آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمہوریت کی نیک نامی کاسب سے مؤثرضابطہ انتخابی عمل ہے اورجماعتی انتخابات اس طرزِ حکومت کومضبوط بنیادفراہم کرتے ہیں۔ایسی بنیادجس پرجمہوریت کی عمارت سراُٹھاکرکھڑی ہوتی ہے۔لیکن،اگرآمریتوںکی طرح جمہوریت بھی ہمارے لئے کبھی خیراندیش ثابت نہیںہوئی تواس میںزیادہ دخل حکمرانوںکی کاہے جواپنے ذاتی یاگروہی مفادات کی گردسے انتخابی عمل کو آلودہ کرتے ہیں اورجمہوریت کوبھی اپنے پائوںپرزیادہ دورتک چلنے نہیںدیتے۔
2018کے انتخابی عمل میںآلودگی کاآغازبلوچستان سے ہواجہاںسینیٹ کے انتخابات سے بہت پہلے اورآج تک،جب اس عمل کومکمل ہوئے ایک مہینے سے بھی کچھ دن زیادہ بیت چکے ہیں۔ اس دوران سودے بازی اور لین دین کی وہ دھول اُڑی کہ اب انتخابی عمل کاراستہ صاف دکھائی نہیں دیتا۔ ہماری لوک کہاوت ہے ’’بچے کے پائوںتوپالنے میںہی نظرآجاتے ہیں‘‘ انگریزی میںجسے فوک وزڈمFOLK WISDOM کہتے ہیں، اگر اس پر جائیں تو لگتا ہے کہ آئندہ مہینوں میں ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اگرچہ جماعتی بنیادوں پر منعقد ہورہے ہیںلیکن اپنی اصل میںیہ ہوںگے سینیٹ کی طرح غیرجماعتی ہی۔
دراصل1970سے،جب ملک گیرسطح پربالغ حق رائے دہی کے مطابق پہلے براہ راست جماعتی انتخابات منعقدہوئے،حکمران اشرافیہ کی ہمیشہ اوریہی شدید خواہش

رہی کہ انتخابی نتیجے میںمعلق HUNG پارلیمنٹ وجود میںآئے۔خاص طورپرایسی قومی اسمبلی تشکیل پائے جہاںکسی ایک سیاسی جماعت کواطمینان بخش اکثریت حاصل نہ ہو تاکہ حکومت بنانے کے لئے دوسے زیادہ پارلیمانی جماعتوںکااتحادیاکولیشن ناگزیر ٹھہرے۔ ظاہرہے اس صورت حال میں جوحکومت کرنا چاہیںگے وہ حکومت سازی سے حکمرانی تک ہرمرحلے میں ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘قائم رکھنے والوںکی نظرکرم کے منتظر بھی رہیں گے۔ بلاشبہ1970سے زیادہ شفاف، آزاد اور غیرجانبدارانہ انتخابات نہ پہلے کبھی منعقدہوئے تھے اور شایدنہ کبھی بعدمیںمنعقدہوسکے۔حکمران اشرافیہ کویقین تھا اور ’’سب اچھا‘‘ کی صدائیں لگانے والے دانشوروں کے تجزئیے بھی یہی کہتے تھے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ وجودمیںآئے گی لیکن مشرقی اور مغربی پاکستان میںالگ الگ صرف دوسیاسی جماعتوںکوواضح اکثریت حاصل ہوئی۔جب اندازے غلط ثابت ہوئے تواقتدارکی منتقلی میںبھی تاخیرہوتی چلی گئی اور بالآخر افسوسناک جدائی کاسانحہ ہمارا مقدر بنا۔ پھر اس کے بعد حکمران اشرافیہ نے کبھی’’احتیاط‘‘کادامن ہاتھ سے چھوڑنے کی غلطی کودہرایانہیں۔
اب ایک طرف تویہ انتہاہے جس کا اوپر ذکر ہوا اور دوسری طرف یہ صورت حال ہے کہ ہمارے ترقی پسند اور ذی فہم مگرزودرنج دانشوراوررائے عامہ بنانے والے دوسرے طبقات اورسول سوسائٹی کی اکثریت بنیادی طورپرمثالیت پسندہے۔یہ لوگ ہمیشہ دو انتہائوں کے درمیان جھولتے ہیں۔انہیںنصف زندگی خیراندیشی کے دعویدار آمروںکی خودساختہ جمہوریت کے وعدوں پر گزارناپڑتی ہے مگرجونہی کوئی نیم جمہوریت گرتے پڑتے اپنی آدھی آئینی مدت مکمل کرنے کی کوشش کرتی ہے توان کاآئیڈیل ازم اوران کی مثالیت پسندی انہیں برطانوی پارلیمانی جمہوریت سے کم ترکسی جمہوری ماڈل پر راضی نہیںہونے دیتی اوران کادل فوراً لندن کے ویسٹ منسٹرکے ساتھ دھڑکنے لگتاہے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ جمہوریت ایک تدریجی عمل ہے اور برطانوی پارلیمانی جمہوریت کہیںپانچ سو برس میں جاکرپروان چڑھی تھی۔
پہلی برطانوی پارلیمنٹ جس نے اپنے بادشاہ کے حق حکمرانی اورصوابدیدی اختیارات کومحدودکیااس کی بنیاد1215ء میںاس وقت رکھ دی گئی تھی جب بادشاہ جان نے یہ اصول قبول کرلیاکہ’’نمائندگی کے بغیرکوئی ٹیکس نہیں‘‘اوربرطانوی اشرافیہ کے ساتھ معاہدے کے تحت اسے ’’میگناکارٹا‘‘کرلیاگیاتھا۔پھرپانچ سوبرس کی مسلسل جدوجہد،تصادم اورصبرواستقامت کی تاریخ رقم کرنے کے بعدیہ انقلاب اس وقت پایہء تکمیل کو پہنچاجب 1703میںپارلیمنٹ نے برطانیہ میںحق رائے دہی کوفردکے بنیادی حق کے طورپرتسلیم کرلیا۔یہ وہی زمانہ تھاجب برّصغیرجنوبی ایشیامیںمغل جانشینی کی جنگ کسی وقت بھی متوقع تھی۔ہرمغل فرمانرواکی موت کے ساتھ یہ عمل دہرایا جاتا اور جو وارث بھی اپنے بھائیوں اور تخت کے دوسرے تمام متوقع وارثوں کو ٹھکانے لگانے میںکامیاب رہتا وہی ہندوستان کی بادشاہت کا حقدار ٹھہرتا۔ 1707ء میں اورنگزیب عالمگیر کا انتقال ہوا اور اس کے جانشینوںمیںخانہ جنگی 150برس کے بعد کہیںاس وقت جاکرختم ہوئی جب1857ء کی مختصرجنگ آزادی کے نتیجے میںآخری مغل تاجداربہادرشاہ ظفرکومعزول کرنے کے بعد وطن بدربھی کردیاگیا۔
پاکستان میںجمہوریت کی ناکامی میںیقیناََ بہت سے دوسرے عوامل بھی کارفرمارہے ہوںگے لیکن میرے نزدیک اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے شعوری طورپراپنے آپ کوبرصغیرجنوبی ایشیاکاحصّہ کبھی نہیںسمجھا۔اس کی بجائے ہم نے مغربی ایشیاسے ناطہ جوڑے رکھاجہاںسبھی مسلمان ملک تھے۔ اس لئے برصغیرکے مسلم اکثریتی علاقوںمیںقائم ہونے والی ایک نئی مملکت فطری طورپراپنے مغرب کے مسلمان ملکوںکی طرف مائل رہی اورسوئے اتفاق کہ ایک ’’برادرملک‘‘ترکی کے علاوہ کہیںکسی ایک مسلمان ملک میںنام کی جمہوریت بھی نہیںتھی۔یہی وجہ تھی کہ جمہوریت کے قیام یااس کاتسلسل برقراررکھنے کے لئے ہم پرمسلم امّہ کے دبائوکاکبھی سوال ہی پیدانہیںہوا جب کہ مشرق میںبھارت سے ہماری دشمنی ازلی تھی اور اگروہاںپارلیمانی جمہوریت کاتجربہ کامیاب رہا تھا تو دشمن کی کامیابی ہمارے لئے قابل تقلیدنہیںتھی ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس عہدمیںجب مواصلاتی انقلاب کے نتیجے میںدنیاایک عالمگیرگائوںکی صورت سمٹ آئی ہو، ایک ایساملک جسے پارلیمانی جمہوریت اپنے نوآبادیاتی مالکان سے ورثے میںملی ہو، وہاںباربارکی آمریتوں کے فطری اورمنطقی ردّعمل میںایک ایسی پرامن تحریک نہ جنم دی جاسکے جوجمہوری تسلسل کوبرقراررکھ سکے۔
ان حالات میںہمارے مثالیت پسندکیسے توقع لگابیٹھتے ہیںکہ ہمارے ہاںجب جب جمہوریت بحال ہو،وہ براہِ راست برطانوی پارلیمانی جمہوریت کی مثال ہو۔ جمہوریت کی جنگ جیتنے کیلئے انگلستان کے عوام نے پانچ صدیوںتک صبرواستقامت کامظاہرہ کیا جہاں تاجرنے اپنے حقوق کے لئے طویل جدوجہدکی۔تاجرکی کامیابیوںنے صنعتی انقلاب کاراستہ ہموار کیا اور صنعتوںکے تیارمال کی بلاروک ٹوک ترسیل اورکھپت کے لئے ایک بارپھرتاجرنے صنعتکارکے ساتھ مل کرراستے کی مشکلات پربتدریج قابوپالیا۔تجارت اورصنعت کے اشتراک نے نت نئی ایجادات کاراستہ کھول دیا۔ایجادات کے لئے فنی تعلیم اورسائنس پرانحصارناگزیرتھا۔
سائنس کی ترقی نے مظاہرِفطرت کوان کے حقیقی تناظر میںپرکھنے کی رِیت ڈالی۔اب سوال کرنااورمروجہ نظریات پرشک کااظہارکرناقابل گرفت جرم نہ رہا۔ اب عقل وشعور،دلیل اورمنطق زمانے کاچلن بنا۔یہ روشن خیالی کاآغازتھا۔نظریاتی اورعملی شدت پسندی کی جگہ معقولیت اوراستدلال کورواج ملا۔انگلستان کے بعدپورے یورپ نے بھی ویٹی کن کی پوپ شاہی گرفت سے نجات حاصل کرلی۔انگلستان کے اس پرامن شاندارانقلاب کے بعد18ویںصدی کی آخری دہائی میںجب فرانس کاانقلاب برپاہواتواس نے یورپ کی تاریخ بدل ڈالی۔یورپی سماج کاتاروپودSOCIAL FABRICاوراس کی تراش خراش کاعمل تیزرفتاری کے ساتھ مکمل طورپرتبدیل ہوتاچلاگیا۔
یہ درست ہے کہ یورپ اورانگلستان کی کامیابیوں نے ہمیںجمہوریت کا نقشِ اول یا نمونہ PROTOTYPE فراہم کردیا۔اب یہ ضروری نہیں کہ ہماراسفربھی اتناہی طویل اورکٹھن ہولیکن ترقی اور خوشحالی کے سب راستے جمہوریت سے ہوکرگزرتے ہیں۔ تب کہیںجاکرنظرآئی ہے بے داغ سبزے کی بہار۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں