آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اعلیٰ اختیاراتی پارلیمانی وفد لے کر افغانستان گئے تھے۔ انہوں نے افغان حکومت اور پارلیمانی نمائندوں سے وسیع پیمانے پر مشاورت اور تبادلہ خیال کیا۔ انہیں واپس آئے ایک دن ہی گزرا تھا کہ افغانستان کی فوج نے ان کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ افغان حکومت سے امن کی امید باندھنا نری حماقت ہے۔ ان کی کمزوری اور بیچارگی کی داستان ایاز صادق نے کہہ سنائی۔ پاکستانی وفد کےسربراہ نے کہا کہ افغان حملوں سے بڑا ’’اپ سیٹ‘‘ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کابل انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کچھ علاقائی طاقتیں امن اور مفاہمت کے عمل کو ہضم نہیں کر پائیں گی۔ پھر وہی ہوا، پارلیمانی وفد کے واپس آتے ہی افغان فوج کی طرف سے پہلے چمن بارڈر پر پھر خیبر میں بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کرکے 12سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو شہید اور 50کو زخمی کردیا گیا۔ جوابی حملے میں 50افغان فوجی مارے گئے اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد سے پاک افغان سرحد پر حالات تنائو کا شکار ہیں اور باب ِ دوستی کو بندکردیا گیا ہے، جس سے تجارت اور آمد و رفت بند ہوگئی ہے۔ دراصل پاکستان اور افغانستان کے مابین مفاہمت اور علاقائی امن کی خواہش میں پاکستان کی کوششوں میں کچھ کمی ہے نہ ہی افغان حکومت کی بدنیتی۔ علاقے میں امن کا

ٹاسک جتنا بڑاہے افغان حکومت کی اہلیت اتنی ہی محدود ہے۔ حکومت بیچاری نمائندہ ہے، طاقتور نہ ہی خودمختار۔ فوج اور خفیہ ادارے افغان حکومت کے بس میں نہیں۔ان اداروں کی اپنی طاقت اور وسائل بھی خاصے محدود ہیں ۔ وہ اپنے ملک کے زیادہ حصہ پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتے نہ ہی اپنے اقتدار ِ اعلیٰ کی حفاظت کرسکتے ہیں لیکن علاقے میں امن کو سبوتاژ کرنے میں انہیں زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی۔ وہ بھاگتے ہوئے چندگولے سرحد پار پھینک کر ہر اچھی کوشش کو ناکام بنانے کی صلاحیت ضرور رکھتے ہیں۔ آدھے ملک پر افغان حکومت اور فوج کاکوئی اختیار ہی نہیں۔ باقی پچاس فیصد سیاسی حکمرانی کو عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میںبرابرتقسیم کردیا گیاہے۔ حکمرانوں کی ذاتی حفاظت بھی امریکی اہلکاروںکی ذمہ داری ہے۔ فوج سمیت سارے سرکاری محکموں کی تنخواہیں اور ضروریات امریکہ پوری کرتاہے۔ باقی سہولتوں اور عیاشی کے وسائل درپردہ انڈیافراہم کرتاہے۔ یوں ان کی وفاداریوں کا رخ امریکہ کی طرف اور فرائض کی ادائیگی انڈیاکے لئے ہوتی ہے۔ افغانستان کے اندر یا پاک افغان سرحد پر جو کچھ ہورہا ہے یہ عبداللہ عبداللہ کی خواہش ہے نہ اشرف غنی کا حکم، یہ سب کچھ اُن کا کیا دھرا ہے جومفاہمت چاہتے نہ امن کہ ان کی روزی روٹی جنگ کاالائو بھڑکتے رہنے میں ہے۔ جنرل پرویز مشرف، جنرل کیانی، راحیل شریف اور اب قمر جاوید باجوہ بار بارافغانستان جاتے ہیں، اسی طرح سیاسی حکومت اور سفارتکار بھی کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ کیا یہ سب ادارےافغان حکومت کے دائرہ اختیار اور فیصلہ کرنے کی اہلیت سے آگاہ نہیں ہیں؟ جب افغان حکومت کی بیچارگی اورکسمپرسی کا پورا علم ہے تو پھر دکھاوے کی سفارتکاری کس لئے؟ آدھے افغانستان پر اصل حکمرانی امریکہ کی ہے لیکن وہ حکومت اپنی کٹھ پتلیوں کے ذریعے چلاتا ہے۔ اسے ہم امریکہ کی پراکسی کہہ سکتے ہیں۔ امریکہ نے افغانستان کی فوج اور مسلح اداروں کو سیاسی حکومت کی عملداری سےالگ کر رکھاہے۔ و ہ ان اداروں کو بھی اتنا منظم اور طاقتور نہیں بنانا چاہتا کہ یہ ادارے افغانستان کو اچھی طرح سنبھال کر امریکہ کو چلتا کریں اورافغانستان بھی پاکستان کی طرح علاقائی تعمیر و ترقی اور امن کی راہ پر چل نکلے۔ روس کی شکست کے چند سال بعدامریکہ بڑے طمطراق سے افغانستان میں اس لئے چلا آیا کہ اس کے خیال میں افغانستان میں روس کی شکست امریکہ کی حکمت ِ عملی اور مالی معاونت کا نتیجہ ہے۔ اب وہ خطے میں روس کا خلاپر کرنے، ایران کو نیچا دکھانے، وسط ایشیا کے وسائل پر قبضہ کرنے، چین کو گھیرنے، روس کودوبارہ ابھرنے سے روکنے، پاکستان کاجوہری پروگرام بند کرانے کے عظیم الشان منصوبوں کے ساتھ اس خطے میں وارد ہوا تھا۔ اس کا یہ بھی خیال تھا کہ افغانستان کو زیرکرکے دنیا سے اپنی عالمی قیادت کی مکرر توثیق کروالے گا۔
گزشتہ سولہ برس میں یہاں پر جو کچھ اس کے ساتھ ہوا وہ روس سے کم عبرتناک اور سبق آموز نہیں ہے۔ امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی ایک لاکھ 35ہزار فوج 16 برس تک خواری کے بعد افغانستان سے بھاگ نکلی ہے۔ ہاتھی نکل گیادم باقی ہے۔ ساڑھے 9ہزار فوجیوں پر مشتمل یہ ہاتھی کی دم جب تک افغانستان میں دھری ہے تب تک یہ جادو اثر منحوس دم پورے خطے کو امن اور چین سے جینے نہیں دے گی۔ نجس جانور (کتاوغیرہ) کنویں میں گر کر ہلاک ہو جائے تو پانی کوقابل استعمال اور کنویں کو پاک کرنے کے لئے مردہ جانور کو کنویں سے نکال کر 80یا 101بالٹی پانی کنویں سے نکال کر پھینکتے ہیں تب کنویں کا پانی قابل استعمال ہو جاتا ہے بعض نادان مردہ جانور نکالے بغیر پانی سینچتے رہتے ہیں حالانکہ اس طرح پانی نکال کر کنواں خشک بھی کردیں تو وہ پاک نہیں ہوتا۔ مردہ جانور کاپہلے نکالا جانا شرط ہے۔ امریکہ نے پورے خطے میں جو گند ڈالا اور امن تباہ کیا ہے، وہ اس وقت تک بحال نہیں ہوسکتا جب تک امریکہ کو افغانستان سے نکالا نہیں جاتا۔ اگرچہ امریکہ گزشتہ 16 برس میںاپنے پرائمری مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے لیکن اب بھی اس کی موجودگی، پاکستان، ایران، وسط ایشیا، چین اور روس کے لئے اضطراب اور پریشانی کا باعث ہے تو دوسری طرف انڈیا کے لئے اس کے برے مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بن رہی ہے۔ شروع میں ’’افغانستان ہدف تھا، شمالی اتحاد آلہ کار، امریکہ دہشت گرد اور پرویز مشرف بڑے دہشت گرد کا سہولت کار‘‘ برسوں گزر جانے کے بعد ’’پاکستان ہدف ہے، انڈیا دہشت گرد، امریکہ سہولت کار کے فرائض انجام دے رہا ہے‘‘ لیکن اگر ہم اس کھیل کو عالمی تناظر میں زیادہ وسیع کر کے دیکھیں تو صورتحال یوں نظر آتی ہے جس میں ’’ایران،پاکستان، روس اور چین ہدف ہیں، افغان حکومت سہولت کار، امریکہ دہشت گرد اور انڈیا آلہ کار دکھائی دیتا ہے‘‘انڈیا نےاپنے مغربی اتحادیوں کے تعاون سے دہشت گردی اور پراپیگنڈہ کا ایک عالمی نظام وضع کر رکھاہے۔ استاد چانکیہ کی تعلیمات ہمیشہ سے اس کی مشعل راہ ہیں۔ اپنے گناہ دوسروں کےسر تھوپنے، ہمسایوں کو دشمنی اور خفیہ چالوں سے دبائو میں لانا، ہمسائے کے ساتھ عداوت اور ہمسایہ کے ہمسائے کو دوست بنانا، پھر ان کے درمیان غلط فہمی پیدا کرکے مخاصمت کی فضا پیدا کرنا، قریب کے ملکوں میں مداخلت کرنا، ان کے معاشرے میں تضادات تلاش کرکے انہیں ابھارنا، خفیہ جنگ کے لئے دہشت گردی کے ’’نیٹ ورک‘‘ بنانا۔
انڈیا اب دہشت گرد پیدا کرنے کی بجائے مختلف علاقوں کے دہشت گرداورجرائم پیشہ کو گود لیتا ہے۔ نام نہادقوم پرست اور سیکولر بلوچ علیحدگی پسند، مذہبی جنون والے پنجابی طالبان، فرقہ وارانہ دہشت گرد جند اللہ، لشکر جھنگوی، احرار، جنوبی ایشیا اور افغانستان میں داعش کی شاخیں، ان مقامی اورعالمی دہشت گردوں کوامریکہ کی مرضی کے مطابق افغان حکومت پناہ فراہم کرتی ہے۔ انڈیاانہیں اسلحہ،پیسہ اور تربیت دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کرتاہے، ایران اور چین کے خلاف بھی، اس طرح انڈیا جزوی طور پر امریکہ کے مذموم مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ کلبھوشن یادیو نے پاک ایران تعلقات خراب کرنےکے لئے تہران میں پاکستانی سفارتخانےپرحملہ کرنے کے منصوبے کے علاوہ شیعہ مسلمانوں کو قتل کروانے کا انکشاف، پاک چین اقتصادی راہدی کو سبوتاژ کرنے کے منصوبے فاش کئے، تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ کے حالیہ اعترافی بیان اور امریکہ کی طرف سے ’’بموں کی اماںجان‘‘ کے استعمال پر مرنے والے ایک درجن سے زیادہ بھارتی باشندے بھی ہلاک ہوئے جو خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کے کارندے تھےاور داعش کے دہشت گردوں کو تربیت دیاکرتے تھے۔ کلبھوشن یادیو ایران میں بیٹھ کر ایران کی جڑیں کاٹتا رہا، امریکہ کی چھتری تلے امریکہ کی دشمن داعش کی سرپرستی کرتا رہا۔
مختصر یہ کہ افغان حکومت، امریکہ اور انڈیاکی ٹرائیکا (مثلث) کو توڑے بغیر پاکستان میں امن ہوگا نہ خطے میں استحکام...... ضروری ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے نکل جانے پرمجبور کیاجائے۔ اس کے لئے سیاسی راہ اختیار کی جائے، سفارتکاری یاکچھ اور.....!

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں