آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: بیٹے نے والد کی جائیداد اپنے نام کروانے کے لیے اپنے 88سالہ باپ کو ڈنڈوں اور لاتوں سے مارمار کرجسم کی ساری ہڈیاں توڑ دیں ، زخموں کی تاب نہ لاکر باپ نے دم توڑ دیا ، کیاقاتل بیٹے کومقتول باپ کے ترکے سے حصہ ملے گا ؟(عبداللہ)

جواب: اگر آپ کا بیان درست ہے کہ حقیقی بیٹے نے اپنے والد کو قتل کیاہے تو اُسے ترکے سے حصہ نہیں ملے گا ،کیونکہ قاتل اپنے مقتول کی وراثت سے محروم رہتاہے۔حدیث پاک میں ہے : ترجمہ:’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قاتل وارث نہیں ہوتا ، (سُنن ترمذی: 2109)‘‘۔

امام سراج الدین محمد بن عبدالرشید سجاوندی حنفی ؒنے وراثت سے محرومی کے اسباب بیان کرتے ہوئے لکھا: ترجمہ:’’وہ قتل مقتول کی وراثت سے محرومی کا سبب بنتاہے ، جس کے نتیجے میں (سزاکے طور پر) قصاص یا (قتلِ خطاکی صورت میں)کفّارہ واجب ہوتاہے ،(سراجی ، ص:12)‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں