امریکی سائنس دانوں نے ایسی منفرد ٹیٹو سیاہی تیار کرلی ہے جسے مختلف روشنی کے ذریعے آن اور آف کیا جاسکتا ہے، جس سے مستقل ٹیٹو کے تصور میں تبدیلی آسکتی ہے۔
یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر کے محققین کی تیار کردہ اس ٹیکنالوجی کو فوٹو ٹیٹ (PhotoTat) کا نام دیا گیا ہے، اس میں روشنی سے رنگ تبدیل کرنے والے مادوں کو طبی استعمال کے لیے موزوں پلاسٹک پولی میتھائل میتھاکریلیٹ کے نینو ذرات میں بند کیا گیا ہے۔
یہ سیاہی عام روشنی میں نظر نہیں آتی، تاہم بالائے بنفشی روشنی پڑنے پر چند سیکنڈ میں نیلے، گلابی اور پیلے رنگوں میں نمایاں ہوجاتی ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور بایومیڈیکل انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کارسن برنز کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسا ٹیٹو بنانا ممکن ہوگا جسے ضرورت پڑنے پر روشنی کی مدد سے چھپایا جاسکے۔
روشنی کی صورتحال کے مطابق ٹیٹو کے رنگ کئی گھنٹوں سے کئی دنوں تک برقرار رہ سکتے ہیں، تاہم تیز دھوپ میں یہ تیزی سے غائب ہوجاتے ہیں۔
کارسن برنز نے خود بھی اپنی ٹانگ پر مچھلی کے چھلکے کی شکل کا ٹیٹو بنا کر اس ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا۔
ان کے مطابق 2 سال سے زائد عرصے کے دوران انہیں اس کے استعمال سے کوئی مضر اثرات پیش نہیں آئے۔
اس ٹیکنالوجی سے طبی مریضوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے، ریڈی ایشن تھراپی لینے والے بعض مریضوں کے جسم پر مستقل ٹیٹو بنائے جاتے ہیں، جو انہیں علاج کے تکلیف دہ تجربات کی یاد دلا سکتے ہیں۔
فوٹو ٹیٹ کے ذریعے ایسے نشانات کو صرف طبی معائنے کے دوران نمایاں کیا جاسکے گا۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس سیاہی کے محفوظ ہونے کی تصدیق کے لیے مزید تجربات ضروری ہیں، اس کے زہریلے اثرات اور جراثیم سے پاک ہونے کے حوالے سے الگ الگ جانچ کرنا ہوگی۔
اس کے علاوہ بار بار رنگ ظاہر اور غائب کرنے سے سیاہی وقت کے ساتھ متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ استعمال کرنے والوں کو باہر نکلتے وقت سن اسکرین لگانے کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جامنی رنگ کی سیاہی فی الحال 100 ڈالر فی چھوٹی شیشی کے حساب سے دستیاب ہے، جبکہ دیگر رنگوں پر کام جاری ہے۔