آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں سب سے آسان کام الزام لگانا ہے۔ جس معاملے کو بھی متنازع بنانا ہو ،اس میں الزام کا سہارا لیا جاتا ہے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ عوام زیادہ تر الزامات کو درست مان کریقین کرلیتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ الزام لگانے والے سےکوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ یہاں پر خبر کی تردید کو اس کی تجدید سمجھا جاتا ہے۔الزام لگاتے ہوئے خوب پروپیگنڈا اور تشہیر کی جاتی ہے۔مگر جب وہ الزام غلط ثابت ہو اور اس کی تردید کی جائے تو ہم ایسے ردعمل دیتے ہیں جیسے کوئی سانپ سونگھ گیا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ 70برس کے دوران ہم ایسی روایات متعار ف کرانے میں ناکام رہے ہیں۔جس سے غیر ذمہ داراور الزامات لگانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو۔اس کی سب سے بڑی وجہ سزا جزا کے موثر نظام کا نہ ہونا ہے۔ اس حوالے سے ملک میں قانون تو موجود ہے مگر کبھی اس قانون کا موثر استعمال نہیں کیا گیا۔پاکستان میں آج تک ہتک عزت میں مقدمات میں کسی کو مثال نہیں بنایا گیا۔ اگر کئی سال تک کیس چلنے کے بعدکسی ماتحت عدالت سے سزا سنابھی دی جائے تو چند گھنٹو ں میں حکم امتناع مل جاتا ہے۔یہاں پرجوش خطابت کا ہنر میسر ہو تو جب چاہے شرفا کی پگڑی اچھال دیں۔اسی خطابت میں چھوٹے بڑے ،صاحب عزت ،شریف النفس کی عزت سے کھیلنا ۔گویا بچوں کا کھیل بن گیا ہے،میڈیا کا عروج سر آنکھوں پر ،حق

خطابت بھی مناسب ،مگر جھوٹ اس قدر کہ خوف خدا ہی نہ رہے،جی ہاں یہی کیفیات ہیں جو مجھے آج اس کالم کو لکھنے کا محرک دکھائی دیتی ہیں۔
مغربی ممالک میں الزاما ت لگانا اور جھوٹ بولنے کو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔تصور ہی نہیں ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے سنی سنائی باتوں پر کسی شریف آدمی کی عزت تار تار کردی جائے۔خاص طور پر برطانیہ میں اس کے حوالے سے قانون بہت سخت ہے۔ہتک عزت کے مقدمات کو برطانوی عدالتیں بہت سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ اتنی چالاکی نہیں کہ زور بیان سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بناؤ۔اس لئے کہ مجھے اس چیز سے منع کیا گیا ہے۔یہی میرے دین کا حکم ہے۔کسی حکیم کا قول ہے کہ اگر تم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوگے تو تمہارا شمار ظالم کا ہاتھ روکنے والوں میں ہوگا۔حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ شریف وہ ہے جو مظلوم کے ساتھ انصاف کرے۔مجھے یاد ہے کہ پاکستان کے معروف صنعتکار میاں محمد منشا کے خلاف ایک ٹی وی چینل نے بغیر کسی ثبوت کے الزامات کی بوچھا ڑ کردی۔ہر روز جھوٹی کہانیاں بیان کرکے شریف آدمی کی عزت کو اچھالا گیا۔مذکورہ ٹی وی چینل کے تمام پروگرام برطانیہ میں بھی نشر ہوئے تھے۔ٹی وی چینل نے جب الزامات کی حد کردی اور باز نہ آنے کا تہیہ کرلیا تو میاں منشا نے مذکورہ ٹی وی چینل کے خلاف برطانیہ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا۔برطانیہ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ سب سے پہلے اس عدالت میں Jurisdictionدائرہ اختیار ثابت کریں۔بہر حال میاں صاحب برطانیہ کی عدالت میں یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ ان کا معاملہ مذکورہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔یوں کیس کی سماعت شروع ہوئی اور میاں منشاٹی وی چینل کے خلاف کیس جیتنے میں کامیاب ہوگئے اور ٹی وی چینل عدالت میں کسی بھی الزام کے حوالے سے کوئی بھی ثبوت پیش نہ کرسکا۔یوں چینل کو بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔اگر یہی کیس پاکستان میں دائر کیا جاتا تو اس کا یا تو فیصلہ کبھی سنایا ہی نہ جاتا اور اگر فیصلہ ہوتا بھی اس کے لئے منشا فیملی کو دو نسلوں تک انتظار کرنا پڑتا۔پاکستان میں ہتک عزت قانون کو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہئے تاکہ ایک مخصوص مدت میں کیس کا فیصلہ کیا جاسکے۔جب کہ حکم امتناع اور عدالت میں پیش نہ ہونے جیسے تاخیر ی حربوں کے حوالے سے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔موثر شخص تو بڑا وکیل رکھ کر حکم امتناع بھی ختم کروا لیتا ہے مگر کمزور آدمی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جب تک پاکستان میں ہتک عزت کے قانون کا موثر استعمال شروع نہیں ہوگا۔الزامات اور جھوٹ بولنے کے رجحان کو مزید فروغ ملتا رہے گا۔پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ ن کے صد ر شہباز شریف نے عمران خان کے جھوٹے الزامات کے حوالے سے ہتک عزت کا دعویٰ دائرکیا ہوا ہے مگر مجال ہے جو عمران خان قانون کے خوف سے کیس میں پیش ہوں اور تاخیری حربے استعمال نہ کریں۔اسی طرح اور بھی کئی شریف لوگوں کے ہتک عزت کے مقدمات زیر التوا ہیں اور جھوٹے الزام لگانے والوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے کہ انہیں قانون کچھ نہیں کہہ رہا۔
جھوٹ اور منافقت ہمارے رویوں میں اس حد تک سرایت کرچکی ہے کہ ہم کوے کو بھی سفید کہنے سے گریز نہیں کرتے۔بلکہ میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارے ہاں منافقت میںبھی ملاوٹ موجود ہے۔دو روز قبل لاہو رکی تاریخ کی طوفانی بارش ہوئی۔50فیصد سے زائد لاہور مکمل جبکہ بقیہ جزوی طور پر پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ایسی قدرتی آفات سے توبہ اور مغفرت کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔مگر ہمارے لوگوں نے بارش پر بھی جھوٹ اور منفی پروپیگنڈے کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ممبئی میں ہونے والی بارشوں اور اس کی تباہی کی تصاویر شیئر کی گئیں اور سوشل میڈیا پر لکھا گیا کہ لاہور کا بارش نے یہ حال کیا ہے۔حالانکہ چند ماہ پہلے ہی ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا کا بہترین شہر پیرس طوفانی بارشوں سے ڈوب گیا تھا۔ میٹرواسٹیشنزبند ہوگئے تھے،ایئر پورٹس کو پروازوں کے لئے بند کردیا گیا تھا۔ حالانکہ پیرس کا نکاسی آب کا نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتاہے۔مگر قدرت سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ اسی طرح گزشتہ سال اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید زلزلہ آیا۔ لچک کی وجہ سے راولپنڈی کا میٹرو ٹریک تیزی سے ہلتا رہا۔ اگر اس میں لچک نہ ہوتی تو وہ فورا گر جاتا مگر ہمارے دوستوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ شدید زلزلہ آنے پر یہ ہوا میں جھولتا کیوں رہا ہے۔ اگر اللہ نہ کرے ٹریک کا کوئی بھی حصہ گر جاتا تو کہا جاتا کہ یہ گر کیوں گیا ہے؟ زلزلے کے بعد دہلی میٹرو کے ٹریک کی مختلف تصاویر شیئر کردی گئیں کہ راولپنڈی میٹرو کو زلزلے سے شدید نقصان پہنچا ہے اور اب یہ مزید استعمال نہیں ہوسکتا۔ڈیڑھ سال سے زائد ہوگیا ہے اور ٹریک اپنی جگہ قائم ہے اور مسافروں کو محفوظ سفر کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔سب بالا مثالیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ دراصل ہمارے رویوں میں منفی پن بہت حدتک سرایت کرگیا ہے۔اس لئے ہم ہر معاملے میں منفی پہلو تلاش کرتے ہیں۔کسی کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔اگر ہم نے ترقی اور اسلامی اقدار کی پاسداری کرنی ہے تو ہمیں مضبوط اخلاقی قدریں متعارف کرانا ہونگی۔تاکہ ہمارے رویوں میں جھوٹ اور الزامات کا رجحان کم ہوسکے۔
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں