آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’یہ عمل درحقیقت گواہی اور حکومتی نظم و نسق میں معاون و مددگار کی حیثیت رکھتا ہے،اس لحاظ سے ووٹ دیتے وقت امیدوار کی دیانت و امانت ،دین داری ،فرض شناسی ،خوف ِ خدا،حُبّ الوطنی اور کردار و گفتار کو پیشِ نظر رکھنادینی و شرعی لحاظ سے ایک ضروری امر ہے‘‘

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پسندیدہ دین کے طور پر شریعت اسلامیہ کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمایاتو اسلام نے اپنے ماننے والوں میں یہ بنیادی عقیدہ راسخ کیا کہ تمام انسان پیدائشی طور پر آزاد ہیں ، لیکن یہ آزادی لامحدود نہیں ،جس سے انسان اپنے خالق کا باغی، وحشی اور سرکش ہوجائے،بلکہ تمام انسان اللہ کے بندے ہیں ۔ اسلام نے انسانوں کو اپنے ہم مثل کی بندگی سے نکال کر خداوند قدوس کی بندگی میں داخل کیا اور انسانوں کی زندگی پر اللہ تعالیٰ کی حکمرانی کے نظریے کو پختہ ومستحکم کیا ۔اسلام خلافت کے طرز حکومت کو پسند کرتا ہے، جس میں اصل حاکمیت اللہ کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’آگاہ رہو!اسی کے لیے ہے پیدا کرنا اور حکم چلانا ‘‘۔(سورۃالاعراف ۵۴) امیر ،سلطان اور حکمراں اللہ تعالیٰ کے عادلانہ احکام کو نافذ کرنے میں، اس کا نائب اور خلیفہ ہوتا ہے۔یہ مقام بھی اللہ کا عطا کردہ ہے ،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وہ تمہیں روئے زمیں کا خلیفہ بناتاہے‘‘۔(سورۃالنمل ۲۸ )

اسلامی تاریخ کے سنہرے ادوار میںاہلِ اسلام نے حکومتِ الٰہیہ اور خلافتِ راشدہ کاایسا بے نظیر نظام دنیا کے ایک بڑے حصے پر قائم کیا کہ اس سے بہتر کسی نظام کا مشاہدہ آج تک چشم فلک نے نہیں کیا،جس کے حکمراں عدل وانصاف،راست گوئی وپاک بازی، روشن ضمیری اور خداترسی ورعایا پروری میں اپنی مثال آپ تھے ۔دنیا صدیوں تک اسلامی نظامِ خلافت اور اس کی رحمت وبرکت سے مستفید ہوتی رہی ، جب نظام خلافت کا خاتمہ ہوگیا ، تو دنیا میں ایک ایسے طریقہ حکمرانی کو رواج ملا، جسے’’ جمہوریت ‘‘کہتے ہیں۔ جمہوری نظام حکومت اپنے اندر خوبیاں بھی رکھتا ہے اوراس میں نقائص اور خرابیاں بھی ہیں ۔خوبی اور خامی سے قطعِ نظرحقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں جمہوریت انتہائی تیزی کے ساتھ پوری دنیا میں رواج پاچکی ہے اور اس کی مختلف شکلیں تقریباً دنیا بھر میں مروج ہیں،بعض اسلامی اصول سے نسبتاً ہم آہنگ ہیں اور بعض متصادم ۔

جمہوری حکومتوں کی بنیاد عوام کے ذریعے منتخب ہونے والی حکومت پر ہوتی ہے،اس لیے الیکشن در حقیقت جمہوری ممالک کے لیے بہت ہی خاص موقع ہوتا ہے، الیکشن کے عمل کا سارادار ومدارووٹ پر ہوتا ہے،ووٹ انگریزی زبان کا لفظ ہے ۔اس کا عربی متبادل انتخاب ہے، جب کہ اس کا اردو متبادل ہے :نمائندہ چننا ،حق رائے دہی کا استعمال کرنا۔حکومت سازی کے لیے انجام دیا جانے والا یہ عمل چوں کہ عہد سلف میں موجود نہیں تھا، اس لیے اس کا استعمال قرآن وحدیث میں نہیں ،لیکن معنوی اور اصولی طور پر اس کے لیے ذخیرئہ شریعت میں ہدایتیں موجود ہیں۔ شرعی نقطہ نظر سے ووٹ کی متعدد حیثیتیں ہوسکتی ہیں ۔

(۱)شہادت : شہادت کا مفہوم ہے عینی مشاہدہ یا بصیرت کی بنیاد پر کسی چیزکے بر حق ہونے کی گواہی دینا ۔ایک لحاظ سے ووٹ کی حیثیت شہادت اور گواہی کی ہے،اس لیے کہ ووٹر ووٹنگ یا حق رائے دہی کے استعمال کے وقت یہ سمجھتا ہے کہ فلاں امیدوار اس عہدے کے لائق ہے،جس کے لیے اس نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے ۔ وہ پوری دیانت داری کے ساتھ اپنی ذمے داریوں کو انجام دے سکتا ہے ،وہ اس بات کی گواہی دیتاہے کہ وہ امیدوار اس مقصد کے لیے موزوں ہے ،چاہے وہ دوسرے کاموں کے لیے موزوں نہ ہو ۔

(۲)سفارش :ووٹ کی ایک حیثیت سفارش کی بھی ہے ۔گویا کہ ووٹر کسی متعین امیدوار کے سلسلے میں مجاز اتھارٹی سے یہ سفارش کرتاہے کہ وہ ممبر پارلیمنٹ یا ممبر اسمبلی بننے کے لائق اور اہل ہے ، وہ اس عہدے اورمنصب کی ذمہ داریوں کو بہتر طورپر انجام دے سکتاہے ،لہٰذا میں اس کے انتخاب کی سفارش کرتا ہوں۔سفارش کے بارے میں قرآن کریم کا حکم یہ ہے: جو شخص اچھی بات کی سفارش کرے گا ،اس کے لیے اس کے اجر میں سے ایک حصہ ہوگا اور جو بری بات کی سفارش کرے گا ،اس کے لیے بھی اس کے گناہ کاکچھ بوجھ ہوگااور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء:۸۵)لہٰذا رائے دہندگان اگراچھے امیدوار کا انتخاب کریں گے تو یہ عمل ان کے لیے باعثِ اجر ہوگا اور اگر غلط امیدوار کا انتخاب کریں گے توباعثِ مواخذہ ہوگا۔

(۳) وکالت:وکالت کا مفہوم ہے کسی مخصوص کام کے لیے کسی انسان کو اپنا نمائندہ اور نائب چننا ۔ووٹ کی ایک حیثیت وکالت کی بھی ہے ۔گویا ووٹ دینے والا حقِ رائے دہی کا استعمال کرکے درحقیقت اس حلقے کے کسی امیدوار کو سیاسی امور،کار ِحکومت کی انجام دہی یا پارلیمنٹ کی تشکیل اور وزیر کے انتخاب کے لیے اپنا وکیل اور نمائندہ منتخب کرتا ہے، اس اعتبار سے اگر ووٹر نے سیاسی امور کی انجام دہی کے لیے کسی نا اہل امیدوار کو کامیاب بنا دیا اور جیتنے کے بعد اس شخص نے قوم وملت کے حقوق کو پامال کیا اورظلم وزیادتی کوراہ دی، توووٹرزبھی اپنے رول کی حدتک اس کے گناہ میں شریک ہوں گے اور اگر اچھے کام کیے، تو اس کی نیکیوں میں شریک ہوں گے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ووٹ کے اندر چاروں مفہوم ہونے کے باوجود اس پر شہادت کا مفہوم غالب ہے،لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ووٹ کی شرعی حیثیت شہادت کی ہے ۔شہادت ِحق شریعت کا ایک اہم حکم ہے ۔

اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتاہے کہ قرآن کریم میں شہادت اور اس کے مشتقات کااستعمال ایک سو ساٹھ سے زیادہ مقامات پر ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور گواہی کومت چھپاؤ اور جس نے گواہی کو چھپا یا تو یقیناً اس کا دل گناہ گار ہے ۔ (سورۃالبقرہ ۲۸۳) امام قرطبی ؒفرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شہادت اور گواہی کے چھپانے سے منع فرمایاہے ۔متعدد قرائن سے اس ممانعت کو وجوب پر محمول کیا جائے گا۔ ان میں سے ایک قرینہ یہ ہے کہ اس پرگناہ گار ہونے کی وعید آئی ہے۔انہوں نے بطور استدلال حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا یہ قول پیش فرمایا ہے : ’’گواہ کو جہاں گواہی کے لیے طلب کیا جائے، تو اس کے لیے گواہی دینا ضروری ہے ۔(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی۳/۴۱۵)امام طبریؒ نے اس ضمن میں اس کی بھی وضاحت فرمائی کہ گواہی چھپانے کی ممانعت اس شکل میں ہے جب کسی حق کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔(تفسیر الطبری ۶/۹۹)

ارشادِ ربانی ہے: ’’اور گواہوں کو جب گواہی کے لیے مدعو کیا جائے تو چاہیے کہ وہ انکا ر نہ کریں‘‘۔ (سورۃ البقرہ۲۸۲)علامہ ابن عطیہ فرماتے ہیں کہ جب گواہ کو معلوم ہو کہ گواہی میں اس کی تاخیر کی وجہ سے کسی کا حق تلف ہوجائے گا تو اس پر گواہی کی ادائیگی لا زم ہے ۔(تفسیر ابن عطیہ ۲ /۵۱۳)امام طبریؒنے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ مذکورہ آیت میں امر استحباب کے لیے ہے،لیکن اخیر میں امام ِموصوف اس کی وضاحت بھی فرماتے ہیں” اگر انسان ایسی جگہ پر ہو، جہاں اس کے علاوہ شہادت کے لیے کوئی اور شخص دستیاب نہ ہو ،تو اس کے لیے ادائے شہادت ایک دینی فریضہ ہوگا“۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اے ایمان والو!تم لوگ انصاف قائم کرنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو۔اگرچہ اپنے والدین یا رشتے داروں کے خلاف کیوں نہ ہو(جس کے خلاف گواہی دے رہے ہو) وہ مال دار ہو یا غریب،کیوں کہ اللہ ہی ان دونوں کا زیادہ خیر خواہ ہے، پس تم خواہش نفسانی کی پیروی مت کرو کہ انصاف سے ہٹ جاؤ اور اگر سخن سازی اور پہلو تہی کروگے تو اللہ تمہارے کاموں سے خوب باخبر ہے‘‘۔(سورۃ النساء ۱۳۵)اس آیت کریمہ میں ہر حال میں عدل وانصاف کو قائم کرنے اور صرف اللہ کے لیے گواہی کا حکم دیا گیا ہے اور اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ انسان کبھی بھی شہادت کے عمل کے دوران اپنے رشتے دار اور دوست ودشمن میں تفریق نہ کرے، بلکہ عدل کو معیاربنائے اور ان احکام کی عدم پابندی کو کجروی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

سورۃ المائدہ میں فرمایا گیا:’’اے ایمان والو!اللہ کا حق ادا کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنے رہو۔ کسی قوم کی دشمنی تمہیں ناانصافی پر آمادہ نہ کرے، یہی تقویٰ سے قریب تر ہے اوراللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً وہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے‘‘۔امام طبریؒ فرماتے ہیں ” یہ آیت کریمہ یہودیوں کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی، جب یہودیوں نے نعوذباللہ رسول اللہ ﷺ کے قتل کا نا پاک ارادہ کیا ، اس کے ذریعے تمام اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا کہ ان کے مجرم ہونے اور مسلمانوں کے سخت دشمن ہونے کے باوجود ان کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا جائے۔“اس سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ کہ الیکشن میں امیدوار اگر ان لوگوں میں سے ہو، جن سے ہماری ذاتی دشمنی ہو، لیکن وہ ملک وقوم کے لیے زیادہ موزوںہو، تو ایسے مواقع پر خاص طور پر عدل کے تقاضوں کو بروئے کار لا نا اور اللہ سے ڈرنا ضروری ہے ۔لہٰذا جب بھی ووٹ دیا جائے تو اہل اور مناسب امیدوار یا نسبتاً بہتر امیدوار کا انتخاب کیا جائے، اس لیے کہ غلط امیدوار کا انتخاب جھوٹی گواہی ہے اور جھوٹی گواہی گناہِ کبیرہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور تم جھوٹی باتوں سے بچتے رہو ‘‘۔ (سورۃ الحج ۳۰) اسی طرح رسول اللہ ﷺنے صحابہٴ کرامؓ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :کیا میں تم کو اکبرُالکبائر (سب سے بڑے گناہ) کے بارے میں نہ بتاؤں ؟صحابہٴ کرامؓ نے عرض کیا،کیوں نہیں، یارسول اللہﷺ!آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نا فرمانی کرنا ۔پھر آپ ﷺپہلو بدل کر بیٹھ گئے، حالاں کہ آپ پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور فرمایا سنو!جھوٹی گواہی دینا۔ اس آخری جملے کو آپﷺ برابر دہراتے رہے،یہاں تک کہ ہم لوگوں کو خیال ہوا کاش ،آپﷺ خاموش ہوجاتے ۔(بخاری، ماقیل فی شہادۃ الزور ۱/۳۶۲)لہٰذا نااہل کو ووٹ نہ دینا اور اچھے امیدواروں کو ووٹ دینا واجب ہے ۔ جب یقین ہو کہ وہ امید وار اس کا م کے لیے فراہم افراد میں سب سے بہتر اور لائق ترین ہے اور وہ اپنی ذمے داریوں کو ادا کرکے ملک وقوم کی بہتر خدمت انجام دے سکتاہے ، ان امور کو انجام دیتے وقت اسے اپنے عقیدے اور ایمان کی حفاظت کا پورا یقین ہو اور اس کام کے لیے آمادگی کا سبب حبِ مال اور حب جاہ نہ ہو، بلکہ خلق خدا کی صحیح خدمت اور انصاف کے ساتھ ان کے حقوق کو ادا کرنا مقصود ہو ،تو ایسے افراد کے لیے اپنے آپ کو عہدےکے لیے پیش کرنا صرف جائزہی نہیں،بلکہ ایک ضروری امر ہوگا۔

لہٰذا قرآن و سنت کی ان تعلیمات کی روشنی میں حق رائے دہی یا ووٹ کا استعمال درحقیقت گواہی اور حکومتی نظم و نسق میں معاون و مددگار کی حیثیت رکھتا ہے،اس لحاظ سے حق رائے دہی کے استعمال اور ووٹ دیتے وقت امیدوار کی دیانت و امانت ،دین داری ،فرض شناسی ،خوف ِ خدا،حب الوطنی اور کردار و گفتار کو پیش نظر رکھناایک دینی و معاشرتی فریضہ ہے۔اس کے برخلاف ووٹ کا غلط استعمال گویا قصداً و عمداً جھوٹی گواہی دینے کے مترادف اور ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے،جس سے اجتناب ایک شرعی و اسلامی فریضہ اور ایک ناگزیر امر ہے۔  

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں