آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے، جس نے منتخب شدہ وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا کیونکہ وہ آئین کے آرٹیکل 62کے مطابق ’’صادق اور امین‘‘ نہیں تھے، نے ملک کے پہلے سے ہی لاغر جمہوری نظام کو لرزہ بر اندام کردیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بنچ کے فاضل جج صاحبان سے بصد احترام عرض ہے کہ فیصلے اور اس سے منسلک تفصیلی نوٹس میں ایسا خلاموجود ہے جو انکم ٹیکس قوانین، اکائونٹنگ کے اصولوں اور قانون ِ شہادت کے بارے میںبہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ تاہم سب سے پریشان کن پہلو انصاف کے فطری تقاضوں پر مبنی اصولوں سے انحراف ہے، اور انصاف کے یہ اصول ہمارے آئین کی روح ہیں۔ پاناما فیصلے کی عملی جہت کو سامنے رکھیں تو یہ اب پارلیمنٹ میں عوامی نمائندگان کے سر پر لٹکتی ہوئی ایک تلوار کی مانند ہے۔ اس مضمون میں، میں نے خالصتاً علمی گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھانے کے لیے آئین کی روشنی میں پاناما فیصلے کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔
سب سے پہلے تو قابلِ احترام سپریم کورٹ آف پاکستان کا ٹرائل کورٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 62(f) کے تحت میاں محمد نوازشریف کو پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دینا (چنانچہ وہ وزارت ِعظمیٰ کا عہدہ رکھنے کے لیے بھی نااہل قرار پائے) بذات ِخود منصفانہ ٹرائل کی روح کے منافی ہے۔ اٹھارویں ترمیم

کے بعد آئین کا آرٹیکل 10-A ہر شخص کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتاہے۔ رسوم رواج اور عدالت کے فیصلوںسے اختراع کیے جانے والے قانون کے علاوہ پارلیمنٹ میں بنائے گئے قانون کے حوالے سے دنیا بھر کے ماہرین قانون اس بات سے کلی طور پر متفق ہیں کہ منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ملزم کوکسی اعلیٰ جوڈیشل فورم پر کم از کم ایک اپیل کا حق دیا جانا ضروری ہے۔ لیکن اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہی ٹرائل کورٹ کا کردار کرتی ہے تو پھر ملز م اپیل کہاں کرے گا؟
اس دلیل کے جواب میں اختیار کیا جانے والا موقف یہ ہے کہ چونکہ مدعاعلیہ کے پاس فیصلے پر نظر ِ ثانی کی درخواست کا حق موجود ہے، چنانچہ منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے ہوگئے ہیں۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے کیونکہ ’’اپیل‘‘ اور ’’نظرِ ثانی‘‘ قانونی داد رسی کی دو بالکل مختلف شکلیں ہیں۔ یہ کسی طور ایک دوسرے کے مترادف نہیں۔ کوئی بھی جج، چاہے کتناہی قابل اور قانون کے ماہر کیوں نہ ہو، بطور انسان قانون کی تشریح یا شہادت کی پرکھ میں غلطی کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے اپیل کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے جس میں ایک اور جج پیش کردہ ثبوت اور لکھے گئے فیصلے کو تازہ قانونی بصارت سے دیکھتا ہے اور کھلے ذہن کے ساتھ اس کا ناقدانہ جائزہ لیتا ہے۔ اس طرح انصاف کی فراہمی میں غلطی کا احتمال کم سے کم رہ جاتا ہے۔ دوسری طرف ’’نظرِثانی‘‘ میںوہی جج حضرات اپنے فیصلے کا جائزہ لیتے ہیں، کوئی اور جج اسے نہیں دیکھتا۔ مزید برآں، نظر ِ ثانی کا دائرہ کار اتنا محدود ہے کہ بمشکل ہی عدالت اپنے فیصلے کو تبدیل کرتی ہے۔ چنانچہ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ سپریم کورٹ میں کی گئی نظر ِثانی کی بمشکل ایک فیصد اپیلیں ہی نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں، اور وہ زیادہ تر کیسز میں صرف جزوی طور پر۔
دوسری بات یہ ہے کہ نواز شریف اور اُن کی فیملی کے خلاف تحقیقات کے لیے نیب پر سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب کو نگرانی کی ذمہ داری سونپنامنصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے برعکس ہے۔ ہم پاکستان میں جو جسٹس سسٹم رکھتے ہیں، اُس میں ایک جج غیر جانبدار رہتے ہوئے تحقیقات میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔ اس کی بجائے وہ فریقین کے پیش کردہ ثبوتوں کا جائزہ لیتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کرتا ہے اور پھر سول کیسز میں ’’تمام تر امکانات کے درمیان تواز ن پیدا کرتے ہوئے ‘ ‘ اور کریمنل کیسز میں ’’معقول شک سے بالا تر ‘‘ فیصلہ سناتا ہے۔ اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا جج خود ہی تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سنبھال لے تو پھر ٹرائل کورٹ (جو کہ ماتحت عدالت ہے) کا جج خود سے بلند منصب کے حامل جج کے پیش کردہ ثبوتوں کا آزادانہ طور پر، کسی بیرونی دبائو سے بے نیاز ہو کر، کس طرح تجزیہ کر سکتا ہے؟
مزید یہ کہ ہر کریمنل کیس میں تفتیشی افسر اہم ترین استغاثہ ہوتا ہے جس کی پیش کردہ شہادت پر مقدمہ کے نتیجے کا دارومدار ہوتا ہے۔ اگر احتساب عدالت میں مقدمے کے دوران ملزم کا دفاع کرنے والے وکیل نے چیف تفتیشی افسر سے سوال کرنے کا مطالبہ کردیا تو کیا ہوگاجبکہ وہ چیف تفتیشی افسر خود سپریم کورٹ کا معزز جج ہو جو نیب کی تحقیقات کی نگرانی کررہا تھا؟تو کیا احتساب عدالت اس مطالبے کے پیش نظر سمن جاری کرے گی؟اگر ہم ماضی سے کوئی رہنمائی لینا چاہیں ہم نے سوموٹو کیسز میں اُس وقت کے چیف جسٹس کی نظروں کے نیچے ہونے والی تحقیقات میں انصاف کو تماشا بنتے دیکھا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے میں مشہور ِ زمانہ حج کرپشن کیس کے تمام ملزمان کو بری کردیا جانا اس حقیقت کی ایک چشم کشا مثال ہے کہ جب اعلیٰ ترین عدالت تحقیقات کا کردار ادا کرے تو الزام کی زد میں آنے والے شخص کے پاس شفاف ٹرائل کے مواقع موجود نہیں ہوتے۔
قابلِ احترام سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین کی کسوٹی پر پر کھنے کی کوشش صرف عملی اور فکری سعی ہے، ورنہ ہماری اعلیٰ عدلیہ ملک میں پھیلی ہوئی بدعنوانی کے خاتمے کے لیےبیش بہا کردار ادا کررہی ہے۔باعث ِ تشویش بات صرف یہ ہے کہ کہیں منصفانہ ٹرائل کے اصول سیاست کو ’’جرائم پیشہ عناصر ‘‘ سے پاک کرنے کی اعلیٰ و ارفع کوشش کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔
(صاحبِ مضمون ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ہیں)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں