤنسلنگ یا کسی ماہرِ نفسیات سے مدد لینے میں کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ تھراپی کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔ یہ ایسی سائنسی تیکنیکس کا مجموعہ ہے، جو انسان کو اپنی سوچ، جذبات اور رویّوں کو سمجھنے، اپنی نفسیاتی گرہیں کھولنے اور صحت مند فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔

دوسری جانب نماز کے بعد سجدے یا دُعا میں اپنے خوف، کمزوریاں، غلطیاں، گناہ، اُلجھنیں اور دل کی ہر کیفیت اپنے رب کے سامنے رکھ دینا بھی ایک ایسی روحانی تطہیر ہے، جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی، پھر انہی معاملات کو احکامات ِالہی کی روشنی میں پرکھنا اور اپنی زندگی کا جائزہ لینا ایسی تربیت ہے، جو انسان کے باطن کی اصلاح کرتی ہے۔

ایک اچھا تھراپسٹ آپ کو وقتی تسلی دینے کے بجائے حقیقت کا سامنا کرنا سکھاتا ہے۔ اور قرآن بھی ہمیشہ وہ نہیں کہتا، جو آپ سننا چاہتے ہیں، یہ وہی بتاتا ہے، جس کی ہمارے دل، عقل اور شخصیت کی اصلاح کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ تھراپی ہر شخص کی پہنچ سے دُور ہے۔ اس کی فیس، سہولت اور رسائی بہت سے لوگوں کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہے، مگر اللہ سے بات کرنے کے لیے نہ اپائنٹمنٹ کی ضرورت ہے، نہ فیس کی اور نہ ہی کسی انتظار کی۔

جب ہم ایک ماہرِ نفسیات کے سامنے اپنی الجھنیں کھول سکتے ہیں تو اپنی نفسیات کے خالق کے سامنے کیوں نہیں؟ جب ہم انسانی تجربے کی بنیاد پر دی گئی رائے کو اہم سمجھتے ہیں تو اس کتاب سے رہنمائی کیوں نہ لیں، جو انسان کے نفس، خوف، خواہشات، غم اور کم زوریوں کو سب سے زیادہ گہرائی سے بیان کرتی ہے؟

اعتدال یہی ہے کہ رُوح کی غذا بھی حاصل کی جائے اور ضرورت پڑنے پر علم و مہارت سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔ نہ دین، سائنس کی نفی کرتا ہے، نہ سائنس اللہ پر توکّل کی۔ جب دونوں اپنی صحیح جگہ پر ہوں تو انسان کا علاج بھی بہتر ہوتا ہے اور زندگی بھی سنور جاتی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید