آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد شمس الحق

تحقیق کے لغوی معنی ہیں، دریافت کرنا، کھوج لگانا، پایۂ ثبوت کو پہنچنا، کسی شے پر قطعی حکم لگانا، تحقیق، دراصل سچائی کی تلاش ہے۔ اپنے مضمون ’’میرؔ اور ہم‘‘ میں مجنوںؔ گورکھ پوری نے درج ذیل شعر کو میر تقی میرؔ سے منسوب کیا ہے:

شکست و فتح نصیبوں سے ہے، ولے اے میرؔ

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

یہ شعر میرؔ کا نہیں ہے، بلکہ محمد یار خاں امیرؔ کا ہے، جو قائم چاند پوری کے شاگرد تھے۔ شعر کی اصل شکل اس طرح ہے:

شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن

مقابلہ تو ناتواں نے خوب کیا

اس شعر کے صحیح خالق کی نشان دہی میں کچھ احباب دھوکا کھا گئے ہیں۔ کئی قابلِ احترام ادیبوں اور دانش وروں نے سہواً اس شعر کو میر تقی میرؔ یا امیرؔ مینائی سے منسوب کیا ہے اور مصرعۂ اولیٰ اس طرح نقل کیا ہے:

شکست و فتح نصیبوں سے ہے، ولے اے میرؔ

مجنوںؔ گورکھپوری سے بھی یہی غلطی سرزد ہوئی ہے۔

ڈاکٹر ابوالخیر کشفی نے اپنی کتاب ’’یہ لوگ بھی غضب تھے۔‘‘ (خاکے اور شخصی مطالعے) کے پہلے صفحے پر حسبِ ذیل شعر میر تقی میرؔ سے منسوب کیا ہے:

یہ لوگ بھی غضب کے ہیں، دل پر یہ اختیار

شب موم کرلیا، سحر آہن بنا لیا

یہ شعر، نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کا ہے۔ شعر کی شکل قدرے مختلف ہے:

تم لوگ بھی غضب ہو کہ دل پر یہ اختیار

شب موم کرلیا، سحر آہن بنا دیا

اس غزل کا مقطع ملاحظہ ہو!

اظہارِ عشق اُس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ

یہ کیا کیا کہ دوست کو، دشمن بنادیا

اسی طرح مندرجہ ذیل شعر، اکبر الہ آبادی کے نام سے منسوب کیا گیا:

اگرچہ شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی

مگر وہ بات کہاں، مولوی مدن کی سی

اکبر الہ آبادی کے کلیات، جلد اول، دوم، سوم اور چہارم میں یہ شعر درج نہیں ہے۔

راقم الحروف نے ایک دفعہ ’’خم خانۂ جاوید‘‘ کی پانچوں ضخیم جلدوں کا مطالعہ اس خیال سے کیا کہ شاید کوئی ایسا ضرب المثل شعر ہاتھ آجائے، جو عوام اور خواص کی نظروں سے اوجھل ہو۔ پانچوں جلدوں کی ورق گردانی میں دس روز صرف ہوئے۔ شکر ہے کہ راقم کی یہ کوشش رائیگاں نہیں گئی اور گوہر یک دانہ ہاتھ آگیا، جس کی تفصیل ذیل میں درج ہے۔

مولوی عبدالحکیم سیف، خلف سیّد عبدالرحیم کے حالات لکھتے ہوئے ’’خم خانۂ جاوید‘‘ کی جلد چہارم، صفحہ 320پر لالہ سری رام رقم طراز ہیں:

آپ شاہجہاں پور، روہیل کھنڈ کے باشندے ہیں۔ آپ مدن صاحب مشہور مقدس، متبحر عالم کی اولاد میں سے ہیں، جو نواب سعادت علی خاں کے اتالیق تھے اور جن کی تعریف میں سیّد انشاؔ نے مزاحاً یہ شعر کہا:

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی

مگر وہ بات کہاں، مولوی مدن کی سی

انشاؔ، نواب سعادت علی خاں کے دربار سے متعلق تھے۔ مولوی مدن، نواب سعادت علی خاں کے اتالیق تھے، پس ان کا بھی دربار سے گہرا تعلق رہا ہوگا۔ قرین قیاس ہے کہ یہ شعرانشاؔ ہی کا ہے۔

تحقیق بڑا صبر ریاضت اور ذمے داری کا کام ہے۔ بقول رشید حسن خاں ’’تحقیق کا راستہ، مشکلوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس میں دو چار سے کہیں زیادہ سخت مقام آتے ہیں۔‘‘

تو یہ تمہید تھی۔ اب میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ماہ نامہ ’’نگار‘‘ لکھنو 1957ء میں صفحہ 59 پر ایک مراسلہ چھپا:کس کا ہے؟

وہ آئے بزم میں اتنا تو میرؔ نے دیکھا

پھر اس کے بعد، چراغوں میں روشنی نہ رہی

یہ شعر میر تقی میرؔ سے منسوب ہے، لیکن ’’کلیاتِ میرؔ‘‘ میں یہ شعر درج نہیں ہے۔ مختلف اصحاب نے اس شعر کے خالق کے متعلق اظہار خیال کیا، مگر کوئی صحیح نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔تابش دہلوی اپنی کتاب ’’دید با زدید‘‘ میں ’’مشاعروں کی کہانی‘‘ کے زیر عنوان لکھتے ہیں:

میرے بچپن میں گلستان، بوستان، انوارِ سہیلی خالق باری اور مثنوی مُلّا غنیمت، کلام مجید کے ساتھ عام طور پر بچوں کی پڑھائی جاتی تھیں، اس طرح ہر شخص کو کم از کم خطوط ہی لکھنے کے لیے موقعے کے دس بیس اشعار ضرور یاد ہوجاتے تھے اور اس طرح شعر فہمی کا مذاق عام تھا۔ اُس زمانے کی دلّی میں بیخود دہلوی، سائلؔ دہلوی، آغا شاعرؔ قزلباش، پنڈت امرناتھ ساحرؔ، زارؔ زتشی، شیداؔ دہلوی اور نوجوانوں میں مہاراج بہادر برقؔ اور جادوؔ دہلوی، بزمِ ادب کی رونق تھے۔ یہ شعر برقؔ ہی کا ہے، جو میرؔ سے منسوب ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو برقؔ نے دیکھا

پھر اس کے بعد، چراغوں میں روشنی نہ رہی

مذکورہ بالا شعر کے اصل خالق کی جستجو میں راقم تابش دہلوی کے درِ دولت پر بھی حاضر ہوا تھا۔ تابش دہلوی نے بڑے وثوق سے کہا تھا کہ زیرِ بحث شعر، مہاراج بہادر برقؔ ہی کا ہے، لہٰذا مہاراج بہادر برقؔ کو اس شعر کا خالق تسلیم کرلیا گیا، چناں چہ راقم الحروف کی کتاب ’’اردو کے ضرب المثل اشعار: تحقیق کی روشنی میں ’’پہلے، دوسرے اور تیسرے ایڈیشن میں یہ شعر مہاراج بہادرؔ برقؔ کے نام سے درج کردیا گیا۔خلیق الزماں نصرت نے ایک کتاب ’’برمحل اشعار اور ان کے مآخذ‘‘ کے نام سے لکھی ہے۔ اس کتاب میں ایک مراسلہ چھپا ہے۔ مراسلے کی ہو بہو نقل ذیل میں درج ہے:فکر یزدانی رام پوری

وہ آئے بزم میں اتنا تو فکر نے دیکھا

پھر اس کے بعد، چراغوں میں روشنی نہ رہی

الطاف الرحمن فکرؔ یزدانی، راز یزدانی رام پوری کے شاگرد تھے۔ والد کا نام مولوی حبیب الرحمن تھا۔ رازؔ کہتے ہیں کہ اُن کی موجودگی میں مذکورہ شعر کی غزل صاحب زادہ محمود علی خاں رزمؔ کے دولت کدے واقعے محلہ واجد وارہ، رام پور پر 1940ء میں ایک مشاعرے میں سنائی تھا، جس میں رام پور کے بزرگ محقق شبیر علی خاں شکیب بھی موجود تھے، جنہوں نے اس شعر کا ذکر اپنی کتاب ’’رام پور کا دبستانِ شاعری میں کیا ہے۔یہ شعر، میرؔ کے نام سے منسوب ہوگیا ہے۔ کچھ اس کو مہاراجا بہادر برق کا شعر کہتے ہیں، جو دلّی کے رہنے والے تھے۔ مہاراجا بہادر برقؔ کے استاد بھائی، پنڈت گلزارؔ دہلوی سے جب میں نے اس تعلق سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ مذکورہ شعر مہاراجا بہادر برقؔ کا نہیں ہے۔ وہ ہمارے عزیزوں میں تھے اور سائلؔ کے شاگرد تھے۔ میں بھی سائلؔ کا شاگرد ہوں۔‘‘

تابش دہلوی نے مذکورہ شعر کی مناسبت سے کسی خاص مشاعرے کا ذکر نہیں کیا۔ انھوں نے مہاراج بہادر برق کی کسی کتاب کا حوالہ بھی نہیں دیا۔ صرف یہ کہنا یہ شعر مہاراج بہادر برقؔ کا ہے، کوئی سند نہیں۔ مہاراج بہادر برقؔ کے خلاف فیصلہ کن بات یہ ہے کہ ان کے استاد بھائی، پنڈت گلزارؔ دہلوی نے زیر بحث شعر کو مہاراج بہادر برقؔ کی ملکیت ماننے سے انکار کردیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں