• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا علی خان کی ہلاکت سے قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے نوجوان میر رضا علی خان کی لاش ملنے کے واقعے میں ہلاکت سے قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آگئی ہے ، جبکہ واقعہ کی تحقیقات کیلئے خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

فوٹیج کے مطابق 27 جولائی کی رات 10 بج کر 43 منٹ پر میر رضا علی خان کو کیفے کے کچن کی دراز سے اسلحہ نکالتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں وہ اسلحہ گاڑی میں رکھنے کے بعد دوبارہ کیفے کے اندر جاتے ہوئے بھی نظر آتا ہے۔ 

سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کو اسلحہ رکھنے کے بعد دوبارہ کچن میں جاتے دیکھا جاسکتا ہے، سامنے آنیوالی فوٹیج میں صبح 4 بج کر 38 منٹ پر جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر میر رضا کو اکیلے جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی کے حکم پر میر رضا کے اغوا اور قتل سے متعلق تین رکنی تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

تفتیشی ٹیم کی سربراہی ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ سومرو کریں گے جبکہ ٹیم کے ممبران میں ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ اور ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ 1 عثمان سدوزئی شامل ہوں گے، تفتیشی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر اعلیٰ افسران کو کیس سے متعلق اپڈیٹ دے گی۔

خیال رہے کہ میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، جس کی لاش دو روز بعد گلستان جوہر سے ملی تھی، میر رضا علی صبح چار بج کر نو منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی جبکہ اس کے سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ رضا کی لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

پولیس کی جانب سے ٹیلی کام کمپنی سے مقتول کا فون ریکارڈ اور اس سے رابطہ رکھنے والے افراد کا ڈیٹا بھی طلب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رضا نے جس ٹیکسی سے سفر کیا تھا اس کے ڈرائیور کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے، ڈرائیور نے بیان میں بتایا کہ اس نے میر رضا علی کو گلستان جوہر میں اس کے کچن پر چھوڑا تھا۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ رضا کا 30 اگست کو گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور رضا اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

قومی خبریں سے مزید