آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
صلاح الدین ربانی افغان حکومت کی قائم کردہ امن کونسل کے نئے سربراہ ہیں۔ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے کوششوں میں مصروف ہیں حالانکہ انہی طالبان پر الزام ہے کہ انہوں نے صلاح الدین ربانی کے والد برہان الدین ربانی کو ایک خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ صلاح الدین ربانی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکومتی و سیاسی شخصیات کے علاوہ علماء سے بھی ملاقاتیں کیں اور سب کو درخواست کی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے لئے ان کی مدد کی جائے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے انہوں نے درخواست کی کہ افغان طالبان کو پاکستان کے راستے کسی تیسرے ملک میں لے جانے اور واپس لانے کے انتظامات کئے جائیں۔ بدھ کی صبح صلاح الدین ربانی کے ساتھ ہماری ناشتے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کے ہمراہ افغان علماء کونسل کے سربراہ قیام الدین کشاف اور محمد معصوم ستانکزئی کے علاوہ امن کونسل کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ اس گفتگو کے دوران امن کونسل کے اکثر ارکان یہ تاثر دیتے رہے کہ ملا محمد عمر کوئٹہ میں مقیم ہیں لیکن جب ہم نے پوچھا کہ اگر ملا محمد عمر کوئٹہ میں رہتے ہیں تو پھر ان کے ساتھی ملا عبد الغنی برادر کو پاکستان نے گرفتار کیوں کر رکھا ہے تو ان کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہ تھا۔ بعض افغان مہمان یہ دعویٰ

بھی کرتے رہے کہ ملا محمد عمر کا افغانستان میں کوئی اثر باقی نہیں رہا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ افغانستان کے اہم زمینی حقائق سے واقف نہیں تاہم صلاح الدین ربانی کا لہجہ دوستانہ تھا اور وہ طالبان کے ساتھ مفاہمت کے لئے کوئی راستہ تلاش کرنے میں مخلص نظر آئے۔ سابق سیکرٹری خارجہ اکرم ذکی نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ طالبان سے مذاکرات کے لئے امریکہ اور پاکستان کی مدد ضرور لیں لیکن کسی ملک کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ مذاکرات کا روڈ میپ آپ پر ٹھونسے۔ جہانگیر اشرف قاضی، طلعت مسعود، ایاز وزیر، احمد بلال محبوب، ضیاء الدین اور کاشف عباسی سمیت کچھ دیگر ساتھیوں کی صلاح الدین ربانی کی گفتگو میں صاف نظر آرہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں میں امریکہ اور اقوام متحدہ پوری طرح شامل ہیں کیونکہ ہماری اس ملاقات میں اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شامل تھے۔ اس ملاقات میں ہم نے صلاح الدین ربانی سے پوچھا کہ پاکستان کی حکومت اپنے قبائلی علاقوں میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے تو اعتراض کیا جاتا ہے لیکن افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی جاتی ہے۔ ربانی صاحب نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی اور کہا کہ وہ اپنے مینڈیٹ سے باہر کوئی بات نہیں کریں گے۔
صلاح الدین ربانی کے ساتھ گفتگو کے دوران بار بار یہ احساس ہوتا رہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے درمیان بہت زیادہ غلط فہمیاں ہیں۔ بہت سی غلط فہمیاں میڈیا نے پیدا کی ہیں کیونکہ افغان میڈیا کے اکثر دوست پاکستان کے اندرونی حالات کو نہیں سمجھتے اور پاکستانی میڈیا کے ساتھی افغانستان کے بارے میں بہت سے حقائق نہیں جانتے۔ پاکستانی میڈیا میں تو ایسے عناصر بھی پائے جاتے ہیں جو شاید زندگی میں کبھی پشاور تک نہیں گئے لیکن وہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے معاملات پر اپنی جاہلانہ رائے کو ماہرانہ رائے بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں۔ آج کل کچھ لبرل فاشسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو افغان طالبان کا ساتھی ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس مظلوم عورت کے خلاف سی آئی اے کے جھوٹے الزامات کو سچ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ابھی تک یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی شہری ہیں حالانکہ ان کی والدہ عصمت صدیقی کئی دفعہ مختلف ٹی وی چینلز پر اپنی بیٹی کے پاکستانی پاسپورٹ اور ان پرلگے ہوئے امریکی ویزے دکھا چکی ہیں۔ لبرل فاشسٹوں کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے نفرت کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ وہ حجاب لیتی تھیں۔ دوسری وجہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لئے کچھ دینی جماعتوں کی حمایت تھی لیکن جب ان کے ساتھ ہونے والا ظلم اور ناانصافی سامنے آئی تو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ کچھ عرصے سے طالبان رہنماؤں نے بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام لینا شروع کر دیا ہے حالانکہ اس خاتون نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی تھی لیکن یہ طے ہے کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو معصوم سمجھتی ہے۔ اب تو امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل رمزے کلارک بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن افسوس کہ پاکستان میں کچھ لبرل ظالمان اس مصیبتوں کی ماری مظلوم عورت کے خلاف اتنا جھوٹ بول اور لکھ رہے ہیں کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔ 14نومبر کے روزنامہ جنگ میں یاسر پیرزادہ نے دانستہ یا نادانستہ طور پرڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف جو کچھ لکھا اس سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو تو کوئی نقصان نہیں ہوا البتہ یاسر پیرزادہ نے اپنی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ وہ یہ تک نہیں جانتے کہ امریکی عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ لڑنے والی ڈان کارڈی عورت ہے یا مرد؟ وہ ڈاکٹر عافیہ کے ماموں شمس الرحمان فاروقی کو کبھی نہیں ملے لیکن اپنے کالم میں ان کا حوالہ بھی دیدیا۔ موصوف نے ڈاکٹر عافیہ اوران کے خاندان کے خلاف اپنی چارج شیٹ میں جیو نیوز پر میرے پروگرام کیپٹل ٹاک کا حوالہ دیا جس پر ڈاکٹر عافیہ کے اہل خانہ نے مجھے فون کرکے شکوہ شکایت کیا کیونکہ یہ حوالہ سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام پہلی دفعہ 2008ء میں سنا گیا۔ یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ 2003ء میں عمران خان نے سب سے پہلے کیپٹل ٹاک میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اغواء پر احتجاج کیا تھا اور اس وقت کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے کیپٹل ٹاک میں ڈاکٹر عافیہ کے اغواء کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں ایک خطرناک ملزمہ قرار دیا۔ یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ اس امر کا کوئی ثبوت نہیں کہ 2003ء سے 2008ء تک ڈاکٹر عافیہ جاسوسی اداروں کی تحویل میں تھیں۔ اگر وہ کچھ تحقیق کرلیتے تو انہیں آسانی کے ساتھ وہ موادمل جاتا جس کے مطابق کراچی پولیس نے اعتراف کیا کہ 2003ء میں ڈاکٹر عافیہ کو ان کے سابقہ خاوند امجد خان کی جھوٹی اطلاع پر پولیس نے پکڑ کر خفیہ اداروں کے حوالے کیا۔ یہ مواد ڈان کارڈی کو دیا گیا لیکن اس نے عدالت میں پیش نہیں کیا۔ ڈان کارڈی کو عافیہ کااعتماد حاصل نہیں وہ امریکی حکومت کی مسلط کردہ وکیل ہے۔ ڈاکٹر عافیہ نے اپنی روداد ٹینا فوسٹر کو بتائی لیکن امریکی حکومت نے ٹینا فوسٹر کو عافیہ کا مقدمہ لڑنے کی اجازت نہیں دی۔
ٹینا فوسٹر کے مطابق عافیہ کا عمار ال بلوچی نامی شخص سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ میں نے 2008ء میں کیپٹل ٹاک میں یہ بھی بتایا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کے نام سے ایک عورت کو شمس الرحمان فاروقی کے گھر بھیجا گیا اور اس نام نہاد عافیہ نے اپنے ماموں کو بتایا کہ وہ افغانستان جانا چاہتی ہے۔ فاروقی صاحب نے ڈاکٹر عافیہ کی والدہ کو کراچی سے بلا لیا۔ والدہ نے بیٹی سے ملنا چاہا تو اس خاتون نے نقاب اوڑھ لیا اور والدہ سے ملنے کی بجائے بھاگ نکلیں۔ شمس الرحمان فاروقی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ملاقات کی تھی۔ یاسر پیرزادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ کو خط لکھ کر اپنی حمایت کا یقین دلایا اور فوزیہ نے خط کی تصدیق کی۔ نجانے کالم نگار نے فوزیہ سے رابطہ کیوں نہیں کیا کیونکہ فوزیہ کہتی ہیں کہ انہیں طالبان کا کوئی خط نہیں ملا۔ سب جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ 2003ء سے 2008ء تک خفیہ اداروں کی تحویل مں تھیں اور 2008ء میں افغانستان سے ان کی گرفتاری کا ڈرامہ رچایا گیا۔ اگر طالبان ان کی حمایت کرتے ہیں تو رمزے کلارک بھی ان کی حمایت کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک دن ضرور رہا ہونگی اور انہیں اغواء کرنے والے بھی بے نقاب ہونگے۔ سمجھ نہیں آتی کہ امریکی حکومت طالبان سے مذاکرات چاہتی ہے، رمزے کلارک جیسا قابل احترام امریکی قانون دان ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن ہمارے لبرل فاشسٹ ڈاکٹر عافیہ کو افغان طالبان کا ساتھی قرار دے کر کسے خوش کرنا چاہتے ہیں؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں