• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کمسن دلہن نے چائلڈ میرج کے خلاف 10 سالہ جنگ جیت لی

After 10 Years Of Struggle Child Bride Wins Her Battle

بھارت میں ایک کمسن دلہن نے خوف اور دہشت کے باوجود چائلڈ میرج کے خلاف دس سالہ جنگ جیت لی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست راجستھان کے ضلع الور میںتھانہ غازی کی 19سالہ پنکی تنور کی شادی 10سال کی عمر میں ہمت سنگھ سے ہوئی تھی۔

پنکی کی والدہ میرا دیوی نے چائلڈمیرج کے خلاف کام کرنے والی ایک این جی او ’’سارتھی ٹرسٹ‘‘ سے رابطہ کیا اور مدد کی درخواست کی، اس پر پنکی کے سسرالی طیش میں آگئے اور اُسے گھر سے اغواء کرنے کی بھی کوشش کی تاہم محلے والوں نے اُسے بچالیا۔

ٹرسٹ کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر کریتی بھارتی نے پنکی کو جودھ پور بلالیا جہاں اُسے مکمل تحفظ کے ساتھ ساتھ ٹیچرز کے لئے امتحانات کی تیاری کروائی۔

پنکی نے امتحان پاس کرکے کالج میں داخلہ لے لیا جہاں وہ بی ایڈکی تعلیم حاصل کررہی ہے۔

ڈاکٹر کریتی کی مدد سے پنکی نے گزشتہ برس جون میں جودھ پور کی فیملی کورٹ میں اپنی شادی کی منسوخی کے لئے پٹیشن دائر کی ، ڈاکٹرکریتی نے عدالت میں پنکی کی عمر اور جبری چائلڈ میرج سے متعلق دستاویزات جمع کرائیں ۔

فیملی کورٹ کی جج ریکھا بھرگاوا نے چائلڈ میرج ایکٹ 2016ء کے تحت پنکی کی شادی کو کالعدم قرار دینے کا حکم دیا۔

عدالت کے فیصلے پر پنکی کا کہنا تھا کہ اب میری نام نہاد چائلڈمیرج کا خاتمہ ہوگیا ہے، اب میں اپنی پڑھائی پر توجہ دوںگی اور ٹیچر بنوں گی۔

 یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں چائلڈ میرج کے اعتبار سےبنگلادیش سرفہرست ہے جبکہ بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔نیپال اور افغانستان بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید