• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دماغ پڑھنے والی مصنوعی ذہانت تیار، دیکھی گئی تصاویر دوبارہ تخلیق کرنے کی صلاحیت

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

 سائنسدانوں نے ایسا مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کر لیا جو کسی فرد کے دماغ میں ہونے والی سرگرمی کی بنیاد پر یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ شخص کیا دیکھ رہا ہے اور اس کی تصویر دوبارہ تخلیق کر سکتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو برین آئی ٹی کا نام دیا گیا ہے، جسے وائزمان انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے محققین نے تیار کیا ہے۔

 تحقیق کے دوران فنکشنل ایم آر آئی اسکینز کے ذریعے مختلف تصاویر دیکھتے وقت افراد کے دماغ میں پیدا ہونے والی سرگرمی کے مخصوص نمونوں کی نشاندہی کی گئی۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ یہ ٹیکنالوجی مختلف اشیاء، کھانے، چہروں، مناظر اور دیگر پیچیدہ بصری مناظر کی قابلِ شناخت تصاویر دوبارہ تخلیق کرنے میں کامیاب رہی۔

اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو بعض اوقات ’ذہن پڑھنے‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، تاہم Brain-IT کسی شخص کے دماغ میں موجود خیالات کو ازخود نہیں پڑھتا، اس کے لیے فرد کا ایم آر آئی اسکینر کے اندر موجود ہونا اور ایک تصویر دیکھنا ضروری ہے، اس دوران دماغ میں پیدا ہونے والی سرگرمی کی بنیاد پر نظام اس تصویر کی ایک تخمینی شکل تیار کرتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی ایک اہم خصوصیت نئے افراد کے دماغی نمونوں کے مطابق تیزی سے خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ہے، پرانے طریقوں میں کسی نئے فرد سے مفید نتائج حاصل کرنے کے لیے کئی گھنٹوں کے دماغی اسکین ڈیٹا کی ضرورت ہوتی تھی، جبکہ Brain-IT کو نئے فرد کے بارے میں سیکھنے کے لیے تقریباً ایک گھنٹہ درکار ہوتا ہے۔

محققین نے یہ کامیابی مختلف افراد کے دماغ میں موجود مشترکہ نمونوں پر توجہ مرکوز کر کے حاصل کی۔

انہوں نے دماغی سرگرمی کو ہزاروں انتہائی چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا اور ان میں ایسے سگنلز کی نشاندہی کی جو بصری خصوصیات، جیسے رنگ اور مقام کے ساتھ ساتھ چہروں، کھانے اور کھیلوں جیسی اعلیٰ سطح کی درجہ بندیوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید