آپ آف لائن ہیں
اتوار 8؍ذوالقعدہ1439ھ 22؍ جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
زرداری آج اسلام آباد جائیں گے، سپریم کورٹ میں بھی پیش نہ ہونے کا فیصلہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر/ٹی وی رپورٹ)پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور 35ارب کے منی لانڈرنگ اسکینڈل میں گزشتہ روز ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل میں پیش نہیں ہو ئے انہوں نے الیکشن کے بعد پیش ہونے کی مہلت مانگی ہے،فریال تالپور کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ جواب داخل کرانے کیلئے31 جولائی تک مہلت دی جائے،آصف علی زرداری کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب کے متن کے مطابق 2014 کے معاملے پر ایک دن میں جواب دینا اور بینک اسٹیٹمنٹ اور دیگر متعلقہ ریکارڈ فوری پیش کرنا ممکن نہیں۔تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق آصف زرداری اور فریال تالپور نے اپنے وکلا اور قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے،تاہم پی پی رہنما فرحت اللہ بابر نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدر آج اسلام آباد جائیں گے،جبکہ انہوں نے سپریم کورٹ میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے،آصف زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ وہ انتخابی سرگرمیوں کی وجہ سے مصروف

ہیں،اس لیے 25 جولائی کے بعد ایف آئی اے کے تمام سوالوں کے جواب دے دیں گے، ان کی جانب سے ان کے وکلا کی ایک ٹیم پیش ہو ئی جس نے تحریری بیان جمع کرا دیا جس میں آصف زرداری اور فریال تالپور نے الیکشن کے بعد پیش ہونے کی مہلت مانگی ہے۔بیان کے متن میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر ہیں، 2014 کا کیس ہے اور ہمارے کلائنٹ کو جولائی 2018 میں طلب کیا گیا ہے، 2014 کے معاملے پر ایک دن میں جواب دینا ممکن نہیں ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 213 سے الیکشن لڑ رہے ہیں، وہ انتخابی سرگرمیوں کی وجہ سے مصروف ہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کو اس وقت طلب کیا جارہا ہے جب دو ہفتوں بعد انتخابات ہیں، کلائنٹ کو مقدمات میں مصروف رکھنے سے الیکشن مہم متاثر ہوسکتی ہے، اس لیے وہ 25 جولائی کے بعد ایف آئی اے کے تمام سوالوں کے جواب دے دیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں