آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں گزرا عشرہ جمہوریت (18-2008) ناکام ترین بھی اور کامیاب ترین بھی ر ہا۔ کیسے؟عشرے کی اختتام پذیر (آخری تین چار ماہ) میں ’’آئین نو‘‘کی چار پانچ اشاعتوں میں کامیابیوں اور ناکامیوں کا حساب کتاب تفصیل سے کیا گیا اب تو نئے عشرے کے حوالے سے بات ہونی چاہئے۔ ویسے بھی انتخابی موسم ہے، سیاسی ابلاغ کے بہائو کا رخ نئے دعوے وعدوں ،حکومت میں رہی جماعتوں کا اپنے کارنامے گنوانے اور مخالف جماعتوں پر روایتی بلیم گیم،کوسنوں اور پروپیگنڈے کی طرف مڑ گیا ہے۔ لیکن شروع ہونے والے نئے عشرے کی راہ درست نہیں ہو گی اگر گزرے میں ہونے والی نشاندہیوں ، مثبت تنقید اور ادھوری رہ جانے والی قومی ضروریات کو پورا نہ کیا گیا۔
ایک بڑی نشاندہی رخصت پارلیمان کی کارکردگی کے جائزے ہیں جو شدیدسیاسی تنقید اور صحافتی اور علمی انداز میں تواتر سے لئے جاتے رہے، شاید اس سے قبل کسی پارلیمان کے بال کی کھال اس طرح نکالی گئی ہو، جس طرح گزرے عشرہ جمہوریت کی ہر پارلیمان (بشمول صوبائی) کا پرفارمنس آڈٹ ہوا۔ پہلے یہ سلسلہ فقط پارلیمانی رپورٹرز کی ’’پارلیمانی ڈائری‘‘ یا کسی حد تک سیاسی ابلاغ کا ہی موضوع ہوتا لیکن مدت پوری کرنے والے تو ہر منتخب ایوان کی خوب خبر لی گئی کیا سوشل میڈیا ، کیا ٹاک شو ز پارلیمانی رپورٹنگ کے انداز بدلے بھی گئے

اور ان میں وسعت بھی آئی، یو ں ان کے اجتماعی رویے بھی رپورٹ ہوئے، پیشہ صحافت میں یہ مشکل لیکن اہم ترین کام ہے کہ ذمے دار سرکاری اداروں اور اعلیٰ سیاسی شخصیات کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ، ایسی رپورٹنگ کی جائے کہ عوام الناس پر ان کا مجموعی رویہ آشکار ہو جائے۔
اطمینان بخش یہ بھی بہت ہے کہ منتخب ایوانوں کی صرف مانیٹرنگ ہو کر اس کی کارکردگی اور مجموعی رویے کی نشاندہی اور رپورٹنگ ہی نہیں ہوئی، پارلیمان کی اہمیت اور مطلوب توقیر کو تسلیم بھی بہت کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں سے لے کر فوج تک اور میڈیا سے لے کر عوام الناس خصوصاً صاحب الرائے شہریوں تک ، پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کی ناقص ترین کارکردگی کے باوجود اس کی اہمیت اور اس حوالے سے حکومتی وسیاسی عمل میں پارلیمان کی بالادستی کا کھلا اقرار ہوا کہ بقائے جمہوریت کے لئے یہ لازم ہے ۔ فوج کے بالائی ذرائع سے بھی باربار یقین دلایا گیا کہ وہ آئین اور پارلیمان کی بالادستی پر کامل یقین رکھتی ہے۔کیونکہ ماضی میں پارلیمان کو اپنی ناقص کارکردگی کے متوازی ہر وقت کا دھڑکا یہ ہی ہوتا کہ کسی بھی وقت آمر کے قلم کی جنبش سے پارلیمان یکدم ختم نہ ہو جائے۔
یہ امر واضح ہونا چاہئے کہ پارلیمان بنیادی طور پر اپنے آئینی کردار اور طریق تشکیل کے حوالے سے ایک جمہوری معاشرے میں واقعی مقدس ادارہ ہے، جہاں ایک جمہوری قوم کی فلاح، ملکی استحکام اور مستقبل کے نتیجہ خیز آساں سفر کی راہیں نکلتی ہیں ، جس کی عملی شکل صرف اور صرف پروپیپل لیجس لیشن (عوام دوست قانون سازی) ہے۔ یہ ہی پارلیمان کے مطلوب تقدس اور عزت و توقیر کا لازمہ ہے، جو اطمینان بخش رفتار سے بمطابق جاری رہے تو پارلیمان کی بالادستی خود بخود قائم ہو جاتی ہے۔ کوئی اسے روک سکتا ہے نہ اسے قائم کرنے کی دہائی ڈالنے کی ضرورت اور نہ ہی کسی پر الزام کہ فلاں ایسا نہیں ہونے دے رہا۔
وائے بد نصیبی پہلے بھی خصوصاً گزرے عشرے میں تو ہماری پارلیمان بنتے ہی بدنام ہونے لگتی ہے ۔ اس پر انگلیاں اٹھنے لگتی ہیں اور جیسے ہی یہ اپنے بے جان اجلاسوں کے ذریعے بے نقاب ہوتی جاتی ہے اس پر سیٹیاں بجنے لگتی ہیں۔ اس میں بچاری پارلیمان (بطور آئینی ادارہ) کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ اس کا ڈارلنگ قائدایوان (اکثریتی جماعت کا لیڈر یعنی وزیر اعظم) ہوتا ہے۔ وہ ہی پارلیمان سے بے وفا، لاپرواہ یا اناڑی عاشق کی طرح ہو تو پارلیمان تو پھر بدنام ہوتی ہے، کیونکہ اس کا بس چلنا یا بمطابق سنبھلنا، قائد ایوان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے توا سپیکر ز بھی آئینی تقاضوں کے مطابق آزاد و غیر جانبدار نہیں ہوتے، وہ پارلیمانی لیڈر کے رویے اور اشاروں پر منتخب ایوانوں کو چلاتے ہیں۔ اسی کا شاخسانہ ہے سیاسی بازار میں اور رات گئے ٹی وی ٹاک شوز میں تو پارلیمان کی بدنامی کا سامان ہوتا ہے،اب تو اس کے بانجھ ہونے کی بازگشت عدالت عظمیٰ میں بھی سنی گئی۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار، جو آرٹیکل (3) 184 کے ذریعےپرفارمنس آڈیٹر بھی بن گئے ہیں، نے گزشتہ روز پنجاب میں پینے کے صاف پانی کی سپلائی کی فراہمی میں اربوں روپے کے گھپلے کے کیس کی سماعت میں یہ بالکل درست ریمارکس دئیے کہ :’’ملک میں قانون بنانے کی صلاحیت بالکل ختم ہو چکی ہے‘‘ یہ کام اور اس کی صلاحیت پارلیمان میں ہی ہوتی ہے۔اس کی کوالٹی اور آئینی فرائض کی ادائیگی کے بڑے ذمےدار پارلیمان میں قائد ایوان پر ہی عائد ہوتا ہے جو اپنی غالب مرضی اورپسند سے اکثریتی جماعت کے امیدواروں کو ٹکٹ دینے میں با اختیار ہوتے ہیں ، پھر جب پارلیمان تشکیل ہوتی ہے تو بھی کارکردگی کا بڑا ذمہ دار اکثریتی جماعت کے حوالے سے قائد ایوان ہی ہوتا ہے۔ مرحلے پر ن لیگ کی بقاءاور احتساب سے گریز کے لئے حتیٰ کہ ختم نبوتؐ جیسے حساس موضوع پر قانون سازی کے نام پر جو تماشا پارلیمان سے کرایا گیا اس میں ن لیگ کو اندازہ ہی نہیں کہ بچاری پارلیمان کے ساتھ اس کی اپنی پوزیشن کتنی گری ۔ پیر سیال صاحب سے پوچھ لیں۔یہ طے شدہ ہے کہ قائد ایوان کی مرضی کے بغیر کوئی قانون بن سکتا ہے نہ ان کی حاضری کے بغیر پارلیمان مستعد ہو سکتی ہے ۔ میڈیا کا حساب یہ ہے کہ گزرے عشرے کی دوسری بار میں جناب نواز شریف جنہیں پارلیمان نے تین مرتبہ وزیر اعظم بنایا وہ فقط آٹھ مرتبہ ’’مقدس ایوان ‘‘ میں آئے، جب آئے تو پارلیمان’’بدنام منی‘‘ بن چکی تھی۔
یہاں جو انہوں نے طویل خطاب فرمایا وہ پاناما لیکس کے حوالے سے الزامات پر اپنی صفائی کا طویل بیانیہ تھا، جب یہ عدالتی سماعت میں زیر بحث آیا تو وزیر اعظم صاحب کے وکیل نے استدعا کی کہ اس کے حوالے سے سوال نہ کریں یہ پارلیمانی خطاب تو ’’سیاسی نوعیت‘‘ کا تھا یعنی جیسے سیاسی ابلاغ جھوٹ سچ پر مبنی ہوتا ہے۔ ہائے بچاری پارلیمان۔ ایسے میں تو پھر پارلیمان بدنام ہو گی۔ اس کی توقیر قائد ایوان ہی نہ کر ے تو اور کون کیا کرے گا؟ حالانکہ ایسے میں لیڈر آف دی اپوزیشن کے پاس سنہری موقع ہوتا ہے کہ وہ پارلیمان کی ڈارلنگ بن جائے، لیکن اس کیس (کہ میاں نواز شریف نے خود ہی پارلیمان کو کوئی عزت نہ دی۔ جو کہ ووٹ کی عزت کا سب سے بنیادی تقاضا تھا) میں چھوٹے میاں (خورشید شاہ) لیکن اصل میں عمران خان نے بھی پارلیمان کو گھاس نہ ڈالی تو بچاری پارلیمان پانچ سال کی تو ہو گئی لیکن عزت پھر بھی نہ کمائی۔
تشویش یہ ہے کہ اب جبکہ سب اندازے ظاہر کر رہے ہیں کہ عمران خان کے ڈارلنگ بننے کے امکانات واضح ہوتے جا رہے ہیں ان کے ہاٹ کیک کی خوشبو نے ن لیگ کو اچھا بلا ڈسٹرب کر دیا اور گزری پارلیمان کے بے وفا ڈارلنگ نے اپنے سابق بے وفا اراکین اسمبلی پر ’’فصلی بٹیرے‘‘ ہونے کا طعنہ بھی دے دیا،لیکن یہ بھی خبریں آ رہی ہیں کہ خاں صاحب اپنے قائدانہ اختیارات سے جو امیدوار میدان میں اتار رہے ہیں ، اس سے مستقبل کی پارلیمان پھر گھبرائی ہوئی ہے کہ مجھے نہ جانے کیسے چلایا جائے گا اور اگلا ڈارلنگ مجھے سنبھال بھی پائے گا؟
’’ہوم ورک‘‘ کا لفظ تو شاید ان کی ڈکشنری میں ہے ہی نہیں ، حالانکہ بہت پہلے کم از کم ایک سال سے تو ’’آئین نو ‘‘ میں بار بار الرٹ کیا گیا کہ بھائی معیاری پارلیمان کے لئے ہوم ورک شروع کرو۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں