آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

زیرزمین پانی میں سنکھیا کی مقدار انتہائی زیادہ ہونے کا انکشاف

Arsenic Amount Is Greater In Underground Water

ملک بھر کے کروڑوں شہریوں کے لیے پینے کا پانی زہر بن سکتا ہے، پاکستان میں زیر زمین پانی کے بارہ سو نمونوں کی جانچ نے خطرے کی گھنٹی بجادی ۔

زیرزمین پانی میں خطرناک زہریلے مادے سنکھیا کی مقدار انتہائی زیادہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، پاکستان میں 70فیصد لوگ زمینی پانی پر انحصار کرتے ہیں، عالمی ادارہ صحت نے 6کروڑ افراد کے بیماریوں سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا۔

خبردار، ہوشیار، آپ جو پانی پی رہے ہیں کیا وہ محفوظ ہے؟عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پینے کے صاف پانی میں خطرناک زہریلے مادے آرسینک یعنی سنکھیا کی انتہائی زیادہ مقدار موجود ہے، جس سے 6کروڑ پاکستانیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

سائنس ایڈوانسز نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق 2013ء سے 2015ء کےدوران 12 سو مقامات سے حاصل زمینی پانی کےنمونوں کی بنیاد پر کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں پانی کے بیشتر کنوؤں میں سنکھیا کی مقدار عالمی ادارہ صحت کے طے شدہ معیار سے 5 گنا سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 70فیصد افراد اسی زمینی پانی پر انحصار کرتے ہیں، خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکن ہے کہ متاثرین کی تعداد 6 کروڑ ہو۔

رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت ایک لیٹر پانی میں سنکھیا کی 10مائیکرو گرام مقدار کو خطرناک قرار دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق پاکستان کے مشرقی علاقوں یا دریائے سندھ کے ساتھ میدانی علاقوں میں رہائش پذیر 5سے 6کروڑ افراد پینے کے لیے وہ پانی استعمال کر رہے ہیں جس میں حکومت کی مقرر کردہ مقدار سے زیادہ سنکھیا ہو سکتا ہے۔

سنکھیا یا آرسینک ایک ایسا بے ذائقہ کیمیائی جزو ہے جو گرم پانی میں حل ہوجاتا ہے اور ہلاک کرنے کے لیے اس کے ایک اونس کا سوواں حصہ بھی کافی ہوتا ہے۔

طویل عرصے تک سنکھیا ملا پانی استعمال کرنے کے نتیجے میں خطرناک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، ان میں جلد کی بیماریاں، پھیپھڑوں اور مثانے کا سرطان اور دل کے امراض بھی شامل ہیں۔

پاکستان کونسل فار ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز کی ڈائریکٹر جنرل لبنیٰ سعید نے کہا ہے کہ ادارہ 2002ء سے پانی میں سنکھیا کی موجودگی پر ریسرچ کررہا ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو خبردار کرتے آرہے ہیں ۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ سنکھیا سے متاثرہ علاقوں میں اضافہ ہورہا ہے، شہری یا تو پانی کے فلٹر استعمال کریں یا پھر اپنے بور کے پانی کا ٹیسٹ کروائیں ۔

صحت سے مزید