آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پرانی یاری پرانا تنازع

پاکستان امریکا میں نیا تنازع، دراصل سارا رولا ’’ڈو مورلَو ‘‘ کا ہے، کیونکہ امریکا پاکستان رومانس نیا نہیں برسوں پرانا ہے۔ جب دونوں وجود میں نہیں آئے تھے تب ان کا جوڑا آسمانوں پر بنا دیا گیا تھا، آسمانوں پر ہماری گرامر نہیں چلتی اس لئے مذکر مونث کا اس جوڑ سے کوئی تعلق نہیں، البتہ زمین پر یہ دونوں مذکر ہیں، اور امریکی کانگریس نے تو مذکر مذکر جوڑے کے جواز پر فتویٰ بھی دے دیا ہے، اس لئے تعلقات میں کشیدگی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، مندروں کلیسائوں میں پیار کی بازی لگ ہی نہیں سکتی مگر مسجد کلیسا کا تعلق بہت قدیم ہے، کیونکہ دونوں کو پیغام بھی آسمان سے آیا ہے مگر ان میں ایک پیغام میں پانی ملا دیتا ہے، بعض ناقدین کہتے ہیں عمران نے فون کیوں اٹھایا وہ اپنے امریکی ہم منصب سے بات کرتے یہ پاکستان کی عزت کا سوال تھا، مگر ہم خوش ہیں کہ اچھا ہوا ٹرمپ، ٹرمپ کی آپس میں بات نہیں ہوئی، زلزلہ آنا تھا اور آفٹر شاکس بھی پاکستان نے برداشت کرنا تھے۔ بعض تجزیہ کاروں کو یہ بھی گلہ ہے کہ دراصل امریکہ کو جانا بالی وڈ ہوتا ہے وہ ہمیں بہانے کے طور پر استعمال کر کے پہلے ہمارے ہاں آتا ہے، حالانکہ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کے لئے اس سے بڑھ کر کیا باعث عزت ہو سکتا ہے کہ امریکا اولیت ہمیں دیتا ہے ہم سے ہو کر چاہے وہ ’’ڈٹھے کھوہ‘‘ چلا جائے ہمیں اس سے کیا، اگرچہ اب ہمارے ہاں دہشتگردی نہیں رہی مگر ’’تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے‘‘ اس لئے امریکا ’’ڈو مور لَو‘‘ کا نعرہ لگاتا ہوا پہلے ہماری دہلیز چومتا ہے پھر بتکدئہ ہند میں قدم رکھتا ہے، کیونکہ فراز نے بھی اسی بتکدے کو اندر جا کر دیکھا تو کہا؎

وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے

پاکستان، امریکا جتنا بھی زور لگا لیں دونوں میں پیار ٹوٹ نہیں سکتا، جب ہم اس سے پیار کرتے ہیں اور وہ ڈو مور کہتا ہے، تو ہم اس کے رخسار لال کر دیتے ہیں یہ مقام بلند بھلا دنیا کے کسی دو ملکوں میں کب پایا جاتا ہے۔

٭٭٭٭

سدا نہ باغیں بلبل بولے

وفاقی کابینہ:حکمرانوں کے صوابدیدی فنڈز ختم، سرکاری دفتری اوقات تبدیل میٹرو اورنج منصوبوں کی تحقیقات، وزیراعظم خصوصی طیارہ بھی استعمال نہیں کریں گے۔ حکمرانوں کے فرسٹ کلاس میں سفر پر پابندی وغیرہ وغیرہ، بڑی اچھی بات ہے کہ حکمرانی کو اب پھولوں کی سیج بنا کر ملک و قوم کا استحصال بند ہو، جب طالع آزما حضرات دیکھیں گے کہ سیاست و حکومت کرنے میں کوئی مالی منعفت اور راتوں رات امیر تر بننے کا چانس نہیں تو وہ لوگ سیاست میں آئیں گے جن میں امانت دیانت محنت ہو گی اور تعلیم یافتہ بھی ہوں۔ یہ کیا کہ سیاست ایک نفع بخش کاروبار بن کر رہ گیا ہے۔ کابینہ نے جو فیصلے کئے ہیں اب ان پر عملدرآمد نظر آنا چاہئے، کچے پکے راگ ہم نے بہت سن لئے اب اگر عمل کی دنیا میں حکمرانوں اور قوم نے قدم نہ رکھا تو ہماری اتنی ساکھ بھی باقی نہیں رہے گی کہ کوئی ادھار ہی دیدے، جمہوریت کی آڑمیں بادشاہت بہت ہو چکی اب ڈومور کا رخ اپنی طرف اپنے لئے پھیر لینا چاہئے پھر ہم سے کوئی اور ڈو مور کا تقاضا نہیں کر سکے گا۔ قومی سطح پر محتاجی سے بڑا اپاہج پن کیا ہے؟ یہ نہ ہو کہ من حیث القوم ’’سپیشل افراد‘‘ قرار پائیں، نئی حکومت نے نئے انداز اپنانے کے دعوے کئے ہیں جنہیں عملاً سچ ثابت کرنا ہو گا، اپوزیشن بھی صرف کیڑا نکال اپوزیشن نہ بنے، تعاون، رہنمائی اور غلطی کی نشاندہی کرے تاکہ پارلیمنٹ وقت کے تقاضوں کے مطابق قانون سازی کرے اور نئی صبح طلوع ہو۔

٭٭٭٭

بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل

وزیراعظم پاکستان دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتخانوں کو پابند کریں کہ وہ بیرون ملک نئے، پرانے پاکستانی تارکین وطن کے مسائل حل کریں۔ اس وقت بھی ایک غریب خاتون میرے سامنے بیٹھی خون کے آنسو رو رہی ہے جس کے بیٹے کو رنگساز کی حیثیت سے ورک ویزے پر مسقط لے جایا گیا اور وہاں اسے بوریاں ڈھونے پر لگا دیا گیا وہ بیچارا وہاں کی زبان نہیں جانتا ، انگریزی بھی نہیں بول سکتا، انہیں کہتا ہے میں رنگساز ہوںوہ منکر نکیر کی طرح نہ کچھ دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں بس 18گھنٹے اس سے وہ مزدوری لیتے ہیں جس کے لئے اس کو لایا ہی نہیں گیا پاکستانی سفارتخانہ بھی اس کی بات نہیں سنتا، اب اس کی ماں رو رہی ہے کہ میرا بیٹا صحیح سلامت پاکستان آ جائے مجھے اور کچھ نہیں چاہئے، مسقط میں پاکستانی سفارتخانہ اس مظلوم کی داستان سنے اور مسئلہ حل کرے، مقبوضہ کشمیر میں دن رات کشمیریوں کا قتل عام ہو رہا ہے، مگر گونگے سفارتخانے کچھ بولتے ہی نہیں، اگر ہماری سفارتکاری مضبوط اور تیز ہوتی تو انسانوں کی دنیا میں بھارت یوں آزادانہ انسانوں کو موت کے گھاٹ نہ اتار سکتا۔ سفیروں کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ وہ منظور نظر ہیں یا منظور ریاست، اور کس ملک کے لئے کون فٹ سفیر ہے۔ امیگریشن کے حوالے سے تارکین وطن کی مشکلات حل کرنا سفیروں کا اولین فریضہ ہے جو ادا ہوتا تو آج ملکوں ملکوں پاکستانی اپنے مسائل کے حوالے سے ذلیل و خوار نہ ہوتے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جتنی شہادتیں دیں ان کا شمار نہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستانی کو ہر ملک میں چاہے وہ اپنوں کا ہو یا پرایوں کا ہو دہشت گرد سمجھا جاتا ہے۔ اگر سفیر سفید ہاتھی ہیں تو ان پر اخراجات کیوں؟ اگر یہ مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھا سکتے تو ان سرخابوں کو واپس لایا جائے۔ اچھی خاصی بچت ہو گی ویسے بھی آج ہمیں بچت کی جتنی ضرورت ہے کبھی اتنی نہ تھی۔

٭٭٭٭

کچھ کر کے دکھائیں

....Oنیب کا چوہدری پرویز الٰہی کو پھر طلب کرنے کا فیصلہ۔

اللہ خیر ہی کرے۔

....Oجناح اسپتال:ڈاکٹروں کی غفلت، خاتون نے ایمرجنسی کے برآمدے میں بچے کو جنم دے دیا۔

پنجاب میں بالخصوص لاہور اور باقی شہروں کے بالعموم سرکاری اسپتالوں میں پرچی، انسانی جان سے زیادہ وقعت رکھتی ہے، اب تک کتنے ہی مریض پرچی بننے کے عمل کے دوران اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں، بالخصوص ڈیلیوری کیسز کو آخر کیوں پرچی سے مشروط کر دیا گیا ہے یہ پرچی بعد میں بھی بن سکتی ہے مگر انسانی جان واپس نہیں آ سکتی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی پہلی فرصت میں کم از کم لاہور کے اسپتالوں کا قبلہ تو درست کر دیں۔

....O لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ ٹھس 2 سے 14گھنٹے لوڈ شیڈنگ،

وہی اک چال بے ڈھنگی جوپہلے تھی سو اب بھی ہے۔

....Oپرویز رشید:اعتزاز احسن اڈیالہ جیل جا کر نواز شریف سے معافی مانگیں۔

پرویز صاحب اب تو میاں صاحب کو مزید خراب نہ کریں، آپ کے زریں مشورے کافی چوکھا رنگ لا چکے ہیں۔

....Oسوشل میڈیا پر فرقہ واریت پھیلانے والے نام نہاد ملائوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔

ایک انجینئر مولوی صاحب بہت دریدہ دہنی سے کام لے رہے ہیں ہے کوئی سائبر کرائم کا کرتا دھرتا جو ان کو روکے، ہم فرقہ واریت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں