آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ23؍ صفرالمظفّر 1441ھ 23؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دینی مدارس اور انتہا پسندی۔ آخر کیا حل ہے؟

”حکومت مدارس کی حفاظت کے لیے بھرپور سیکورٹی فراہم کرے گی۔ ارباب مدارس اور حکومت کے مابین تعاون کا مربوط نظام قائم کیا جائے گا۔ مدارس پر براہ راست چھاپوں کے بجائے منتظمین سے رابطہ کیا جائے گا۔“ یہ الفاظ حکومت اور اتحاد تنظیمات مدارس کے درمیان طے پاجانے والے مشترکہ اعلامیے سے لیے گئے ہیں۔ اس سے ایک دن قبل اسلام آباد میں ہونے والی عالمی اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد تنظیمات مدارس کے حضرات نے کہا کہ ”مدارس اتحاد امت کے لیے کام کررہے ہیں۔ علماء نے ہر مشکل وقت میں ملک و قوم کے لیے قربانیاں دیں۔ حکومت اہل مدارس کے ساتھ مثبت رویہ اپنائے۔“ یہ بات ٹھیک ہے کہ ارباب مدارس نے ہمیشہ افہام وتفہیم اور صلح کا راستہ ہی اپنایا۔ ہر معاملے میں مذاکرات ہی کو ترجیح دی۔ متعدد بار حکومتی لوگوں کے ساتھ مل بیٹھے۔ دو سال پہلے29 ستمبر 2009ء کو وزیر داخلہ کی زیر صدارت اجلاس ہواتھا ۔ اس میں پانچوں وفاقوں کی تنظیم ”تنظیمات مدارس“ کے سربراہوں نے شرکت کی۔
مدارس کی جانب سے مولانا سلیم اللہ خان، مفتی منیب الرحمن، قاری حنیف جالندھری اور دیگر تھے جبکہ حکومت کی طرف سے وزیر مذہبی امور، وزارت تعلیم کے سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری، سابق سیکرٹری وزارتِ مذہبی اموراور دیگر اعلیٰ سطح کے افسران شریک تھے۔ حکومت کا یہ مستحسن اقدام

ہے کہ اس نے ارباب مدارس کی باتوں کو غور سے سنااور اس کے جائز مطالبات ماننے کی حامی بھری تھی۔ حکومتی نمائندوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ افہام وتفہیم کے انداز میں بات چیت ہوئی۔ حکومت نے پہلے دینی مدارس کے طریقہ کار کو سمجھا۔ ان کا موقف سنا اور ان کے تعلیمی معیار اور انتظام کو سراہا۔ دینی مدارس کی اسناد کو ملک بھر کے تمام مستند تعلیمی اداروں میں تسلیم کرنے کی سمت قدم بڑھایا۔ دینی مدارس کے رہنماؤں نے بھی ماحول اور حالات کو سمجھا۔ حکومت کی گزارشات غور سے سنی اور کہا کہ جائز باتوں پر عمل کیا جائے گا۔ مدارس کے رہنماوٴں نے فرمایا کہ ہم محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ جس چیز پر ہمیں تشویش ہوگی اس پر مذاکرات کریں گے۔اجلاس کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا وہ یہ تھا دینی مدارس نجی تعلیمی اداروں کے انداز میں کام کریں گے۔ تمام مدارس میں دینی علوم کے ساتھ جدید علوم بھی پڑھائے جائیں گے۔ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کو پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں اور اعلیٰ پوسٹوں پر تعینات کیا جائے گا۔ دینی مدارس کے پانچوں وفاقوں ”وفاق المدارس العربیہ، وفاق المدارس السلفیہ، وفاق المدارس الشیعة، تنظیم المدارس اور رابطة المدارس“ کو بورڈ کا درجہ حاصل ہوگا۔ حکومت دینی مدارس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ دینی مدارس کے علماء اور طلبہ کا احترام کیا جائے گا۔ حکومت دینی مدارس کو جدید علوم کے لیے ہر قسم کا تعاون کرے گی۔
اس بار موجودہ حکومت نے کمال ہوشیاری اور دور اندیشی سے کام لیا ہے۔ امریکی ویورپی دباؤ کے باوجود کھل کر مذاکرات کیے ہیں۔ جب پیپلز پارٹی کی نئی نئی حکومت بنی تھی تو واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے مدارس کے خلاف جارحانہ رویہ اپنایا تھا، لیکن جلد ہی انہیں اپنے خیالات بدلنا پڑے تھے۔ سابقہ حکومتوں خصوصاً مشرف حکومت نے تو دینی مدارس کے موقف کو سننے تک کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ جب بھی مغربی دنیا اپنی اسلام دشمنی کی وجہ سے مدارس کے خلاف زبانیں کھولتی تو ان کے ایجنٹ بھی مدارس کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہوجاتے ۔ میڈیا کی چمک دمک میں اصل حقائق چھپ جاتے اور مدارس کے خلاف فضا ہموار ہونے لگتی۔ پھر دینی مدارس کے علماء وطلبہ کی انکوائریاں شروع ہوجاتیں۔ ان کو گرفتار کیا جاتا۔ جھوٹے مقدمات قائم کیے جاتے۔ حتیٰ کہ بعض مدارس کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے بند کردیا گیا۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی قرآن پڑھتی بچیوں کے ساتھ مشرف حکومت نے جو کچھ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ یہاں تک کہ معافی مانگنے پر بھی معاف نہیں کیا گیا۔ فاسفورس بموں کے ذریعے بھون ڈالا گیا۔ اس کے بعد جتنا زہریلا پروپیگنڈا دینی مدارس کے طلبہ، علماء اور صلحاء کے بارے میں کیا گیا ہے، شاید ہی اتنا کسی اور طبقے کے بارے میں ہوا ہو۔ دینی مدارس کے اُجلے دامن کو کن کن طریقوں سے داغدار کرنے کی بھونڈی کوشش نہیں کی گئی؟ دینی مدارس… جو خیر کے مراکز ہیں… کو کس کس طرح دہشت گردی کے اڈے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی؟ دینی مدارس میں ہونے والی جسمانی ورزش کو دہشت گردی کی تربیت کہا گیا۔ مدارس کے تمام طلبہ و علماء کو شمالی علاقہ جات اور وزیرستان کے طالبان قرار دیاگیاکسی بھی عام گاؤں کی مسجد کے غیر عالم امام اور صرف حفظ کرکے گھر میں ٹیوشن پڑھانے والے کسی بھی شخص کی انفرادی غلطی کو مدارس و علماء کے سر تھوپنے اور پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔دینی مدارس کو چندہ دینے والوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔مخیر حضرات کو خوفناک انجام کی دھمکیاں دی گئیں ۔خیر جو ہوا سو ہوا۔ غلطیاں دہرانی نہیں چاہئیں۔ ماضی کو بھول کر معاملات سلجھانے چاہیئں تاکہ قوم وملک ترقی کریں۔
جہاں تک دینی مدارس میں عصری علوم پڑھانے کی بات ہے تو عرض ہے مدارس کے نصاب میں بقدر ضرورت عصری تعلیم تو ہمیشہ سے رہی۔ علم جغرافیہ، فلکیات، حساب تو ہر زمانے میں اس نصاب کا حصہ رہے ہیں۔ عصرِ حاضر میں علمی وتحقیقی کاموں میں انٹرنیٹ کی اہمیت، ابلاغی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے انگریزی وعربی زبانوں پر عبور اور صحافتی مہارتوں کو حاصل کرنے کے لیے بہت سے مدارس نے انگریزی وعربی بحیثیت زبان، کمپیوٹر، صحافت، دعوت وارشاد اور جدید ابلاغی وتدریسی صلاحیتوں پر مشتمل چھوٹے بڑے بہت سے کورسز جاری کررکھے ہیں۔ میٹرک تک کی بنیادی تعلیم تو ہر مدرسہ میں دی جاتی ہے۔ بعض مدارس نے یہ تجربہ کیا کہ دونوں تعلیم ایک مخصوص نظم کے تحت ریگولر کروائی جائیں۔ چنانچہ اسلام آباد، لاہور او رکراچی کے کئی مدارس میں دونوں تعلیمیں مساوی جاری ہیں۔ بلکہ حیرت انگیز طورپر دینی اور عصری علوم میں پوزیشنیں حاصل کی ہیں۔
کراچی میں قائم ایک ادارے کے چار طلبہ نے ایک طرف تو وفاق المدارس کے سالانہ امتحان میں چار پوزیشنیں لے کر ریکارڈ قائم کیا تو دوسری طرف اسی کلاس کے طلبہ نے میٹرک سائنس کے سالانہ امتحان میں اے ون گریڈ حاصل کیے۔ اسی طرح اسلام آباد کے ایک مدرسے کے طلبہ نے بھی متعدد بار میدان مارا۔ ’کئی مدارس نے 8 سالہ درس نظامی کے نصاب کو چار سال کی مدت میں محدود کرکے ایم اے، ایم ایس، ایم بی اے سمیت عصری علوم کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو درس نظامی کی تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جبکہ مدارس سے فارغ التحصیل علمائے کرام کے لیے جدید علوم پرمشتمل 6 یک سالہ کورس متعارف کروائے ہیں۔ اسی طرح ان دینی مدارس سے فارغ ہونے والے گریجویٹ علماء کے لیے جو ایف اے کی ڈگری رکھتے ہیں ہیں، بی بی اے اور گریجویٹ علماء کے لیے ایم بی اے کی کلاسیں بھی شروع کی ہوئی ہیں۔ یہ پروگرام کراچی یونیورسٹی کے تعاون سے ہورہا ہے۔ ان کی پہلی کھیپ فارغ ہوچکی ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے میں یہ دونوں علوم اس وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب ٹائم مینجمنٹ ہو۔ تعلیمی نفسیات موٴثر طریقے استعمال کرتے ہوئے اساتذہ اور انتظامیہ کا طلبہ سے مشفقانہ اور حوصلہ افزا رویہ ہو۔ اسباق کی لچکدار منصوبہ بندی، تدریسی وسائل کا بہترین استعمال بھی اس کے لیے ضروری ہے۔ ٹائم مینجمنٹ کے حوالے سے مثالی رہنمائی، شخصیت اجاگر کرنے کی مہارتوں کا استعمال کیا جائے۔ خوش آئند بات یہ ہے کئی دینی مدارس میں ان پر عمل کیا جاتاہے۔ جو لوگ دینی مدارس کے نصاب میں اصلاحات پر زور دیتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اسکول کالج کی اصلاحات کا بھی بیڑا اُٹھالیں جو اہم شخصیات چاہتی ہیں دینی مدارس میں ڈاکٹر، انجینئر اور سائنس دان پیدا ہوں انہیں چاہیے وہ اپنی توانائیاں اس بات پر صرف کریں کہ کالج یونیورسٹی کے نصاب میں کم ازکم ضروری دینیات کا اضافہ ہو تاکہ ہمارا نوجوان صحیح العقیدہ مسلمان بن سکے۔