عالمی شہرت یافتہ شہنشاہِ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کی 78 ویں سالگرہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں عقیدت و احترام سے منائی گئی۔
اس موقع پر ان کے بھتیجے، شاگردِ خاص اور معروف گلوکار استاد راحت فتح علی خان نے اپنے صاحبزادے شاہ زمان فتح علی خان کے ہمراہ خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں پاکستان اور بھارت سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی خصوصاً سکھ برادری کے افراد سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی اور استاد نصرت فتح علی خان کو موسیقی کے لیے غیر معمولی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کا ایک اہم پہلو سوال و جواب کی نشست تھی، جس میں پاکستانی اور بھارتی کمیونٹیز کے شرکاء نے استاد راحت فتح علی خان سے موسیقی، قوالی، پاک بھارت تعلقات اور استاد نصرت فتح علی خان کی فنی میراث سے متعلق سوالات کیے۔
اس موقع پر استاد راحت فتح علی خان نے امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، ہم سب امن، محبت اور آشتی چاہتے ہیں اور یہی ہمارا پیغام ہے، موسیقی سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی، اس کی کوئی جغرافیائی حدود نہیں ہوتیں اور نہ ہی اسے مذہب، زبان یا قومیت کی بنیاد پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوالی کی روایت صدیوں سے انسانوں کو محبت اور روحانی وابستگی کے رشتے میں جوڑتی آئی ہے، دنیا بھر میں اپنی موسیقی اور قوالی کے ذریعے امن، آشتی، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام عام کرنے کے مشن پر گامزن ہوں۔
راحت فتح علی خان نے کہا کہ میں جہاں بھی جاؤں گا، میری آواز اور میرا فن کا پیغام محبت اور امن ہی رہے گا، کیونکہ موسیقی انسانوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور دلوں کو قریب لانے کا ذریعہ ہے۔
بعد ازاں جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے استاد راحت فتح علی خان نے اپنے استاد اور چچا نصرت فتح علی خان سے وابستہ یادوں کو تازہ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ میں نے استاد نصرت فتح علی خان کی صحبت اور شاگردی میں زندگی کی کئی دہائیاں گزاریں اور ان کی عظمت، شخصیت اور فنی خدمات بیان کرنے کے لیے ایک نہیں بلکہ کئی راتیں بھی کم پڑ جائیں گی۔
راحت فتح علی خان نے بتایا کہ استاد نصرت فتح علی خان سے مجھے موسیقی کے ساتھ بزرگوں اور سینئر فنکاروں کے احترام کا ایک اہم سبق بھی ملا۔
ان کے بقول خان صاحب ہمیشہ یہ نصیحت کرتے تھے کہ کوئی فنکار مرتبے، شہرت یا مقام میں آپ سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ عمر میں بڑا ہے تو اس کی عزت اور تعظیم کرنا ضروری ہے، بزرگوں کا احترام اور اپنے سے سینئر فنکاروں کی قدر کرنا وہ درس ہے جسے میں نے اپنی زندگی کا اصول بنایا اور اب اپنی اگلی نسل کو بھی منتقل کر رہا ہوں۔
تقریب میں استاد راحت فتح علی خان کے صاحبزادے اور موسیقی کی اس خاندانی روایت کی نئی نسل کے نمائندے شاہ زمان فتح علی خان بھی توجہ کا مرکز رہے، ان کی آواز اور گائیکی میں استاد نصرت فتح علی خان کی جھلک محسوس کیے جانے کے حوالے سے شرکاء نے خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔
جیو نیوز سے گفتگو کے دوران جب شاہ زمان فتح علی خان سے سوال کیا گیا کہ موسیقی کے شائقین ان کی آواز کو استاد نصرت فتح علی خان کی آواز سے مشابہ قرار دیتے ہیں تو انہوں نے نہایت عاجزی سے کہا کہ میں خود کو استاد نصرت فتح علی خان کی خاک کے برابر بھی نہیں سمجھتا، تاہم اگر لوگوں کو میری آواز میں اس عظیم فنکار کی جھلک محسوس ہوتی ہے تو یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز اور حوصلہ افزائی کی بات ہے۔
شاہ زمان کا کہنا ہے کہ میں اپنے خاندان کی موسیقی اور قوالی کی روایت کو آگے بڑھانے کے لیے بھرپور محنت کر رہا ہوں، جس طرح میرے والد استاد راحت فتح علی خان نے استاد نصرت فتح علی خان کے بعد اس عظیم فنی ورثے کو سنبھالا اور دنیا بھر میں ان کا نام روشن کیا، اسی طرح اب مجھ پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ اس روایت کو نئی نسل تک منتقل کروں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خاندان کی قوالی کی روایت تقریباً 3 سو سال پرانی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس تاریخی ورثے کے تسلسل میں اپنا کردار ادا کروں۔
شاہ زمان نے اپنی آواز کو پسند کرنے والے شائقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں بھرپور محنت اور لگن کے ساتھ اپنی خاندانی روایت کو آگے بڑھانے کی کوشش کروں گا اور اس سفر میں سب کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔
سالگرہ کی تقریب میں استاد راحت فتح علی خان اور شاہ زمان فتح علی خان نے استاد نصرت فتح علی خان کی یاد میں سُر بھی چھیڑے۔
اس موقع پر حاضرین کی خصوصی فرمائش پر استاد نصرت فتح علی خان کا گایا ہوا آخری سہرا بھی گنگنایا گیا، جس پر شرکاء نے بھرپور داد دی۔
تقریب میں معروف نیشنل پروموٹر امیر مکھانی، ریحان صدیقی سمیت پاکستانی اور بھارتی کمیونٹی کی سیاسی، سماجی، کاروباری اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پر استاد نصرت فتح علی خان کی سالگرہ کا خصوصی کیک کاٹا گیا، جبکہ استاد راحت فتح علی خان نے شرکاء کو اپنے ہاتھوں سے کیک بھی کھلایا، حاضرین نے استاد نصرت فتح علی خان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی یادوں کو تازہ کیا۔
استاد راحت فتح علی خان ان دنوں امریکا اور کینیڈا کے مختلف شہروں میں کنسرٹس کے سلسلے میں موجود ہیں، تاہم انہوں نے اپنے صاحبزادے کے ہمراہ خصوصی طور پر ڈیلس کی کمیونٹی کے ساتھ اپنے استاد کی سالگرہ منانے کے لیے وقت نکالا۔
انہوں نے بتایا کہ اس خصوصی تقریب کا مقصد استاد نصرت فتح علی خان کی یادوں کو تازہ کرنا اور مقامی کمیونٹی کو اس خوشی کے موقع میں شریک کرنا تھا۔
واضح رہے کہ استاد راحت فتح علی خان کا ڈیلس کے علاقے فریسکو میں کنسرٹ بھی 16 اکتوبر کو شیڈول ہے، تاہم اس سے قبل استاد نصرت فتح علی خان کی سالگرہ کے موقع پر یہ خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔
تقریب میں موجود پاکستانی اور بھارتی کمیونٹی کے افراد، خصوصاً سکھ برادری نے استاد نصرت فتح علی خان کو مشترکہ ثقافتی ورثے کا ایک عظیم فنکار قرار دیا، جن کی آواز آج بھی برصغیر کے کروڑوں افراد کے دلوں میں زندہ ہے۔
استاد نصرت فتح علی خان کو دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً 3 دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر ان کی آواز کا سحر آج بھی برقرار ہے، ڈیلس میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اس حقیقت کی عکاس تھی کہ فن اور موسیقی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
استاد راحت فتح علی خان سے ان کے صاحبزادے شاہ زمان فتح علی خان تک قوالی کی یہ تاریخی میراث نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے اور محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام دنیا بھر میں پہنچا رہی ہے۔