• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیلفی سے کینسر کے مریض کی بقا کا اندازہ لگانے والی نئی ٹیکنالوجی تیار کر لی گئی

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

امریکا میں سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا الگورتھم تیار کیا ہے، جو مریض کے چہرے کی صرف ایک تصویر کا تجزیہ کر کے کینسر میں مبتلا افراد کے زندہ رہنے کے امکانات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی فی الحال ڈاکٹروں کا متبادل نہیں بن سکتی۔

یہ ٹیکنالوجی امریکا کے ریسرچ نیٹ ورک میساچوسٹس جنرل بریگھم کے محققین نے تیار کی ہے، جسے 4 کروڑ سے زائد چہروں کی تصاویر کی مدد سے تربیت دی گئی ہے، جبکہ 30 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں کی تصاویر اور طبی معلومات کے ذریعے اس کی جانچ کی گئی۔

تحقیقی جریدے ’دی لینسیٹ ڈیجیٹل ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ نظام چہرے کی انتہائی باریک خصوصیات کا تجزیہ کرتا ہے، جو کسی شخص کی جسمانی حالت اور حیاتیاتی عمر سے متعلق معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

اس مقصد کے لیے 2 ٹولز تیار کیے گئے ہیں، جن کے نام ’ایف اے ایچ آر فیس ایج‘ اور ’ایف اے ایچ آر فیس سروائیول‘ ہیں۔

پہلا ٹول کسی شخص کی ظاہری حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگاتا ہے، یعنی اس کا جسم عمر کے لحاظ سے کتنا بوڑھا دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسرا ٹول پہلے سے کینسر میں مبتلا مریضوں کے چہرے کی خصوصیات کا تجزیہ کر کے ان کی بقا کے امکانات کی پیش گوئی کرتا ہے۔

محققین کے مطابق آنکھوں کے نیچے اور ناک کی درمیانی ہڈی کے اطراف کا حصہ بقا کے امکانات سے متعلق پیش گوئی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ تمباکو نوشی، الکحل کا زیادہ استعمال اور منشیات کا استعمال چہرے پر قبل از وقت بڑھاپے کی علامات سے وابستہ ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی کسی شخص میں کینسر کی تشخیص نہیں کرتی اور نہ ہی یہ بتاتی ہے کہ کوئی مریض کب تک زندہ رہے گا، اس کے بجائے یہ مریضوں کے گروہوں میں ایسے نمونوں کی نشاندہی کرتی ہے جن کا بقا کے مختلف نتائج سے تعلق ہو سکتا ہے۔

محققین کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو یہ اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ آیا کوئی مریض سخت اور پیچیدہ علاج برداشت کرنے کے لیے جسمانی طور پر موزوں ہے یا نہیں۔

آزاد ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی ایسی معلومات بھی فراہم کرتی ہے جو ڈاکٹر معمول کے طبی معائنے سے حاصل نہیں کر سکتے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں روزمرہ طبی استعمال سے قبل اس نظام کی مزید جانچ اور تحقیق ضروری ہے۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید