آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے موقع پر میں نے اپنے کالم میں پیش گوئی کی تھی کہ پائونڈ، یورو کی قدر گرنے اور یورپ میں مندی کے باعث پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجے جانے والی ترسیلات زر میں کمی ہوگی۔ رواں سال جون میں برطانیہ سے 309 ملین ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھیجی گئیں جو برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد جولائی میں کم ہوکر 143 ملین ڈالر ہوگئیں جبکہ جولائی میں ترسیلات زر میں مجموعی طور پر بھی 20% کمی دیکھنے میں آئی جو جون 2016ء کے 2 ارب ڈالر کے مقابلے میں 1.4 ارب ڈالر رہ گئیں۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں تیل کی قیمتوں میں کمی جس نے ان ممالک کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے، کے باعث بے شمار پاکستانی اپنی ملازمتوں سے محروم ہوچکے ہیں جس کا براہ راست اثر ترسیلات زر میں کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے تاہم اسٹیٹ بینک نے ترسیلات زر میں کمی کی وضاحت دیتے ہوئے بتایا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل ترسیلات زر میں عموماً اضافہ اور بعد میں کمی آتی ہے۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران پاکستان کی ترسیلات زر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو رواں سال مجموعی امپورٹ بل کا تقریباً 50% یعنی 20 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 2006ء میں 5 ارب ڈالر کی ترسیلات زر،

2007ء میں 6 ارب ڈالر، 2008ء میں 6.45 ارب ڈالر، 2009ء میں 7.81 ارب ڈالر، 2010ء میں 8.91 ارب ڈالر، 2011ء میں 11.2 ارب ڈالر، 2012ء میں 13.9 ارب ڈالر، 2013ء میں 13.92 ارب ڈالر، 2014ء میں 15.83 ارب ڈالر، 2015ء میں 18.5 ارب ڈالر اور 2016ء میں 20 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ 2014-15ء میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی 18.5 ارب ڈالر کی مجموعی ترسیلات زر میں سعودی عرب سے 3.8 ارب ڈالر، خلیجی ممالک سے 2.7 ارب ڈالر، امریکہ سے 2.7 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 2.5 ارب ڈالر، برطانیہ سے 1.7 ارب ڈالر، یورپی یونین سے 1.7 ارب ڈالر جبکہ آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان اور دیگر ممالک سے 3.2 ارب ڈالر کی ترسیلات زر شامل ہیں۔ اگر ہم گزشتہ سال کے مقابلے میں 2015-16ء کی ترسیلات زر کا جائزہ لیں تو 20ارب ڈالر کی مجموعی ترسیلات زر میں سب سے زیادہ سعودی عرب سے 5.9 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 4.3ارب ڈالر، دیگر خلیجی ممالک سے 2.4 ارب ڈالر، امریکہ سے 2.5 ارب ڈالر اور برطانیہ سے 2.5 ارب ڈالر موصول ہوئیں جن میں خلیجی ممالک سے بھیجی گئی ترسیلات زر نمایاںرہیں۔
گزشتہ سال بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافے کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا منی لانڈرنگ کے نئے قوانین اور سختیوں کے پیش نظر اپنی رقوم کو غیر ملکی بینکوں میں غیر محفوظ سمجھنا، دوسری وجہ اسٹیٹ بینک کا ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی کیلئے نیا طریقہ کار (PRI) متعارف کرانا ہے جس کے تحت بیرون ملک سے 100 سے زائد بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے بھیجی گئی ترسیلات زر پر کوئی چارجز نہیں لگائے جاتے اور بھیجی گئی رقوم اہل خانہ کو ایک سے دو دن میں موصول ہوجاتی ہیں جبکہ تاخیر کی صورت میں بینک انہیں جرمانے کی ادائیگی کرتا ہے۔ دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان کی معیشت کا انحصار بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پر ہے۔ ورلڈ بینک کی جائزہ رپورٹ کے مطابق 2015ء تک دنیا کی مجموعی ترسیلات زر 426 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ دنیا میں ترسیلات زر وصول کرنے والے 10 بڑے ممالک میں بھارت 72 ارب ڈالر کے ساتھ پہلے، چین 64 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے، فلپائن 30 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے، میکسیکو 26 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے، فرانس 25 ارب ڈالر کے ساتھ پانچویں، نائیجریا 21 ارب ڈالر کے ساتھ چھٹے، پاکستان اور مصر 20-20 ارب ڈالر کے ساتھ ساتویں، بنگلہ دیش 16 ارب ڈالر کے ساتھ آٹھویں، ویتنام 12 ارب ڈالر کے ساتھ نویں جبکہ انڈونیشیا اور اسپین 10.5 ارب ڈالر کے ساتھ دسویں نمبر پر ہیں۔
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے پاکستان اور برطانیہ کے مابین تجارتی حجم بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم دو ارب ڈالرہے جس میں پاکستان سے سالانہ 1.5 ارب ڈالر سے زائد کی مصنوعات برطانیہ ایکسپورٹ کی جاتی ہیں جبکہ 500 ملین ڈالرکی برطانوی مصنوعات پاکستان امپورٹ کی جاتی ہیں۔ ریفرنڈم کے بعد برطانیہ کی یورپی یونین کے 27 ممالک سے علیحدگی کو اقتصادی ماہرین برطانیہ کی معیشت کیلئے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ برطانوی پائونڈ اور یورپی یورو کی قدر 9% گرچکی ہے جس سے پاکستان کی ایکسپورٹ اور ترسیلات زر میں کمی متوقع ہے۔ اسی طرح پاکستان کی یورپی یونین کے 27 ممالک کو ایکسپورٹ 6 ارب ڈالر جبکہ یورپی یونین سے پاکستان کو امپورٹ 4.4 ارب ڈالر سالانہ ہیں۔ یورپی یونین سے پاکستان کو جی ایس پی پلس ڈیوٹی فری سہولت ملنے سے پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 7ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں لیکن بریگزٹ کے بعد پاکستان کو برطانیہ کے ساتھ ڈیوٹی فری سہولت کا نیا معاہدہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ برطانیہ پاکستان میں سالانہ ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرتا ہے جس میں موجودہ حالات میں کمی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ تعلیم اور سوشل سیکٹر کے فروغ کیلئے پاکستان کی مالی امداد بھی کرتا ہے لیکن برطانیہ کے یورپی یونین کے انخلا کے بعد برطانیہ کی اپنی معیشت اور شرح نمو میں کمی واقع ہو سکتی ہے اور بیروزگاری کے اثرات پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
کسی بھی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کا انحصار 4چیزوں یعنی ملکی ایکسپورٹس، بیرون ملک سے بھیجی گئی ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری(FDI)، بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لئے گئے قرضے اور دوست ممالک کی امداد پر ہوتا ہے لیکن گزشتہ سال پاکستان کی ایکسپورٹس میں واضح کمی دیکھی گئی جو 25 ارب ڈالر سے کم ہوکر 20 ارب ڈالر تک گرگئی۔ اسی طرح پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے ہمارا انحصار بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پر بڑھتا جارہا ہے لیکن یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلاء کی وجہ سے برطانوی پائونڈ اور یورو کی قدر میں کمی، یورپ میں مندی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے خلیجی ممالک میں بیروزگاری کے باعث آنے والے وقت میں مجھے پاکستان کی ترسیلات زر میں کمی نظر آرہی ہے حالانکہ خوش قسمتی سے گزشتہ سال بیرون ملک پاکستانی ورکرز جانے کی شرح میں 16% اضافہ ہوا ہے جس میں 40% سے زائد ورکرز سعودی عرب گئے۔ حکومت کو چاہئے کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے ترسیلات زر پر انحصار کرنے کے علاوہ ملکی ایکسپورٹس اور بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے بھی خاطر خواہ اقدامات کرے۔ انگریزی زبان میں مہارت اور تکنیکی ہنرمندی ہونے کے باعث بھارت اور فلپائن کے ورکرز کو دنیا بھر میں دوسرے تعلیم یافتہ ورکرز کے مقابلے میں ترجیح دی جاتی ہے جس کا اندازہ بیرون ملک مقیم بھارتی اور فلپائنی ورکرز کی جانب سے اپنے وطن بھیجی جانے والی بالترتیب 72 ارب ڈالر اور 24 ارب ڈالر سالانہ کی ترسیلات زر سے لگایا جاسکتا ہے لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ ورکرز کو ووکیشنل ٹریننگ کے ذریعے ہنرمند بناکر بیرون ملک بھیجے تاکہ اُنہیں زیادہ اجرتوں پر ملازمتیں مل سکیں جس سے ہماری ترسیلات زر میں اضافہ ہوگا۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں