آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت میں دادی اور پوتی کی ایک تصویر نے سوشل میڈیا پر کئی صارفین کو جذباتی کر کے رلا دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق تصویر میں ہچکیوں کے ساتھ روتی ایک اسکول کی طالبا ایک بوڑھی خاتون کے ساتھ بیٹھی ہے۔سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوتے ہی اس تصویر کو اتنا شیئر کیا گیا کہ ایک ہفتے میں ہی وائرل ہو گئی۔نا صرف یہ بلکہ اس کے پیچھے سچی کہانی کو بھی شیئر کیا گیا۔

تصویر کے پیچھے سچی کہانی

تصویر میں موجود لڑکی اور بوڑھی خاتون آپس میں دادی اور پوتی ہیں اور دراصل یہ تصویر 10 سال پرانی ہے۔

یہ ستمبر 2007 کا قصّہ ہے جب ایک بھارتی فوٹو جرنلسٹ بھاریش کو بھارتی شہر گجرات کے ایک اسکول سے کال موصول ہوئی جس میں ان سے ایک اولڈ ایج ہوم میں اس اسکول ٹرپ کو کور کرنے کی درخواست کی گئی۔

فوٹو جرنلسٹ اس بات پر رضامند ہو گیا اور ترتیب دیئے گئے وقت کے مطابق اولڈ ایج ہوم پہنچ گیا۔وہاں جا کر اس نے اپنا تصویر بنا نے کا کام شروع کر دیا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ آج کا اسائنمنٹ اس کی زندگی پر گہرا اثر ڈالے گا۔

جس دوران وہ وہاں موجود بزرگوں اور طلباء کی ایک ساتھ تصویر بنانے میں مصروف تھا اچانک اس نے دیکھا کہ ایک طالبا اپنی جگہ سے بھاگتی اور چیختی ہوئی ایک بوڑھی خاتون کی جانب بڑھی، وہ خاتون بھی اسے دیکھ کر رونے لگی۔دونوں ایک دوسرے سے مل کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔

بھاریش نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ’ میں نے وہ جذباتی تصویر اپنے کیمرے میں قید کرنے کے بعد اس لڑکی سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ اس خاتون کی پوتی ہے، اس کے باپ نے اس سے کہا تھا کہ تمہاری دادی کہیں چلی گئی ہیں جبکہ سچائی یہ تھی کہ وہ اس اولڈ ایج ہوم آگئی تھیں۔‘

اس نے مزید کہا کہ اس منظر کو دیکھ کر وہاں موجود تمام لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے، سب کو خوش کرنے کے لئے دوسرے طلباء نے بزرگوں کے لئے گیت گائے۔

فوٹو جرنلسٹ نےبتا یا کہ اگلے دن مقامی اخبار کے فرنٹ پیج پر اس تصویر کو شائع کیا گیا تو تمام گجرات میںاس تصویر کی دھوم مچ گئی۔

بھاریش کا کہنا تھا کہ وہ بوڑھی خاتون اپنی مرضی سے اولڈ ایج ہوم گئی تھی تو اس سچائی کو اس کی پوتی سے کیوں چھپایا گیا؟ اور اس کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟ یہ ابھیمعلومنہیں ہو سکا۔

10 سال بعد یہ تصویر کیسےوائرل ہوئی؟

گزشتہ دنوں 19 اگست کو منعقد کئے جانے والے فوٹو گرافی کے عالمی دن کے موقع پر گجرات میں قائم برطانوی نشریاتی ادارے نے تمام صحافیوں سے ان کے کیریئر کی بہترین تصویریں شیئر کر نے کو کہا تو بھاریش نے اپنی کھینچی گئی اس تصویر اور اس کے پیچھے کہانی کو شیئر کر دیا۔

سوشل میڈیا نے فوراً ہی اس تصویر کو اٹھایا اور یوں یہ تصویر وائرل ہو گئی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں