وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا اور اسپیکر جہاں بھی ہیں خیر خیریت سے ہیں اور کسی بھی شخص کو غائب نہیں کیا گیا، وہ زیرِ حراست ہیں۔
اسلام آباد میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ پی ٹی آئی خود چیخ رہی ہے کہ ان کے فیصلے کون کرتا ہے، ہمارے ساتھ بیٹھے لوگ مذاکرات سے قبل کہتے رہے کہ ہم اختیار لے کر آئے ہیں۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن والے مذاکرات کے دوران لمبی لمبی فون کالز کرتے تھے اور دوسرے کمرے میں جا کر رابطے کرتے تھے اور جن کو کالز کی جاتی تھیں وہ بھی آگے سے اجازت لیتے تھے۔
طلال چوہدری نے کہا ہے کہ دونوں وزرائے اعلیٰ مراد سعید کی نامزدگی کی وجہ سے بنائے گئے تھے، ظاہر ہے جو وزیرِ اعلیٰ لگوائے گا تو فیصلے اسی کی مشاورت سے ہوں گے اور ساری جماعتوں میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جن پر قیادت اندھا اعتماد کرتی ہے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا کے عوام چاہتے ہیں کہ وہاں دہشت گردی ختم ہو، کسی کو ناجائز گرفتار نہیں کیا جائے گا اور کوئی کسی مقدمے میں مطلوب ہے تو ادارے معمول کی قانونی کارروائی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے زیادہ تر لوگ خود چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی سیاسی کور ملے اور پی ٹی آئی کے زیادہ ارکان خود چھپے ہوئے ہیں۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے یہ بھی کہا ہے کہ لوگ پی ٹی آئی ارکان کے ساتھ نہیں نکلے، اب وہ فیس سیونگ چاہتے ہیں، ہمیں کسی کو غیر ضروری طور پر گرفتار رکھنے کی ضرورت نہیں، اب کوئی خود سے چھپا ہے یا خود سے کہانیاں بنا رہا ہے تو اسے کچھ نہیں کہہ سکتے۔