صاحبو! ہمارا ماننا ہے کہ نعمت و رحمت کسی بھی میدان میں ہو، بالترتیب دُعا، رضا اورعطا کے مدارج سے ضرور بالضرور گزر کر ہی ملتی ہے۔ آپ کو جو نعمت چاہیے، آپ اُس کے لیے دِل سے دُعا کرتے ہیں، خدائے رحیم و کریم کی رضا شاملِ حال ہو جاتی ہے، تو آپ پر عطائے خاص بھی ہوجاتی ہے۔ محمّد عطا اللہ تارڑ صاحب پر اللہ کی بےبہا عطا ہے۔
شخصی پہلو ہو کہ سیاسی، ذاتی رنگ ہو کہ کائناتی، عطا تارڑ عطا یافتہ ہیں۔ آپ اُن کو دیکھ پائیں تو آپ پر کُھلے گا کہ ان کے چہرے پر وکالت کی سنجیدگی، گفتگو میں سیاست کی گرم و سرد چشیدگی اور اندازِ بیاں میں وہ اعتماد واعتقاد ہے، جو دلیل کو محض کتابوں میں پڑھنے سے نہیں بلکہ زندگی کے ہنگاموں میں آزمانے سے نصیب ہوتا ہے۔
میری اُن سے ملاقاتِ اولیں کی کہانی بہت دل چسپ ہے۔ اپنے تابش ہاشمی (جیو نیوز والے) تو اب پاکستان کے ہر گھر کا پسندیدہ نام بن چُکے کہ ’’ہنسنا منع ہے‘‘ شو اپنی مقبولیت کے بلند ترین درجے پر ہے، تو اِسی پروگرام میں، بیک اسٹیج ہماری عطا تارڑ صاحب سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔ مُسکراتا پُرسکون چہرہ، بولتی آنکھیں، نیم تراشیدہ داڑھی، لانبا قد اور شخصیت میں سہج سہج، ٹھہرا ہوا رچاؤ۔ ریکارڈنگ شروع ہونےمیں تاخیر میں خیر کا پہلو نکلا اور میری عطا صاحب سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔
شُستہ وشائستہ وشگفتہ گفتگو سُن کر مجھے مسرت بَھری حیرانی اور تحیّر آمیز خوشی ہوئی۔ معتدل مزاجی، میانہ روی اور دھیما لہجہ سُنتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم ہے، اگرچہ ہمارے معاشرےمیں خال خال ہے، مگرعطا صاحب کو اللہ نے اس نعمت سے گویا مالامال کر رکھا ہے۔ مخاطب کو بہت عزت سے پکارتے، توجّہ سے کلام کرتے اور مُشفق و مہربان انداز میں اُس کی بات سُنتے ہیں۔ یقیناً بڑا آدمی وہی ہوتا ہے کہ جس کی محفل میں کوئی خود کو چھوٹا محسوس نہ کرے۔
ایسی دُنیا میں جہاں فلکِ کج رفتار من مانی کیے جاتا ہے، تیزم تازی، گالی گلوچ، دھکا مُکی اور لپاڈگی کا دَور دورہ ہے، عطا صاحب کی شائستگی دیکھنے سُننے لائق ہے۔ وہ زبانی جمع خرچ سے قائل معقول نہیں کرتے، ہر دعوے کی دلیل اور ہر بات کی منطق لاتے ہیں۔ اُن کے جملے ہڑبوم نہیں مچاتے، عوام کے دِلوں پر مرہم رکھتے ہیں۔ اُسی ملاقات کے دوران ہم نےعرض کیا کہ سول سروس کے اکتیسویں کامن کے ہیں، تو انہوں نے کچھ بیچ میٹس کے نام پوچھے۔
ہم نے ساجد ظفر ڈال، نادیہ ثاقب، مجاہد شیر دل، علی ناصر رضوی کا نام لیا تو عطا صاحب نے ان سب کی فرض شناسی اور قابلیت کی کُھل کر تحسین و تعریف کی اور کہا کہ ہم متعدد بار ایک ٹیم کے طور پر کام کرچُکے ہیں۔ ربِ اظہار کی جانب سے عطا صاحب کو انکسار اور عجز عطا ہوا ہے اور یہی اُنہیں چار دانگِ عالم عزت دِلوا رہا ہے۔ اُسی شام جیو نیوز پر تابش ہاشمی کا پروگرام شروع ہوا تو ایسی ایسی پھلجھڑیاں تھیں کہ کیا ہی کہنے! وہیں ہم پر عطا صاحب کی حاضر جوابی، برجستہ گوئی اور حسِ مزاح کے جوہر بھی کُھلے۔
تابش کے جُملے کا جواب لانا جُوئے شِیر لانے کے مترادف ہے، لیکن عطا صاحب نے بارہا کام یابی سے ایسے دلائل دیے کہ حاضرین کے ساتھ خود تابش بھی تالیاں پٹخار کر داد دینے پر مجبور ہوگئے۔ یہ گفتگو منطق سے پُر تھی اور اُن مقررین کی طرح ہرگز نہیں تھی، جن کی ’’آئیں بائیں شائیں‘‘ اور ’’چوں کہ، چناں چہ‘‘ کے بارے میں لکھنؤ میں مقولہ مشہور ہے کہ ’’اگرچہ کی روٹی مگرچہ کی دال،چناں چہ کی چٹنی بڑی مزے دار‘‘
تفنن برطرف صاحبو! ذرا یاد تو کیجے، پچھلے ہی سال ’’معرکۂ حق‘‘ میں بُنیان مرصوص کی طرح ڈٹی ہوئی افواجِ پاکستان اور قومِ پاکستان کی تاریخی فتحِ مُبین۔ خدا لگتی بات ہے کہ یہ ایک نہیں، دو جنگیں تھیں۔ ایک جو میدانِ حرب و ضرب میں لڑی گئی، دوسری جو میدانِ معلومات یعنی میڈیا کے میدان میں لڑی گئی۔ الحمدُللہ، ثُمَ الحمدُللہ کہ پاکستان نے دونوں جیتیں اور ڈنکے کی بلند بانگ چوٹ پر جیتیں۔
افراتفری اور بیرا کھیری کے اُن شب و روز میں جب ہڑبوم مچاتا ہر بھارتی منقار زیر پر ہزار داستان بن بیٹھا تھا، ٹی وی پر بیٹھے ہر بھارتی کوّے کو خُود پر بُلبل ہونے کا گماں تھا، باچھوں سے جھاگ اُڑاتے، آنکھوں سے شعلے برساتے، شکست خوردہ، ہزیمت یافتہ، ’’گودی میڈیا‘‘ کی ہرزہ سرائیوں کا جیسا کھرا، سچّا، سُچّا، صافی اور شافی جواب عطا تارڑ صاحب کی سرکردگی میں حکومتِ پاکستان نے دیا، وہ دُشمن کو تا ابد آباد یاد رہے گا۔
ہم اس بات کے عینی گواہ ہیں کہ فطرتاً عطا تارڑ صاحب بہت سمائی کے آدمی ہیں، جہاں خاموش رہنے سے کام چلے، وہاں زیادہ کلام نہیں کرتے۔ لیکن معرکۂ حق کے دوران جب ’’بھارتی مسخروں‘‘ نےکذب بیانی اور جُھوٹ کی لُوٹ سیل لگا کر لاہور میں بھی بندرگاہ دریافت کرلی تو جواباً عطا تارڑ کی زیرِ نگرانی ہماری وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اتنے نپے تُلے، جانچے پرکھے اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنا سچا موقف دُنیا کے سامنے رکھا کہ امریکا سے یورپ اور مشرقِ وُسطیٰ سے افریقا تک کے ہر دارالخلافہ میں پاکستان کی فتحِ کامل و اکمل کا ڈنکا بجنے لگا۔ دنیا نے بھارت کو وہ ملاحیاں سُنائیں کہ دھری جائیں، نہ اُٹھائی جائیں۔ ہندو چرغم چرغم کرتے رہ گئے اور ہمارے خبر رساں اداروں نے کمال خبر رسانی کی۔
صاحبو! یہ مت سمجھیے کہ یہ صلاحیت و لیاقت، قابلیت و اہلیت کسی شخصیت میں یکایک پیدا ہوجاتی ہے۔ محمّد عطا اللہ تارڑ لاہور میں ایک ایسے پنجابی جٹ گھرانے میں پیدا ہوئے، جس کے لیے سیاست کوئی اجنبی شے نہیں تھی۔ ان کے گھرانے کی پاکستان مسلم لیگ (ن) سے دیرینہ وابستگی نے ان کے بچپن ہی سے سیاست کو کسی دُور دراز منظر کی بجائے ایک مانوس گھریلو حقیقت بنا رکھا تھا۔ اُن کے دادا محمّد رفیق تارڑ سپریم کورٹ کے جج رہے، سیاست میں آئے اور بالآخر صدرِ مملکت کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہوئے۔
درویش صفتی، رفیق صاحب کا خاصۂ طبعی تھا۔ باقیات الصالحات کہا جائے، تو بہت بجا ہوگا۔ مذہب، ادب، سیاست، تاریخ، ہر میدان میں اچھا خاصا درک رکھتے تھے۔ اُن کے علاوہ تارڑ خاندان میں سائرہ افضل تارڑ اور بلال فاروق تارڑ بھی سیاست سے وابستہ ہیں۔ سو، عطا اللہ تارڑ کے لیے سیاست میں داخل ہونا کچھ ایسا نہیں تھا، جیسے کوئی شخص پہلی مرتبہ کسی اجنبی شہر کا رُخ کرے۔ انہیں تمام بھول بھلیاں پہلے سےمعلوم تھے، نام بھی خاصے شناسا تھے اور کوچۂ سیاست سے بھی اچھی خاصی واقفیت تھی۔
مگر یہاں مجھے کہنے دیجے کہ خاندانی نسبتیں آدمی کو دروازے تک تو پہنچا سکتی ہیں، اندر محفلِ خاص میں نشستِ مرکزی پر بیٹھنے کی ضمانت نہیں دیتیں۔ اس معاملے میں تاریخ گواہ ہے کہ عطا تارڑ نے اپنا راستہ خُود تراشا، جگہ خُود بنائی اور اس کام یابی میں اُن کی شخصی خوبیوں کا بہت گہرا کردار ہے۔ ان کی طبیعت میں قانون کا رنگ تعلیم سے بھی آیا اور بزرگانِ خانہ کی نسبت سے بھی۔ یونی ورسٹی آف لندن سے ایل ایل بی آنرز کیا اور پھر اسی پیشے میں قدم رکھا، جس سے اُن کے دادا اور والد وابستہ رہے تھے۔
قانون نے انہیں یقیناً یہ سکھلایا کہ بات خواہ کتنی ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو، اسے ایک مرکزی نکتے پر لا کر رکھا جا سکتا ہے اور سیاست نے بعد میں یہ سکھایا کہ اس نکتے کو کس لہجے میں بیان کیا جائے کہ سامنے والا سُن بھی لے اور دلائل سے قائل بھی ہو، مائل بھی۔ یہیں سے عطا تارڑ کی شخصیت کا وہ پہلو نمایاں ہوتا ہے، جو اُنہیں محض ایک روایتی سیاست دان سے ممتاز و ممیّز کرتا ہے، اور وہ ہے، وقت پڑنے پر اُن کا فنِ تقریر، طبیعت کی جولانی، لہجے کی شُعلہ بیانی اور مکالمے کی روانی۔
ان کی طبیعت میں ترجمانی ہے، مکالمہ ہے، جواب ہے، بلکہ بسا اوقات جواب سے پہلے ہی جواب کا اندازہ کر لینے کی ایک خاص سیاسی اُپچ بھی۔ ان کی زبان میں وہ جھجک بالکل دکھائی نہیں دیتی، جو عموماً نوواردانِ بساطِ سیاست کو کیمروں کے سامنے گھیر لیتی ہے۔
2022ء میں جب انہیں حکومتِ پنجاب کا ترجمان بنایا گیا، تو یقین کیجے، یُوں لگا کہ مقرر کو اس کے مزاج کے مطابق میدان مل گیا۔ یہاں یہ واضح کرنا ازحد ضروری ہے کہ سرکاری ترجمانی محض سرکاری بیانات پڑھ دینے کا نام نہیں، یہ ہر روز بدلتے ہوئے سیاسی موسم اور طوفانِ باد و باراں میں اپنی حکومت کے لیے چھتری پکڑنے کا فن ہے۔ کبھی سوالات کی بوچھاڑ، کبھی مخالفین کے حملے، کبھی صحافیوں کی کڑی پوچھ گچھ اور ہاں، ہرطرف کیمرے ہی کیمرے۔ زمانے بھر نے دیکھا کہ عطا صاحب اس شوروغُل سے گھبرانے کی بجائے تسلسُل، تحمّل اور توکّل علی اللہ سے اپنی بات کرتے رہے۔
کچھ دورانیے کے بعد انہیں پنجاب کی کابینہ میں وزیرِ داخلہ کی ذمّےداری بھی ملی۔ پھر وفاقی سطح پر وزیرِاعظم شہبازشریف کے خصوصی معاون بنے اور داخلہ و قانونی امور کی ذمّےداری بھی سنبھالی۔ یہاں تک کے سفر میں ان کی سیاسی شناخت محض ایک مسلم لیگی کارکن کی نہ رہی، وہ حکومت کا ایسا محوِتکلم چہرہ بن چُکے تھے جسے ٹیلی وژن کی اسکرین پر دیکھ کر ناظرین اندازہ کر لیتے کہ آج سیاسی میدان میں کون سا معرکہ درپیش ہے۔ 2024ء کے عام انتخابات میں شان دار کام یابی نے انہیں پنجاب کی سیاسی ترجمانی کے دائرے سے نکال کر قومی اسمبلی کے معزز، موقر، معتبر، مستند اور محترم ایوان میں پہنچا دیا۔
خدائے بزرگ و برتر نے انہیں لاہور کے حلقہ این اے-127 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے کام یابی سے نوازا۔ قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی ان کی رکنیت اسی حلقے سے درج ہے۔ اُن کی شان دار اُٹھان اور اُڑان کی بدولت11 مارچ 2024ء کو میاں محمد شہباز شریف کی وفاقی کابینہ میں وزارتِ اطلاعات و نشریات اُن کے سپرد ہوئی۔
بعدازاں قومی ورثہ و ثقافت کی اضافی ذمّےداری بھی سونپ دی گئی، جو ان کی شخصی و ذاتی صلاحیتوں اور قائدانہ لیاقت و قابلیت پر مزید اعتبار تھا۔ یوں وہ صاحب، جنہوں نے کبھی پنجاب حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے سیاسی سوالوں کے بہترین جوابات دیئے تھے، اب پورے وفاق کی اطلاعاتی مشینری کے سربراہ کی مسند پر متمکّن تھے۔
وزارتِ اطلاعات کا منصب بھی کچھ ایسا ہے کہ آدمی چاہے تو صرف فائلز میں سر دئیے بیٹھا رہے اور چاہے تو ہر روز مُلک کے سیاسی منظرنامے میں سچّے سُچے اعداد و شُمار اور مصدّقہ خبروں کے ذریعے اپنی مسلسل موجودگی درج کرواتا رہے۔ عطا اللہ تارڑ نے دوسری راہ اختیار کی، جو مشکل سہی، مگر مُلک و قوم کے لیے بہترین ہے۔
وزارت سنبھالتے ہی انہوں نے میڈیا اور حکومت کے درمیان تعلق بہتر بنانے اور صحافت کے لیے وزارت کے دروازے کُھلے رکھنے کی بات کی۔ اُن کی شخصیت کی ایک جہت میں کئی جہتیں مجتمع ہوگئی ہیں۔ تعلیم سے وکیل، تربیت سے سیاست دان، منصب سے وزیر اور طبیعت سے ترجمان۔ وکالت انہیں دلیل دیتی ہے، خاندانی پس منظر اعتماد، سیاست ایک پلیٹ فارم اور ترجمانی اظہار کے مواقع۔ اور یہ چاروں چیزیں مل کر انہیں ایک ایسی شخصیت بناتی ہیں کہ جس سے نسلِ نَو کام یابی کے گُر سیکھ سکتی ہے۔
عطا، سیاست کو فاصلے سے دیکھنے کے بجائے اس میں اُترنے اورمُلکی ترقی میں اپنے حصّے کا کردار ادا کرنے کے قائل ہیں۔ ان کے ہاں اختلاف، اختلاف نہیں رہتا، ایک مکالمہ بن جاتا ہے، جس سے بہتری، بھلائی اور فلاح کے کئی راستے نکلتے ہیں۔ گرچہ ابھی یہ اُن کی سیاسی زندگی کا ابتدائی باب ہے، مگر اس مختصر عرصے میں انہوں نے اتنا ضرور ثابت کر دیا ہے کہ وہ پس منظر میں رہنے والے کردار نہیں۔
ان کا میدان سامنے کا میدان ہے، ان کا ہتھیار دلیل کے ساتھ زبان ہے، اور ان کی سیاست میں خاموشی سے زیادہ گفتگو کا حصّہ ہے۔ شاید اسی لیے عطا تارڑ کو سمجھنے کے لیے ان کے عہدوں کی فہرست پڑھنا کافی نہیں۔ انہیں دیکھنے کے لیے ذرا مُلکِ خداداد کی سیاسی گلیوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے، جہاں بات صرف یہ نہیں ہوتی کہ کون کیا کہہ رہا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کس نے کس لہجے میں کہا، کس وقت کہا، اور جواب آنے سے پہلے اگلا جملہ کس کے ذہن میں تیار تھا۔
حال ہی میں امریکا، ایران جنگ میں خدائے عزّوجل کی بزرگی و برتری کے صدقے وطنِ عزیز کوایک صالح ثالث کی حیثیت سے جو عالم گیر عزت، بین الاقوامی توقیر اور عالمی تکریم نصیب ہوئی، اُس میں ہمارے قابلِ صد احترام سپہ سالار، فیلڈ مارشل سیّد عاصم مُنیر اور وزیرِاعظم پاکستان، میاں محمّد شہباز شریف کے ساتھ عطا تارڑ اور اُن کی ٹیم کا بھی بہت عمل دخل تھا کہ جنہوں نے پاکستان کا بیانیہ مُلکوں مُلکوں پھیلانے اور پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ویسے عطا صاحب کی کام یابیوں کی فہرست طویل ہے۔
ہمیں اُنہوں نے ایک بار اپنا ڈیجیٹل کمیونی کیشن ڈیپارٹمنٹ دکھایا کہ جو دنیابھر میں کسی بھی اعلیٰ ترین قومی میڈیا کنٹرول رُوم کے سامنے فخر کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسی عالمی معیار کے چمکتے دمکتے، جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس دفاتر انہوں نے وزارتِ اطلاعات و نشریات میں بھی بنا رکھے ہیں، جنہیں دیکھ کر بین الاقوامی صحافی بھی حیران پریشان رہ جاتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کا حُلیہ مکمل بدل کر اُسے حالیہ حالت میں معیارکی مثال بنا دینے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔
عطا، ٹیلنٹ کو خُوب پہچانتے اور کُشادہ دِلی سے منظرِعام پرلاتے ہیں۔ انہی کی طرف سے کی گئی حوصلہ افزائی کے سبب ناچیز نے کچھ شعر کہے، جو الحمدُللہ ’’یادگارِ فتح‘‘ کے شان دار افتتاح کےموقعے پر پرچم کُشائی کے دوران فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر، صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، تمام منسٹرز اور افواجِ پاکستان کے اعلیٰ افسران کی موجودگی میں پڑھے گئے۔ ؎
دیکھ لے دُنیا ہمارا سبز لہراتا علَم
یادگارِ فتحِ پاکستان ہے اپنا علَم
روز بڑھتی جارہی ہے اِس کی عظمت، اِس کی شان
ہو رہا ہے روز اُونچا، اور بھی اُونچا عَلم
اُمتِ مُسلم کا رکھوالا ہے یہ پرچم مِرا
سب مسلمانوں کے سر کا تاج ہے میرا عَلم
آپ دل پر ہاتھ رکھ کر اِس کو دیکھیں تو سہی
نُور بھر دیتا ہے آنکھوں میں یہ اُجلا سا عَلم
تا قیامت یونہی اس کی روشنی قائم رہے
یادگارِ فتح پر کرتا رہے سایہ علَم
چاند تارا دے رہا ہے ساری دُنیا کو پیام
امنِ عالم کا نشاں ہے میری دھرتی کا علَم
جان بھی ہے، شان بھی ہے، آن بھی ہے، مان بھی
کیوں نہ ہو فارس ہمیں ہر چیز سے پیارا عَلم
صاحبو! عطا صاحب ابھی چالیس ہی کے لگ بھگ ہیں۔ موجودہ رہنماؤں کی محفل میں جہاں بزرگانِ سیاست ہیں، وہیں نوجوانان بھی صفِ اوّل میں ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ معرکۂ حق سے شروع ہونے والی فتحِ مبارک کی داستان اسی نوجوان قیادت کے زیرِ سایہ وطنِ عزیز کو ان شااللہ بہت آگے لے جائے گی۔
اطلاعات و نشریات کے میدان میں پاکستان کا بیان حرفِ حق کے مترادف بن چُکا ہے۔ دُنیا ہماری بات مانتی ہے تو اُس کے پیچھے یقیناً کوئی بات ہے اور اُس میں سے ایک بات موجودہ قیادت میں نوجوانوں کی موجودگی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب جب مُلکی سطح پر نسلِ نَو کی بھرپور نمائندگی کا تذکرہ آئے گا، تو محمّد عطا اللہ تارڑ کا نام سرِ فہرست ہوگا۔
(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)