آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدر مملکت ممنون حسین نے قیام پاکستان کے 71سال مکمل ہونے پر 72ویں یوم آزادی کی مناسبت سے جناح کنونشن سینٹر میں منعقدہ مرکزی تقریب میں پرچم کشائی کے بعد جو خیال افروز خطاب کیا اس میں درپیش چیلنجوں اور مسائل کا حقیقت پسندانہ انداز میں احاطہ کرتے ہوئے ملک کو بانیان پاکستان کے خوابوں کے عین مطابق بنانے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔ پرچم کشائی کی اس مرکزی تقریب میں نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، غیرملکی سفراء اور اعلیٰ سول و عسکری قیادت بھی موجود تھی۔ پاکستانی عوام کو جشن آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے فرزندان کشمیر اور ان کی قربانیوں کا بھی محبت سے ذکر کیا۔ یہ موقع اس بات کا متقاضی بھی تھا کہ ان کشمیری عوام کو یاد کیا جاتا جن کے دل پاکستانیوں کے ساتھ اور جن کے ساتھ پاکستانیوں کے دل دھڑکتے ہیں اور جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جشن یوم آزادی پاکستان روکنے کے تمام سرکاری اقدامات کے باوجود ریلیاں نکالیں، پاکستانی پرچم کو سلامی دی اور جگہ جگہ قطاروں میں کھڑے ہوکر پاک سرزمین کا قومی ترانہ گایا۔ صدر مملکت نے انہیں یقین دلایا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی سیاسی و اخلاقی حمایت ہمیشہ جاری رکھے گا۔ اس بار 25جولائی کو منعقدہ

الیکشن 2018ء کے 20روز بعد ہی یوم آزادی کی تاریخ (14اگست) آنے کے اتفاق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ یہ یاددہانی ہے اس بات کی کہ پاکستان کی قسمت کے فیصلے ووٹ کی پرچی سے ہونگے اور پاکستان کے نمائندے وہی ہوسکتے ہیں جنہیں ووٹر سند نمائندگی عطا کریں۔ صدر مملکت کے مذکورہ بیان میں اس تاریخی حقیقت کی طرف بھی لطیف اشارہ ملتا ہے کہ پاکستان کا قیام مسلمانان برصغیر کے ووٹوں کے ذریعے عمل میں آیا یہ الگ بات ہے کہ بھارتی قیادت میں موجود بعض طاقتور عناصر بہت پہلے سے انتہاپسند تنظیمیں اور ان کے مسلح جتھے بناکر قیام پاکستان روکنے اور مسلمانوں کا صفایا کرنے کیلئے تاریخ عالم کے سب سے بڑے قتل عام کا خاکہ تشکیل دے چکے تھے۔ اس پس نظر میں یہ بات اہم ہے کہ ہمارے بچوں کو پاکستان کی ناگزیریت، اس کے قیام کیلئے دی جانے والی قربانیوں اور بانیان پاکستان کے جذبے سے آگاہ رکھنے کیلئے مسلسل تدابیر جاری رہیں۔ صدر مملکت نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ملکی معاملات خصوصاً انتخابی عمل شفاف بنانے پر قوم میں مکمل اتفاق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی اصلاحات کی صورت میں الیکشن کمیشن کو وسیع اختیارات دیئے گئے، اسکے باوجود اگر تحفظات سامنے آتے ہیں تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ ان تحفظات کو دور کرے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 25جولائی کے انتخابات کے بعد مختلف سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کی طرف سے بے اطمینانی کے اظہار پر اگرچہ الیکشن کمیشن کی طرف سے وضاحتیں سامنے آئی ہیں اور اقدامات کا بھی عندیہ محسوس ہوتا ہے مگر اس باب میں ایسی موثر تدابیر ضروری ہیں جن کے مثبت نتائج سب کو نظر آئیں۔مذکورہ تقریر کا یہ نکتہ بالخصوص نئی قیادت کی توجہ کا متقاضی ہے کہ ملک اجتماعی فیصلوں کیلئے اداروں کا بااختیار بنایا جانا ضروری ہے۔ صدر مملکت نے استحصال کی ہر شکل کے خاتمے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان رکاوٹوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے ملک کو مسائل درپیش رہے۔صدر ممنون حسین بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی مملکت کو اس کی حقیقی منزل تک پہنچانے کیلئے محنت جاری رکھنے کی ضرورت بھی اجاگر کرتے ہیں۔ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ ملک اس وقت جن سنگین مسائل سے دوچار ہے ان کے حل کیلئے مختصر مدتی اقدامات کے علاوہ قومی اتفاق رائے سے ایسی دیرپا پالیسیاں بھی بنائی جانی چاہئے جن کا تسلسل حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہو تاکہ ملکی ترقی کا عمل جاری و ساری رہے۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب کے اختتام میں یہ دعا کی اور اس میں پوری قوم بجا طور پر شریک ہے کہ پاکستان کی خدمت کرنے والوں کو آسانیاں حاصل ہوں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں