• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مظلوم و مقہور اقوام کی دست گیری، اقوامِ متحدہ کا بڑا امتحان

تاریخِ عالم تنازعات، تباہ کاریوں اور انسانی المیوں سے بَھری پڑی ہے۔ دو عالمی جنگوں نے انسانیت کو یہ احساس دِلایا کہ اگر اقوام نے باہمی اختلافات مذاکرات اور تعاون کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نہ کی، تو عالمی امن اور ترقّی و خوش حالی کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر ایک ایسے عالمی ادارے کی بنیاد رکھی گئی کہ جو ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے۔

چناں چہ 26 جون 1945ء کو سان فرانسسکو میں اقوامِ متّحدہ کا منشور منظور ہوا اور 24 اکتوبر 1945ء کویو این او باقاعدہ وجود میں آگئی، جب کہ آج اس کے 193 رُکن ممالک ہیں۔ اقوامِ متّحدہ کے بنیادی مقاصد میں عالمی امن و سلامتی کا قیام، ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کا فروغ، بین الاقوامی تنازعات کا پُرامن حل، انسانی حقوق کا تحفّظ اور اقتصادی و سماجی مسائل کے حل کے لیے عالمی تعاون وغیرہ شامل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا منشور ریاستوں کی خُود مختاری اور مساوات کے اصولوں پر بھی زور دیتا ہے۔

گرچہ اس نے اپنے قیام کے بعد دُنیا کے مختلف خطّوں میں انسانی بہبود کے ضمن میں اہم کردار ادا کیا۔ جنگوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی، مہاجرین کی مدد، صحت، تعلیم، غُربت کے خاتمے، بچّوں اور خواتین کے حقوق اور ماحولیاتی تحفّظ جیسے شُعبوں میں اقوامِ متّحدہ اور اس کے ذیلی ادارے مسلسل کام کررہے ہیں۔

تاہم، ہر دَور میں اقوامِ متّحدہ کی کارکردگی پر سوالات بھی اُٹھتے رہتے ہیں، خاص طور پر سلامتی کاؤنسل کا ’’ویٹو پاور‘‘ کا نظام اکثر عالمی سیاست میں موضوعِ بحث رہتا ہے۔ یاد رہے، سلامتی کاؤنسل کے پانچ مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جس کے باعث بعض اہم عالمی معاملات میں متفقہ کارروائی مشکل ہوجاتی ہے۔

اکتوبر 2026ء میں جنرل اسمبلی میں ویٹو کے استعمال پر دوبارہ باقاعدہ بحث بھی ہوئی، جو اس مسئلے کی اہمیت ظاہر کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود اقوامِ متّحدہ کو مکمل طور پر ناکام ادارہ قرار دینا دُرست نہیں ہوگا۔ یہ دنیا کا ایسا منفرد پلیٹ فارم ہے، جہاں چھوٹی اور بڑی ریاستیں ایک ہی عالمی فورم پر اپنے مؤقف پیش کرتی اور مشترکہ مسائل پر گفتگو کرتی ہیں۔

24 اکتوبر 1945ء کو جب اقوامِ متحدہ کا قیام عمل میں آیا، تو اُس وقت دُنیا ایک ہول ناک جنگ کے زخم سہلا رہی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم نےکروڑوں انسانوں کی جانیں لے لی تھیں، سیکڑوں شہرکھنڈرات میں تبدیل ہوچُکے تھے اور انسانیت ایک ایسے عالمی نظام کی متلاشی تھی کہ جو مستقبل میں جنگوں، قبضوں، نسل کُشی اور طاقت کے بےلگام استعمال کو روک سکے۔ اسی پس منظر میں اقوامِ متّحدہ کا قیام عمل میں آیا اور اس کے منشور میں عالمی امن، انسانی حقوق، بین الاقوامی تعاون، حقِ خُودارادیت اور انصاف کو بنیادی اصول قرار دیا گیا۔

آج اقوامِ متّحدہ کے 193 رُکن ممالک ہیں اوراسے دُنیا کا سب سے بڑا نمائندہ بین الاقوامی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران اس ادارے نے صحت، تعلیم، غُربت کے خاتمے، انسانی امداد، پناہ گزینوں کی مدد اور امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کیا لیکن اسی کے ساتھ ایک سوال بھی مسلسل اُٹھتا رہا ہے کہ اگر اقوامِ متّحدہ کے قیام کا مقصد دُنیا میں امن قائم کرنا ہے، تو پھر فلسطین، کشمیر، بوسنیا، میانمار اور دیگر مسلم آبادیوں سے متعلق تنازعات دہائیاں گزرنے کے باوجود کیوں حل نہیں ہو سکے؟

یہ سوال صرف عوامی سطح ہی پر نہیں، سیاسی، سفارتی اور علمی حلقوں میں بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ مسلم دنیا کے بہت سے دانش وَر، سفارت کار اورسیاسی رہنما اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ 57 مسلم اکثریتی ممالک، جو دُنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی اور وسیع جغرافیائی رقبے کی نمائندگی کرتے ہیں، اقوامِ متّحدہ کے اہم ترین فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کرنے سے کیوں قاصر ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اقوامِ متّحدہ کا ڈھانچا بظاہر جمہوری دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی اصل طاقت سلامتی کاؤنسل میں مرتکز ہے۔ گرچہ اقوامِ متّحدہ جنرل اسمبلی میں تمام ممالک کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، مگر اس کے بیش تر فیصلے محض سفارشات کی حیثیت رکھتے ہیں، جب کہ اس کے برعکس سلامتی کاؤنسل کے فیصلے بین الاقوامی قانون کے تحت زیادہ مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔

سلامتی کاؤنسل کے پانچ مستقل اراکین امریکا، رُوس، چین، برطانیہ اور فرانس ہیں۔ ان ممالک کو ’’ویٹو پاور‘‘ حاصل ہے۔ یعنی اگر دُنیا کے باقی تمام ممالک کسی قرارداد کی حمایت بھی کردیں لیکن اگر مذکورہ بالا مستقل اراکین میں سے ایک بھی اس کی مخالفت کردے، تو وہ قرارداد منظور نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ نظام ہے کہ جسے اقوامِ متّحدہ کی سب سے بڑی کم زوری اور سب سے بڑی طاقت دونوں قرار دیا جاتا ہے۔

اس نظام کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اقوامِ متّحدہ میں دوسری جنگِ عظیم کے فاتح ممالک کو خصوصی حیثیت دینا عالمی استحکام کے لیے ضروری تھا، کیوں کہ ان طاقتوں کی رضامندی کے بغیر کوئی عالمی نظام کام یاب نہیں ہو سکتا تھا۔ دوسری جانب ناقدین یہ کہتے ہیں کہ یہی ڈھانچا اقوامِ متّحدہ کو منصف کی بجائے طاقت وَر ممالک کے مفادات کا محافظ ادارہ بنا دیتا ہے۔

مسئلۂ فلسطین، اس تنقید کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ 1948ء سے لے کر آج تک فلسطینی عوام اپنی ریاست، خودمختاری اور بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینی باشندوں کے حقوق کے حق میں متعدد قراردادیں منظور کیں، لیکن جب معاملہ سلامتی کاؤنسل میں پہنچا، تو کئی مواقع پر ’’ویٹو پاور‘‘ نے فیصلہ کُن کارروائی کو روک دیا۔

فلسطین سے ہم دردی رکھنے والے طبقات اس عمل کو اقوامِ متّحدہ کے دُہرے معیار کی مثال قرار دیتے ہیں، جب کہ دوسری جانب اقوامِ متّحدہ کے حامی یاد دِلاتے ہیں کہ فلسطینی مہاجرین کی مدد کے لیے قائم ادارہ، ’’یو این آر ڈبلیو اے‘‘ گزشتہ کئی دہائیوں سے لاکھوں فلسطینیوں کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ ادارے کی نیّت نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے باہمی سیاسی اختلافات ہیں۔

اسی طرح مقبوضہ کشمیر کا تنازع بھی اقوامِ متّحدہ کے مؤثر ہونے کی صلاحیت پر سوالات اُٹھاتا ہے۔ 1948ء اور 1949ء میں سلامتی کاؤنسل نے ایسی قراردادیں منظور کیں کہ جن میں کشمیری عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے استصوابِ رائے پر زور دیا گیا۔ تاہم، مختلف سیاسی، قانونی اور سفارتی پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ قراردادیں آج تک نافذ نہیں ہو سکیں۔

پاکستان میں اکثر یہ سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ اگر اقوامِ متّحدہ نے مذکورہ بالا قراردادیں منظور کی تھیں، تو ان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو سکا؟ اس سوال کا جواب بین الاقوامی سیاست کے اسی اصول میں پوشیدہ ہے کہ اقوامِ متّحدہ کے پاس اپنی مستقل فوج یا ایسا طاقت وَرنظام موجود نہیں ہے کہ جو کسی خودمختار ریاست کو اپنے فیصلے ماننے پرمجبورکرسکے۔ ادارے کی قوّت دراصل رُکن ممالک کی اجتماعی سیاسی خواہش پر منحصر ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں، اسلامی دُنیا میں بوسنیا کا سانحہ بھی اقوامِ متّحدہ کے ضمن میں ایک تلخ یاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ 1990ء کی دہائی میں بوسنیائی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور ’’سربرینیتسا کے قتلِ عام‘‘ نے اقوامِ متّحدہ کی امن فوج اور عالمی برادری کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔ بہت سے ناقدین کے نزدیک وہ ایک ایسا وقت تھا کہ جب اقوامِ متّحدہ اپنے بنیادی مقصد یعنی معصوم جانوں کے تحفّظ میں ناکام نظر آئی۔

اِسی طرح شام، یمن، سوڈان اور غزہ کے حالیہ بُحرانوں نے بھی اس عالمی ادارے کی محدود صلاحیتوں کو نمایاں کیا ہے۔ یمن میں لاکھوں افراد غذائی قلّت، بیماریوں اور نقل مکانی کا شکار ہوئے۔ شام میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ نے پورے خطّے کو شدید متاثر کیا۔ سوڈان میں جاری تنازعات نے لاکھوں لوگوں کو بےگھر کر دیا اور غزہ میں تقریباً ایک لاکھ سے زائد شہادتیں ہوئیں۔ ان تمام بُحرانوں میں اقوامِ متّحدہ انسانی امداد فراہم کرنے میں تو سرگرم رہی لیکن سیاسی حل نکالنے میں محدود کام یابی ہی حاصل کر سکی۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی دُنیا کے بہت سے حلقے یہ تاثر رکھتے ہیں کہ اقوامِ متّحدہ ظلم روکنے کی بجائے صرف اس کے سنگین مضرّات پر قابو پانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ پھر ایک اہم سوال یہ بھی ہےکہ 57 مسلم اکثریتی ممالک ہونے کے باوجود کوئی ایک مسلمان مُلک بھی سلامتی کاؤنسل کا مستقل رکن کیوں نہیں بن سکا؟ اس سوال کا جواب ہمیں تاریخ میں ملتا ہے۔ جب اقوامِ متّحدہ قائم ہوئی، تو بیش تر اسلامی ممالک یا تو نوآبادیاتی تسلّط کے تحت تھے یا عالمی سیاست میں فیصلہ کُن حیثیت نہیں رکھتے تھے۔

نتیجتاً، مستقل نشستیں اُن ممالک کو ملیں کہ جو دوسری جنگِ عظیم کے فاتح اور بڑی عسکری طاقت تھے۔ بعد ازاں، دُنیا کا نقشہ تبدیل ہوا، درجنوں نئے ممالک وجود میں آئے، اقتصادی طاقت کا توازن بدلا اور کئی اسلامی ممالک علاقائی اثر و رسوخ حاصل کرنے میں کام یاب ہوئے مگر سلامتی کاؤنسل کا بنیادی ڈھانچا تقریباً وہی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ بھارت، برازیل، جرمنی، جاپان اور افریقی ممالک بھی سلامتی کاؤنسل میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اقوامِ متّحدہ کو صرف اسلامی دنیا کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ یوکرین، روانڈا، کانگو، قبرص، شمالی کوریا اور دُنیا کے کئی دیگر تنازعات بھی اس امرکی مثال ہیں کہ یہ ادارہ ہر جگہ یک ساں کام یاب نہیں رہا۔ متعدد ماہرین کے مطابق اقوامِ متّحدہ کا اصل مسئلہ مذہبی یا تہذیبی تعصّب نہیں بلکہ یہ طاقت کے عالمی توازن سے جُڑا ہوا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا ایک بڑا طبقہ یہ مؤقف رکھتا ہے کہ اقوامِ متّحدہ کسی مخصوص مذہب یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ اپنے رُکن ممالک، خصوصاً بڑی طاقتوں کی سیاسی ترجیحات کے تابع ہے۔

جب بڑی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں، تو یہ ادارہ مفلوج ہو جاتا ہے اور ’’ویٹو پاور‘‘ اسی تعطّل کی سب سے بڑی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے اقوامِ متّحدہ میں اصلاحات پر زور دیا جا رہا ہے۔ متعدد ممالک چاہتے ہیں کہ سلامتی کاؤنسل میں مستقل نشستوں کی تعداد بڑھائی جائے، ترقّی پذیر ممالک کو زیادہ نمائندگی دی جائے اور ’’ویٹو پاور‘‘ کا استعمال محدود کیا جائے۔ گرچہ اس حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں لیکن اب تک اہم اصلاحات عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں۔

اس موقعے پر اسلامی دُنیا کے لیے اصل سوال شاید یہ نہیں کہ اقوامِ متّحدہ اُمّتِ مسلمہ کے خلاف ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا اسلامی ممالک خُود اتنے متحد اور مؤثر ہیں کہ اپنے اجتماعی مفادات کا دفاع کر سکیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دُنیا اندرونی سیاسی اختلافات، علاقائی تنازعات اور معاشی چیلنجز کا شکار رہی ہے اور کئی مواقع پر اسلامی ممالک خُود بھی ایک مشترکہ مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہے۔

فلسطین، شام، لیبیا، یمن اور دیگر مسائل پر اسلامی ممالک کے مختلف اور بعض اوقات متضاد مؤقف اس حقیقت کوواضح کرتے ہیں۔ اقوامِ متّحدہ کی کم زوریوں کے ساتھ ساتھ اُمتِ مسلمہ کی سیاسی تقسیم بھی ایک اہم عُنصر ہے۔ تاہم، اس کے باوجود اقوامِ متّحدہ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔

یہی وہ فورم ہے کہ جہاں چھوٹے بڑے ممالک ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہی وہ ادارہ ہے کہ جو انسانی امداد، پناہ گزینوں کی دیکھ بھال، عالمی صحت، ماحولیاتی تبدیلی اور پائے دار ترقّی جیسے شُعبوں میں غیر معمولی خدمات انجام دیتا ہے۔ اگر اقوامِ متّحدہ موجود نہ ہوتی، تو دُنیا شاید مزید انتشار اور بے یقینی کا شکار ہوتی۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ انصاف کے بغیر امن قائم نہیں رہ سکتا۔

فلسطین، کشمیر اور دیگر دیرینہ تنازعات اس بات کی یاد دہانی کرواتے ہیں کہ اس عالمی ادارے کو مزید منصفانہ اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے، جب تک اقوامِ متّحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے اصلاحات نہیں کرتے، ان میں طاقت وَر اور کم زور ممالک کے لیے یک ساں اصول نافذ نہیں کیے جاتے، تب تک دُنیا کے کروڑوں مظلوم خُود کو عالمی انصاف کے نظام سے محروم ہی محسوس کرتے رہیں گے۔

اقوامِ متّحدہ کو قائم ہوئے آٹھ عشرے مکمل ہوچُکے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک اہم ادارہ ہے، جس نے بہت سی کام یابیاں حاصل کیں مگر اس کے سامنے ابھی بھی بڑے بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ یہاں یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا یہ ادارہ خُود کو اکیسویں صدی کےتقاضوں کے مطابق ڈھال سکے گا؟

کیا سلامتی کاؤنسل میں اصلاحات ممکن ہوں گی؟ کیا ’’ویٹو پاور‘‘ کے نظام پر نظرِ ثانی ہوگی؟ اور کیا فلسطین، کشمیر اور دیگر دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے عالمی برادری حقیقی سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں، جن کے جوابات صرف اقوامِ متّحدہ ہی نہیں، پوری عالمی برادری کو مل کے تلاش کرنے ہوں گے، کیوں کہ اقوامِ متّحدہ دراصل دُنیا کے ممالک ہی کا عکس ہے۔

اگر دُنیا انصاف چاہتی ہے، تواسے اپنےعالمی اداروں کو بھی انصاف پر مبنی بنانا ہوگا۔ یہی اقوامِ متّحدہ کا سب سے بڑا امتحان اور انسانیت کی سب سے بڑی امید ہے۔ دوسری جانب آج دُنیا کو جنگ، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، غُربت، مہاجرین، غذائی بُحران، سائبر خطرات اور مصنوعی ذہانت جیسے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں اقوامِ متّحدہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

تاہم، اس ادارے کو مؤثر بنانے کے لیے عالمی طاقتوں کو ذاتی اور قومی مفادات سے بالاتر ہوکر انصاف، مساوات اور حقیقی بین الاقوامی تعاون کے اصولوں کو ترجیح دینا ہوگی۔ اقوامِ متّحدہ کا قیام، امن کی ایک عالمی امید کے طور پر عمل میں آیا تھا اور اس امید کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی ادارہ صرف طاقت وَر ممالک کے مفادات کا ترجمان نہ ہو بلکہ کم زور اقوام، مظلوم انسانوں اور عالمی انصاف کی بھی مؤثر آواز بنے اور یہی اقوامِ متّحدہ کے مستقبل کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید