وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کابینہ کی سب کمیٹی برائے میر رضا کیس کے اراکین نے ملاقات کی، ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا کیس میں جے آئی ٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔
ترجمان وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ کمیٹی اراکین نے ابتدائی سفارشات وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردیں۔
کمیشن کی رائے کے بعد متعلقہ ایس ایچ اوز، انویسٹی گیشن افسر کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا، جبکہ جوڈیشنل کمیشن کی سفارشات پر مکمل عملدر آمد کیا جائے گا۔
اس سے قبل میر رضا قتل سے متعلق کمیشن رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت ذیلی کمیٹی کے کنوینر وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کی۔
ترجمان کے مطابق کمیٹی نے کمیشن رپورٹ کے نتائج اور ان پر عمل درآمد کے طریقۂ کار پرمشاورت کی، اجلاس میں رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔
ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ کمیٹی اپنی سفارشات جلد از جلد وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی جوڈیشنل کمیشن نے موت کو خودکشی قرار دینے کے ابتدائی پولیس موقف پر سوالات اٹھا دیے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ میر رضا کی موت خودکشی نہیں قتل تھا، گولی کا راستہ، غیر معمولی مقام، خون کی عدم موجودگی خودکشی کی نفی کرتے ہیں۔
کمیشن کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ لاش کی حالت، تیزاب سے جلنے کے نشانات، خون میں بے ہوشی کی دوا کی موجودگی خودکشی کی نفی کرتے ہیں۔ اگر مان لیا جائے گولی سامنے سے لگی تو یہ مطلب نہیں کہ کسی کو سامنے سے گولی مار کر قتل نہیں کیا جا سکتا۔
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کیس کی رپورٹ 15 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو پیش کی تھی، صوبائی کابینہ کے فیصلے کے بعد رپورٹ پبلک کردی گئی ہے۔
رپورٹ میں کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں میر رضا قتل کیس میں پولیس تفتیش میں سنگین کوتاہیوں کا اعتراف کیا گیا ہے اور کیس میں شواہد کے تحفظ اور پولیس تفتیش کے طریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
ایگزیکٹو سمری میں کہا گیا کہ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ پشت سے لگنے والی گولی کا زخم قرار دیا۔
رپورٹ میں میر رضا قتل کیس کی مزید تحقیقات کےلیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی گئی اور تجویز دی کہ اس میں آئی ایس آئی، آئی بی، پاکستان رینجرز سندھ اور سائبر کرائم ایجنسی کے نمائندے شامل کیے جائیں۔
جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں پولیس اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات کےلیے ایف آئی اے کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے اور قصور وار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ شواہد متاثر ہونے کے باعث میر رضا کیس کی سخت اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں، پولیس کے بروقت معلومات فراہم نہ کرنے سے عوامی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں پولیس کی تفتیش میں سنگین خامیوں، ناقص نگرانی اور پیشہ وارانہ کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی جبکہ ابتدائی مراحل میں ممکنہ شواہد چھپانے کے پہلو کو بھی نظر انداز نہ کرنے کی سفارش کی گئی۔
رپورٹ میں کیس میں عوامی اعتماد کی بحالی کےلیے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں، انکوائری رپورٹ میں خودکشی کے مؤقف اور میڈیکو لیگل شواہد کے درمیان تضاد کی نشاندہی بھی کی گئی۔
کمیشن رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈاکٹر اسامہ شیخ کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پہلی رپورٹ کے مشاہدات سے اختلاف کیا، انکوائری رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت کے معاملے میں گولی کے زخم اور دیگر طبی شواہد اہم ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مکمل تحقیقات سے پہلے پولیس کے نتائج میڈیا پر جاری کرنا پیشہ ورانہ معیار کے خلاف تھا، ڈاکٹر اسامہ کے کردار اور پولیس تفتیش کے طریقہ کار پر انکوائری رپورٹ پر سوالات اٹھائے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اسامہ 9 اگست کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی کی درخواست پر شریک ہوئے، جس کے بعد ڈاکٹر پر دباؤ ڈالنے کے تاثر سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئیں، تاہم اس دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو اہم کیس پر سینئر پولیس افسران سے بریفنگ لینے کا اختیار حاصل ہے، میر رضا کیس میں اہم سی سی ٹی وی ویڈیوز قانونی طریقے سے محفوظ نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس نے متعدد مقامات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اصل ڈی وی آر کے بجائے موبائل فون سے ریکارڈ کی، ڈیجیٹل شواہد کی تحویل اور محفوظ رکھنے کے طریقہ کار میں سنگین خامیاں سامنے آئیں، اہم ڈیجیٹل شواہد کی وصولی اور منتقلی کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں۔
جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ میر رضا کے موبائل فون کی تحویل اور فارنزک جانچ کے عمل پر سوالات اٹھ گئے، مقتول کی ایپل واچ کو محفوظ رکھنے میں کوتاہی سے ڈیٹا کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
رپورٹ میں پولیس کی جانب سے ڈیجیٹل شواہد میڈیا کو لیک کرنے کی نشاندہی کی اور کیس میں بلیک میلنگ یا انتقامی قتل کے امکان کو بھی مزید تحقیقات میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے مشتبہ گاڑیوں اور گیسٹ ہاؤس میں موجود افراد کی مزید تحقیقات پر زور دیا جبکہ ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کی قیادت اور نگرانی پر رپورٹ میں تنقید کی گئی۔
رپورٹ میں ایس ایچ او عدیل افضل کے خلاف جامع انکوائری اور عبوری معطلی جبکہ ایس آئی شبیر لغاری کے خلاف محکمہ کارروائی اور عبوری معطلی کی سفارش کی ہے جبکہ ایس ایچ او کامران قریشی کے خلاف محکمہ کارروائی اور عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی۔