آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاست میں آئے دن رونما ہونے والی تبدیلیوں نے جہاں پاکستانی عوام کو حیران پریشان کیا ہوا ہے وہاں بدلتے ہوئے سیاسی حالات دُنیا بھر میں مقیم تارکین وطن پاکستانیوں کی حیرانی اور اُن کے ذہن میں جنم لینے والے سوالات میںیکسر اضافہ کر رہے ہیں ۔تارکین وطن پاکستانی ٹیلی فون کالز ، سوشل میڈیا اور نیوز چینلز کی وساطت سے ہر وقت وطن عزیز سے مکمل رابطے میں رہتے ہیں ، پاکستان میں رہنے والوں کو شاید کسی بھی واقعہ کی خبر بعد میں ملتی ہو لیکن دیار غیر میں سوشل میڈیا تارکین وطن پاکستانیوں کو فوری آگاہی کا باعث بنتا ہے ۔پاکستانی سیاستدان ’’ گرگٹ ‘‘ کی طرح رنگ بدلتے رہے ہیں لیکن کچھ عرصے سے اس سلسلے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ،آج کل تحریک انصاف سے وفائیں نبھانے والے مسلم لیگ ن میں اور مسلم لیگ ن سے وفا کی قسمیں کھانے والے تحریک انصاف کی گود میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔پیپلز پارٹی کے سیاستدان اس مسئلے میں ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں اور درجنوں کے حساب سے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کئے جا رہے ہیں ، تحریک انصاف کو پی ٹی آئی لکھنے اور پڑھنے کی بجائے پی پی پی ٹی آئی کہنا بالکل ٹھیک ہے ،اور تو اور کل تک جو اینکر پرسن عمران خان اور تحریک انصاف کے بارے میں معیوب زبان استعمال کرتے تھےوہ اینکر بھی پی ٹی آئی میں

شامل ہوگئے۔تحریک انصاف کے چیئر مین نے کہا ہے کہ ہمیں میڈیا پر ایسی آواز کی ضرورت تھی ، دیکھنے میں آیا ہے کہ جس نے پی ٹی آئی یا عمران خان کو بُرا بھلا کہا وہ تحریک انصاف میں شامل ضرور ہوا ، اٹک کے میجر طاہر ، فواد چوہدری ، فردوس عاشق اعوان ، شاہ محمود قریشی ، امتیاز صفدر وڑائچ ، وسیم چن ، نذر محمد گوندل وغیرہ یہ وہ نام ہیں جو کل تک عمران خان کو یہودی لابی کا ایجنٹ اور پاکستانی معاشرے کو بگاڑنے کا ذمہ دار ٹھہراتے تھکتے نہیں تھے اب ان مذکورین کے بیانات اور تقاریر سن کر لگتا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف سے بہتر پاکستان میں کوئی اور نہیں ، اس تبدیلی کو سوائے ’’ جادو ‘‘ کے اور کیا کہا جا سکتا ہے ؟ جادو گر کون ہے یا یہ جادو گری کس نے کی؟ یہ تو عمران خان ہی بتا سکتے ہیں ۔چیئر مین سینیٹ کے الیکشن نے یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کومٹھائیاں تقسیم کرنے کی روایت کو دہرانے کا موقع تو دیا لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اصل مٹھائی کس سیاسی جماعت نے تقسیم کی ، مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والوں نے مبارک بادوں کے پیغامات والے اشتہارات سے سوشل میڈیا ’ ’ بھر ‘‘ دیا تھا ، یہ لوگ چوہدری شجاعت کی تصویر کے ساتھ اشتہار لگاتے اور لکھتے کہ ہم مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے چیئر مین سینیٹ کی جیت پر پورے پاکستان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں ، پاکستان پیپلز پارٹی والوں نے بھی مٹھائیاں تقسیم کیں اور خبروں میں اس بات کو نمایاں کیا کہ صادق سنجرانی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ، تحریک انصاف کہ جس نے 13ووٹ جیتنے والے چیئر مین کو دیئے لیکن ساتھ ہی یہی ووٹ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی چیئر مین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کو بھی کاسٹ کئے ،یہ لوگ اپنے چیئر مین کو زیر ک سوچ کا مالک، ذہین ، سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا کہتے اور مسلم لیگ ن کے امیدوار کو شکست دینے کا سہرا اُن کے سر باندھنے میں مصروف رہے ، جب ان مٹھائی بانٹنے والوں سے پوچھا گیا کہ بھائی چیئر مین سینیٹ کا تعلق کس جماعت سے ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ کس سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں ہم تو یہ جانتے ہیں کہ انہیں فاتح بنانے میں ہماری جماعت کے قائدین کا ہاتھ ہے ، میں نے تحقیق کی کہ آخر چیئر مین سینیٹ کا تعلق ہے کس سیاسی جماعت سے ہے تو کچھ معلومات ہاتھ لگیں جو اُن تارکین وطن پاکستانیوں کو دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں جو چیئر مین سینیٹ کو اپنی سیاسی جماعت کا کارکن سمجھ رہے ہیں ، اُن سے عرض کچھ یوں ہے کہ آزاد امیدوار کے طور پر سینیٹ کے ممبر بننے والے صادق سنجرانی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے چیئرمین کیلئے متفقہ امیدوار تھے جو کہ 57 ووٹ لے کر سینیٹ کے چیئر مین منتخب ہوئے۔ بلوچستان کے صوبہ سے سینیٹ چیئر مین منتخب ہونا ایک اچھا اقدام ہے ماضی میں قدرتی ذخائر سے مالا مال یہ صوبہ ہمیشہ سیاست کی نذر ہوتا رہا ہے اس عمل میں انڈیا اور دوسرے غیر ملکی دشمن عناصر کی دخل اندازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں یہ کہنا قطعاً غلط نہ ہوگا کہ صادق سنجرانی کے چیئر مین سینیٹ منتخب ہونے سے یقینی طور پر بلوچستان میں ترقی ہوگی اوریک جہتی کو فروغ ملے گا جوملک دشمن طاقتوں کو ناگوار ضرور گزرے گا ۔ صادق سنجرانی کے سیاسی کیریئر کو دیکھیں تو علم ہوتا ہے کہ وہ 1998میں وزیر اعظم نواز شریف کی سیکرٹریٹ ٹیم کے کوآرڈی نیٹر تھے اور یہ عہدہ اُن کے پاس جنرل پرویز مشرف کی طرف سے حکومت ٹیک اوور کرنے تک رہا، اور جیسے ہی پرویز مشرف کا دور ختم ہوا تو موصوف سال 2008میں پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کے شکایات سیل کے انچارج مقرر ہوئے اور اس عہدے پر 2013تک رہے۔الیکشن 2013میں دوبارہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہونے پر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ثناء اللہ خان زہری کے اسپیشل اسسٹنٹ مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کی باقی فیملی میں سے بھی کچھ افراد مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر صوبائی اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، اب کیسے فیصلہ کیا جائے کہ چیئر مین صاحب کس سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ صادق سنجرانی اور اُن کے خاندان کی پاکستان مسلم لیگ ن سے وابستگی دیکھنے کے بعد بھی یہ کہنا کہ وہ آزاد امیدوار ہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟ صرف آزاد ٹکٹ پر منتخب ہونے سے’’ آزاد‘‘ ہونا نہیں ہوتا، میں سمجھتا ہوں کہ صادق سنجرانی پرآزاد امیدوار کا ٹائٹل لگا کر دراصل تحریک انصاف کو اندھیرے میں رکھا گیا تھا تاکہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے اصل امیدوار( صادق سنجرانی ) کی حما یت کر سکے ، جس کے بدلے میں ڈپٹی چیئر مین کی سیٹ پیپلز پارٹی کو دے دی گئی یہی وجہ جب سمجھ میں آئی تو تحریک انصاف سینیٹ میں ہاتھ ملتے رہ گئی اور شایداب مٹھائیاں بانٹ کر یہ جماعت خفت مٹانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔کیونکہ چیئر مین تحریک انصاف پھر سے آصف زرداری اور میاں نواز شریف کو بڑے ڈاکو کہنا شروع ہو گئے ہیں ، دوسری طرف بلاول بھٹو اور زرداری عمران خان پر تنقید کے تیر برسا رہے ہیں ،میاں نواز شریف آصف زرداری اور عمران کے گٹھ جوڑ پر سراپا احتجاج ہیں ، عجیب گورکھ دھندا ہے ،کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کون ٹھیک ہے اور کون غلط ؟ بالکل ایسے ہی جیسے ایک وقت میں پی ایس ایل کے پوائنٹس کو دیکھتے ہوئے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جیتا اور ہارا کون ہے ؟ پھر یہ کہ اب آگے کون جائے گا ؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں