آصف انصاری
زندگی میں بہت سے ایسے مواقع آتے ہیں، جب دوسروں کی خواہشات اور مطالبات کے سامنے ’’نہیں‘‘ کہنا سب سے مشکل امر محسوس ہوتا ہے۔ شریکِ حیات، دوست، احباب، عزیزواقارب، بچّے، افسران، ساتھی کارکن اور سماجی ادارے سبھی کسی نہ کسی وقت ہمارے وقت، توجہ، توانائی یا مالی تعاون کے طلب گار ہوتے ہیں۔
ہم اکثر ہر ایک کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہرکسی کی درخواست قبول کرنا ممکن نہیں ہوتا، اگر ہر مطالبہ مان لیا جائے تو انسان اپنے وقت، ذہنی سُکون اور ذاتی زندگی سے محروم ہوجاتا ہے۔’’نہیں‘‘ کہنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے، اگر یہ انکار شائستگی، احترام اور نرم لہجے کے ساتھ کیا جائے اور اس میں نہ سختی ہو اور نہ بدتمیزی۔
ذیل میں چند ایسے موثر طریقے بیان کیے جارہے ہیں، جن کی مدد سے آپ انکار بھی کرسکتے ہیں اور تعلقات بھی خوشگوار رکھ سکتے ہیں۔
تعریف سے آغاز کیجیے
ہمارا ایک دوست ہمیشہ انکار سے پہلے تعریف کرتا ہے، جب اُسے کسی کام یا منصوبے میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ مسکراکر کہتا ہے۔’’مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا، میں، آپ اور آپ کے منصوبوں کی بے حد قدر کرتا ہوں، لیکن میری موجودہ مصروفیات مجھے یہ ذمّے داری قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔‘‘ اس انداز میں انکار بھی ہوجاتا ہے اور مخاطب کی عزتِ نفس بھی مجروح نہیں ہوتی۔
مثبت انداز اختیار کریں
ہمارے ایک کاروباری دوست کا پسندیدہ جملہ ہے۔’’یہ واقعی ایک بہترین پیش کش ہے لیکن اس وقت مَیں اسے قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔‘‘ ’’فی الحال ‘‘یا’’ اس وقت‘‘ جیسے الفاظ مستقبل کے امکانات کو بھی زندہ رکھتے ہیں اور انکار کو تلخ نہیں ہونے دیتے۔
یعنی فوری جواب دینا ضروری نہیں۔ ایک ادارے کے بڑے افسر کو ’’نہیں‘‘ کہنا ہمیشہ دشوار لگتا تھا، انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ ہر درخواست کا جواب فوراً دینا ضروری نہیں ہوتا، تو اب جب بھی کوئی ایسی پیش کش ہوتی ہے، جسے وہ قبول نہیں کرنا چاہتے تو صرف اتنا کہتے ہیں۔ ’’مجھے اس بارے میں کچھ سوچنے دیجیے۔‘‘
ہمارے ایک دوست، جو ایک کمپنی کے چیف ایگزیکیٹو بھی ہیں، جب ان کے ملازمین ان سے کوئی بات کرتے تو وہ کہتے ’’مَیں آپ کو پندرہ بیس منٹ میں جواب دوں گا۔‘‘ اس دوران وہ درخواست کے تمام پہلوؤں پر غور کرتے، اگر ان کو انکار کرنا ہوتا تو صاف لفظوں میں ’’نہیں‘‘ کہتے اور اس کی مختصر سی وجہ بھی بتا دیتے۔
اس سے ملازمین کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی درخواست کو سنجیدگی سے دیکھا گیا ہے۔ بعض اوقات ہلکا پھلکا مزاح ماحول کی تلخی ختم کردیتا ہے، مثلاً مسکراتے ہوئے کہا جاسکتا ہے۔’’شاید آپ سمجھتے ہیں کہ میں صرف اس لیے انکار کرتا ہوں کہ میں بڑا سخت دل ہوں۔‘‘ اس طرح کا بے ضرر مذاق اکثر کام کرجاتا ہے۔ ہر بات کی وضاحت ضروری نہیں ہوتی۔
ایک صاحب نے اپنی جمعے کی ملاقات منسوخ کرتے ہوئے صرف اتنا کہا۔’’معذرت خواہ ہوں، جمعے کا دن ہمارے لیے مناسب نہیں رہے گا۔‘‘انہوں نے نہ کوئی طویل وضاحت دی، نہ غیر ضروری معذرت کی۔ ایک پرانی کہاوت ہے: ’’ضرورت سے زیادہ معذرت نہ کرو اور ہر بات کی وضاحت بھی ضروری نہیں۔‘‘ اگر آپ کے پاس کوئی ناقابل تردید وجہ موجود نہ ہو تو صرف اتنا کہنا کافی ہے۔’’فی الحال میرے لیے یہ ممکن نہیں۔‘‘ اگر پھر بھی کوئی وجہ پوچھے تو شائستگی سے کہہ دیجیے۔ ’’مجھے افسوس ہے، مَیں اس سے زیادہ وضاحت نہیں کرسکتا۔
ہر مشکل کا حل نکالنا آپ کی ذمّے داری نہیں
کبھی کبھی لوگ اپنی ضرورت کا براہ راست اظہار نہیں کرتے بلکہ اشاروں میں بات کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی دوست کہے۔’’میرا ایک دوست کاروبار کے سلسلے میں آپ کے شہر آرہا ہے۔ اگر ہوٹل اتنے منہگے نہ ہوتے تو میں بھی اس کے ساتھ آجاتا۔‘‘
ایسی صورت میں ہمدردی ضرور ظاہر کریں، مگر خود کو مسئلے کا حل بنانا ضروری نہیں، آپ کہہ سکتے ہیں۔’’مجھے افسوس ہے کہ اُس وقت آپ کو اس مشکل کا سامنا ہے، اُمید ہے آپ پھر کبھی آجائیں گے۔ اگر اشارہ بہت واضح ہو تو بہتر ہے، ورنہ بات کی وضاحت کردینی چاہیے۔
’’اگر آپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ ہمارے ہاں قیام کرسکتے ہیں، تو معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہوگا۔‘‘
بچّوں سے محبت بھرے انداز میں انکار
ایک ماہرِ نفسیات کے مطابق اگر کسی بچّے کو ’’نہیں‘‘ کہنا ہو تو اُس سے یوں کہیے۔’’اگر مَیں اس کی اجازت دے دوں تو یہ تمہارے حق میں بہتر نہیں ہوگا، اس لیے مجھے انکار کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘ بچّہ اس بات کو زیادہ آسانی سے قبول کرتا ہے، جب اسے محسوس ہوکہ فیصلہ اس کی بھلائی کے لیے کیا گیا ہے۔ کبھی کبھی صرف ’’نہیں‘‘ کہناہی کافی ہوتا ہے۔
ہم نے ایک دوست سے پوچھا کہ وہ اپنے بچّوں کو انکار کیسے کرتے تھے؟ وہ حیرت سے بولے۔’’جب ایسا کوئی موقع آتا تھا کہ ہم ان کی فرمائش پوری نہیں کرسکتے تھے تو ہم صرف ’’نہیں‘‘ کہہ دیتے تھے۔‘‘ ایک کمپنی کے چیف ایگزیکیٹو بھی اسی اصول پر عمل کرتے ہیں، ان کے مطابق ’’واضح اور دوٹوک انکار غلط فہمیوں کو جنم نہیں لینے دیتا، لوگوں کا وقت بچاتا ہے اور انہیں غلط توقعات قائم کرنے سے روکتا ہے۔‘‘
یاد رکھیے، ’’نہیں‘‘ کہنا آپ کا حق ہے، آپ کو اپنے وقت، توانائی، وسائل اور اپنے ذہنی سکون کی حفاظت کا پورا اختیار حاصل ہے، ہر انکار کی لمبی وضاحت دینا بھی ضروری نہیں۔
اگر شائستگی، احترام اور خلوص کے ساتھ انکار کیا جائے تو یہ بدتمیزی نہیں بلکہ پختہ کردار، خوداعتمادی اور دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کا احترام کرنے کی علامت ہے۔ درحقیقت، مودبانہ انداز میں ’’نہیں‘‘ کہنا بھی ایک ایسا فن ہے، جو زندگی کو زیادہ متوازن، پُرسکون اور خوش گوار بنا دیتا ہے۔