آپ آف لائن ہیں
پیر 5؍رمضان المبارک 1439ھ 21؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Article 62 One F Case Hearing Complete Verdict Safe

آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

x
Advertisement

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نااہلی مدت کا تعین پارلیمنٹ ہی قانون سازی کے ذریعے کر سکتی ہے،
اب سوال نااہلی کی مدت کے تعین کا ہے۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ آئین میں 62 ون ایف کے تحت مدت کا تعین نہیں، نااہلی کی مدت کا معاملہ پارلیمنٹ کو حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نااہلی کا داغ بعض اوقات کسی کے مرنے کے بعد بھی رہتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جب تک پارلیمان قانون سازی نہیں کرتی تو ڈکلیئریشن موجود رہے گا۔ آئین میں نااہلی ڈکلیئریشن کو ری وزٹ یعنی (ختم) کرنے کا میکنزم بھی نہیں ہے۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 'اگر کوئی کسی جرم میں سزا پائے تو وہ بھی داغ ہوتا ہے۔

اس سے قبل کیس کی 12 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے غیر حاضری پر اٹارنی جنرل کو 20 ہزار روپے جرمانہ کیا تھا۔ اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جرمانہ اٹارنی جنرل اپنی جیب سے اداکریں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ یہ کیس صرف نواز شریف اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے معاملے تک ہی محدود نہیں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عوامی نمائندوں کی نااہلی کی مدت کی تشریح کا بھی معاملہ ہے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں