آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسے میں جب حکومت، اپوزیشن جماعتوں کے دھرنوں اور بلوچستان میں جوڑ توڑ کی سیاست کے نتیجے میں (ن) حکومت کی تبدیلی کے باعث شدید دبائو کا شکار ہے جبکہ سیکورٹی ادارے بھی ملکی سلامتی کے بجائے سیاسی معاملات پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں، ملک دشمن قوتیں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی پر کارفرما ہیں اور اس مقصد کیلئے وہ علیحدگی پسندوں کو استعمال کرکے کئی ممالک میں پاکستان مخالف اشتہاری مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
گزشتہ دنوں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو اُس وقت شدید صدمے اور حیرت سے دوچار ہونا پڑا جب انہوں نے واشنگٹن اور نیویارک کی پیلی ٹیکسوں پر ’’آزاد کراچی مہم‘‘ کے اشتہارات دیکھے۔ بات صرف ٹیکسیوں پر پاکستان مخالف اشتہاری مہم تک محدود نہ رہی بلکہ امریکہ کے معروف اخبار ’’واشنگٹن ٹائمز‘‘ میں بھی ’’آزاد کراچی‘‘ کے نمایاں اشتہارات شائع ہوئے جس کے ساتھ ایسے خطوط بھی تقسیم کئے گئے جس میں کراچی کی آزادی، گمشدہ سیاسی کارکنان کی بازیابی اور پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ ایم کیو ایم لندن کے رہنما پروفیسر حسن ظفر عارف کے قتل کو ماورائے عدالت قرار دیتے ہوئے انصاف کی اپیل بھی کی گئی۔ خط میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ

’’امریکہ میں مقیم مہاجر، پاکستان میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف ’’آزاد کراچی‘‘ مہم چلارہے ہیں اور کراچی کی آزادی خطے میں امن و استحکام کی ضمانت ہوگی جس کیلئے امریکی حکومت اور عوام مہاجروں کا ساتھ دیں۔‘‘ واضح ہو کہ اس سے قبل نام نہاد ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن نے گزشتہ ماہ نیویارک میں 100 سے زائد پیلی ٹیکسوں پر ’’آزاد بلوچستان‘‘ مہم چلائی تھی جبکہ نیویارک کے ’’ٹائمز اسکوائر‘‘ پر پاکستان مخالف بل بورڈ بھی نصب کیا گیا تھا جس پر ’’آزاد بلوچستان‘‘ کے نعرے درج تھے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے اِسی طرح کی ایک مہم گزشتہ سال ستمبر میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بھی چلائی گئی تھی جس کے بعد یہ مہم لندن سے ہوتی ہوئی اب امریکہ پہنچ چکی ہے جس میں ’’آزاد بلوچستان‘‘ کے ساتھ ’’آزاد کراچی‘‘ کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔
’’آزاد بلوچستان‘‘ کے بعد اب ’’آزاد کراچی‘‘ مہم عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے مگر ہم خاموش تماشائی بیٹھے یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان مخالف مہم مکمل ہونے کے بعد بیرون ملک قائم پاکستانی سفارتخانہ ان ممالک کی حکومتوں سے احتجاج کرتا ہے لیکن اُس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور پاکستان کے وقار کو کافی حد تک نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں حکومت اور سیکورٹی ایجنسیاں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں اور بیرون ملک پاکستان مخالف سرگرمیوں کے تدارک کیلئے ہمارے پاس کوئی جامع حکمت عملی نہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہماری سیکورٹی ایجنسیوں اور بیرون ملک قائم پاکستانی سفارتخانوںکو پاکستان مخالف اشتہاری مہم کی پہلے سے آگاہی ہوتی تاکہ مہم شروع ہونے سے قبل ہی اس کا تدارک کیا جاسکے مگر افسوس کہ ہم اُس وقت سوکر اٹھتے ہیں جب ملک کی بدنامی ہوچکی ہوتی ہے۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان پاکستان مخالف سرگرمیوں کے پیچھے دشمن ملک بھارت ملوث ہے جو بلوچستان اور کراچی کے علیحدگی پسندوں کو اشتہاری مہم کیلئے کروڑوں ڈالر سرمایہ فراہم کررہا ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ امریکہ میں مقیم ایم کیو ایم لندن کے سابق وفاقی وزراء اور سینئر رہنما جو مشرف دور میں اربوں روپے لوٹ کر امریکہ فرار ہوگئے تھے اور اب وہاں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، پاکستان مخالف اشتہاری مہم میں ملوث ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کچھ ماہ قبل امریکی کانگریس کے رکن Dana Rohrabacher نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ لندن میں بانی متحدہ سے ملاقات کی تھی۔ 4 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات میں لندن میں مقیم علیحدگی پسند رہنما خان آف قلات سلیمان دائود بھی شریک تھے۔ واضح رہے کہ Dana Rohrabacherکو پاکستان دشمن تصور کیا جاتا ہے جنہوں نے 2016ء میں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے کیلئے امریکی کانگریس میں بل پیش کیا تھا۔
آج ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کو مکمل طور پر کچل دیا گیا ہے اور کراچی میں بھی ’’را‘‘ کی حمایت یافتہ ایم کیو ایم لندن کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن یہ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کیونکہ پاکستان میں آج بھی علیحدگی پسندوں کو ’’را‘‘ کی سرپرستی حاصل ہے جو کراچی اور بلوچستان کی آزادی کیلئے سرگرم عمل ہیں، یہ ملک دشمن عناصر کراچی اور بلوچستان میں دوبارہ بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں اور حالیہ مہم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے مگر افسوس کہ ایسی صورتحال میں پاکستان میں سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کیلئے حکومت کی بساط لپیٹنے کے درپے ہیں جس کی حالیہ مثال بلوچستان میں ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کے ذریعے نواز حکومت کا خاتمہ ہے (ن) لیگ سیکورٹی ایجنسیوں کی منصوبہ بندی قرار دے رہی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق کا یہ بیان کہ ’’ہم نے سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا‘‘ انتہائی معنی خیز ہے کیونکہ بلوچستان میں اکثریتی جماعت (ن) لیگ کو اقتدار سے محروم کرکے گھر بھیج دیا گیا اور اب وہاں اقلیتی جماعت برسراقتدار ہے، یہ سوچے بغیر کہ مستقبل میں اس کے صوبے پر کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے اور علیحدگی پسند موقع کا فائدہ اٹھائیں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کو دی گئی حالیہ دھمکیوں کے بعد امریکہ میں بسوں اور ٹیکسوں پر پاکستان مخالف اشتہاری مہم اور امریکی اخبارات میں اشتہارات پاکستان کیلئے انتہائی تشویشناک امر ہے جس میں ’’را‘‘ کے ساتھ ساتھ امریکی سرپرستی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات آج اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ دونوں ممالک وقت آنے پر پاکستان توڑنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، امریکہ اور دیگر ممالک میں متعین پاکستانی سفیروں کے ان ممالک کی حکومت سے احتجاج کردینے سے ذمہ داری پوری نہیں ہوجاتی بلکہ سیکورٹی اداروں کو چاہئے کہ وہ اس بات کاپتہ لگائیں کہ پاکستان مخالف حالیہ مہم کیلئے کروڑوں ڈالرز کی رقم کون فراہم کررہا ہے؟ ساتھ ہی ہمیں اپنی آنکھیں بھی کھلی رکھنا چاہئیںاور ٹرمپ کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے داخلی معاملات میں ہی الجھے رہیں اور دشمن طاقتیں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوجائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں