آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار8؍ربیع الثانی 1440ھ 16 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے چند سالوں میں ہونے والے افسوسناک واقعات کی فہرست مرتب کی جائے تو ان میں جو قدر مشترک پائی جائے گی وہ ہمارے ملکی نظام کی خرابی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں حادثات یا دلخراش واقعات رونما نہیں ہوتے، امریکہ ہی میں ہر سال ہزاروں افراد Gun Violence کا شکار ہو جاتے ہیں۔ برطانیہ میں ، جو نہ صرف ایک ترقی یافتہ ملک ہے بلکہ صدیوں تک دنیا کے ایک بڑے حصے پر قابض بھی رہاہے، ہر سال معصوم بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے ہزاروں واقعات سامنے آتے ہیں۔مگر ان تمام ممالک میں جرائم کی اطلاع ملتے ہی ریاستی مشینری خودبخود حرکت میں آجاتی ہے اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ہر کوشش کی جاتی ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ وہاں ریاست سو فیصد مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، لیکن کم ا ز کم نوے فیصد معاملات کو ان کے منطقی انجام تک ضرور پہنچا دیا جاتا ہے۔ ہمارے ریاستی نظام کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بالکل ناکام ہو گئے ہیں۔
آپ میں سے اکثریت کو اب شاید یاد بھی نہ ہو کہ اگست دو ہزار سولہ میں کوئٹہ شہر کے ایک معروف وکیل کو دن دیہاڑے، سر راہ مار دیا گیاتھا۔ اس خبر کو سن کر شہر بھر کے وکلاء جب اسپتال میں اکٹھے ہوئے تو دہشت گردوں نے پھر سے حملہ کر دیا۔ اس حملے

میں کوئٹہ شہر کی وکلا برادری کی ایک بڑی تعداد جاںبحق ہو گئی۔جب اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس روز کاغذوں میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور اسپتال کا دیگر عملہ سرے سے غائب تھا۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسے اندوہناک واقعہ کے بعد کی جانے والی انکوائریوں کا مقصد درست حقائق کا پتا چلانا ہوتا ہے تاکہ ان کی روشنی میں مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لئے منصوبہ سازی کی جا سکے۔لیکن کیا جوڈیشل انکوائری میںڈاکٹرز اور اسپتال کے دیگر اسٹاف کے ڈیوٹی سے غائب ہونے کے تذکرہ کے بعد ان میں سے کسی ایک کو بھی اپنی لاپروائی کی کوئی سزا ملی؟ کتنے غیر حاضر ڈاکٹروں کو سروس سے برطرف کیا گیا؟ اگر ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد اس دن ڈیوٹی کے اوقات پر غائب نہ ہوتی تو شاید بہت سے افراد کو فوری طبی امداد دی جاسکتی تھی اور قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
زیادہ پرانی بات چھوڑیں،قصور کی معصوم زینب کے کیس کو ہی دیکھ لیں۔ جغرافیائی اعتبار سے ایک نہایت چھوٹے علاقے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دس سے زائد واقعات ہوئے لیکن پولیس کو ایکشن لینے کے لئے زینب کے کیس کا انتظار رہا۔ ذرا سوچئے اگر اس کیس کے بارے میں بھی سوشل میڈیا او ر صحافتی حلقوں کی جانب سے دبائونہ ڈالا جاتا تو کیا پولیس اب بھی کسی قسم کا ایکشن لینے پر آمادہ ہوتی؟ ہمارا ریاستی نظام اس قدر بوسیدہ ہو چکا ہے کہ بچوں سے جنسی زیادتی کے بعد انہیں قتل کر دینے والے درندوں کو ڈھونڈنے کے لئے بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے تب تک حرکت میں نہیں آتے، جب تک ٹی وی پر چلنے والے ٹکرز دیکھ کر کوئی اعلیٰ سیاسی شخصیت واقعہ کا نوٹس نہیں لے لیتی۔ کیا وجہ ہے کہ ٹی وی پر چلنے والی خبروں کے بعد تو زینب کے کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ کا استعمال کر لیا گیا لیکن اس سے پہلے درندگی کا نشانہ بننے والی معصوم کلیوں کے لئے کسی نے بھی ڈی این اے ٹیسٹ تو دور کی بات، درست انداز میں تفتیش کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ اب تو یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ زینب کے کیس میں گرفتار شخص نے ہی اس سے پہلے بھی آٹھ معصوم بچیوں کو نشانہ بنایا تھا جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پولیس ان آٹھ کیسز میں سے ایک کے مجرم کو پہلے ہی مقابلے میں پار کر چکی ہے۔ اگر تمام بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا شخص عمران ہی ہے ،تو وہ بیچارا کون تھا جسے پولیس نے زیادتی کے مجرم کے طور پر پیش کیا اور مقابلے میں مار دیا؟ کیا ایک بے گناہ شخص کو پولیس کی روایتی کارروائی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا؟ اگر ایسا ہوا تو اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟ ان تمام پولیس افسران کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی جو ایک ہی علاقے میں ہونے والے، ایک ہی نوعیت کے اتنے سارے واقعات کے روپذیر ہونے کے باوجود کچھ بھی کارروائی نہ کر سکے؟
زینب کے کیس میں مجرم کی گرفتاری ایک اچھی خبر ضرور ہے لیکن کتنے ایسے واقعات ہوں گے جن کو زینب کے کیس جتنی کوریج ملتی ہے؟ کتنے کیسز ایسے ہیں جن کے بارے میں صوبے کاوزیر اعلیٰ خود نوٹس لیتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ریاستی ادارے انصاف فراہم کرنے کے لئے اعلیٰ حکام کے احکامات کے منتظر رہتے ہیں؟ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہم اداروں کی بجائے افراد پر انحصار کرنے لگ گئے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ اچھے افسران کے چلے جانے کے بعد محکمے پھر سے اپنی پرانی روش پر چل نکلتے ہیں۔ سرکاری محکموں کی خرابی کی ایک اور بڑی وجہ ان اداروں میں سزا اور جزا کا مناسب انتظام نہ ہونا بھی ہے۔ نا اہلی اور نالائقی کی بنیاد پر نہ تو سرکاری محکموں کے ملازمین کو نکالنا اتنا آسان ہے اور نہ ہی اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کی قسمت میں میرٹ کی بنیا د پر محکمانہ ترقی۔ ایسے حالات میں اچھی کارکردگی کی توقع کرنا بھی شاید بیوقوفی ہی ہے۔
ہمارے سرکاری محکموں کے مسائل کا حل ریفارمز ہیں لیکن اس کے بارے میں تفصیل سے بات کرنے یا حکمت عملی بنانے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے۔ عام پولیس کام نہیں کرتی تو ہم ایلیٹ فورس بنا لیتے ہیں،انصاف کے نظام کو ٹھیک نہیں کر پاتے تو ملٹری کورٹس بنا لیتے ہیں۔ ہم بطور قوم آسان راستہ چننے کے عادی سے ہو گئے ہیں،ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ ہمارے نظام میں موجود خرابیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، تب ہی ہم اپنے مسائل کا دیر پا حل ڈھونڈ پائیں گے۔انتخابات کی آمد آمد ہے ، یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں پر دبائو ڈالیں کہ وہ نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کے لئے دیر پا حل تجویز کریں۔ نعروں ، جذباتی باتوں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے سیاسی جماعتوں کو بھی ان مسائل پر توجہ دے کر ان کے مربوط حل کا منشور پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ پھر سے چند مہینوں بعد ہم کسی اور زینب کا نوحہ پڑھتے نظر آئیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں