آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍شعبان المعظم1439ھ 26؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
Todays Print

کراچی ( اسٹاف رپورٹر؍ نیوز ایجنسیز) سپریم کورٹ نے کراچی میں دستیاب دودھ کے ڈبے پی سی ایس آئی آر سے ٹیسٹ کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈبوں کا دودھ فراڈ ہے اور آج ہی مارکیٹوں سے پیکٹ والے دودھ کی تمام برانڈز کی مصنوعات اٹھائی جائیں۔ دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے نجی میڈیکل کالجز کو 6 لاکھ 45 ہزار سے زائد فیس وصول کرنے سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ نجی کالج مالکان 15دن کے اندر اندر معاملات ٹھیک کرلیں اور پی ایم ڈی سی مزید کسی کالج کو رجسٹرڈ نہیں کرے گا۔ ہفتہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ڈبے کے ناقص دودھ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ڈبوں میں فروخت ہونے والا دودھ، دودھ نہیں فراڈ ہے، یہ سفید مادہ ہے۔ پنجاب میں پیکٹ کے دودھ سے اب یوریا اور غیر معیاری اشیا کا خاتمہ ہوگیا، پنجاب میں کروڑوں روپے لگا کر لیبارٹریز ٹھیک کرائی ہیں، سندھ حکومت کو خیال نہیں آیا کہ کراچی کے لوگوں کو معیاری دودھ پلائیں۔ معزز جج نے استفسار کیا کہیں ان ڈبوں کے دودھ میں یوریا تو شامل نہیں؟۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سندھ میں فورڈ اتھارٹی ہی نہیں، سندھ حکومت کر کیا رہی ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ فوڈ اتھارٹی کی قانون سازی کرلی ہے اور

x
Advertisement

فنڈز بھی مختص کردیئے گئے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اتھارٹی تو بنتی رہے گی کیا جب تک شہریوں کو غیر معیاری دودھ پلائیں گے۔ ہم نے کھلے دودھ سے متعلق بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں پر پابندی عائد کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکم دیں گے کہ ڈبوں پر تحریر کریں کہ یہ دودھ کا نعم البدل نہیں۔ چیف جسٹس نے دودھ کے نمونوں کے ٹیسٹ کی ذمے داری فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کو سونپتے ہوئے کہا کہ کراچی کی مارکیٹس سے پیکٹ والے دودھ کے تمام برانڈز کی پروڈکٹ اٹھائیں اور ٹیسٹ کیلئے بھیجیں۔ کہیں ان میں یوریا تو شامل نہیں۔ بعدازاں ہفتہ کو ہی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے معیار سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ کیا کمرہ عدالت میں سرکاری اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس موجود ہیں؟۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتایا جائے اسپتالوں میں کتنے بستر ہیں،کون سی مشینیں ہیں کون سی نہیں، اسپتالوں میں ادویات کی کیا پوزیشن ہے یہ بھی بتایا جائے، ہر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو الگ الگ حلف نامہ جمع کرانا ہوگا جب کہ سیکرٹری صحت ہر سرکاری اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے حلف نامہ بھروائیں۔ نجی میڈیکل کالجوں میں داخلوں سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کا کیا طریقہ کار ہے، ہم معیار طے کریں گے، ہم داخلے منسوخ نہیں کر رہے لیکن پی ایم ڈی سی مزید کسی کالج کو رجسٹرڈ نہیں کرے گا، ہم اس پورے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا نجی کالجوں کو ایک فارم دے رہے ہیں جنہیں بھر کر عدالت میں جمع کرائیں۔ معزز جج نے نجی کالج کے مالکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ التجا سمجھیں، بڑے بھائی کی بات سمجھیں یا حکم، انسپکشن ٹیم جائے گی تو پھر کوئی رعایت نہیں ملے گی۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں