آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی حکومت نے یکم ستمبر سے پیٹرول کی قیمت میں 2.41روپے، ڈیزل 6.37روپے اور مٹی کے تیل میں محض 46پیسے فی لیٹرکمی کی ہے۔ اس طرح پیٹرول95.24سے کم ہو کر92.83، ہائی سپیڈ ڈیزل 112.94سے کم ہو کر106.57اور مٹی کا تیل 83.96سے کم ہو کر83.50روپے فی لیٹر کی سطح پر آگیا ہے۔ ملک میں گزشتہ کم و بیش دو دہائیوں سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھنے کی بجائے ان میں کبھی ماہانہ اور کبھی پندرہ روزہ بنیادوں پر کمی بیشی کا جو رجحان چلا آرہا ہے اشیائے صرف کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں پرا س کا فوری اثر پڑتا ہے۔ پیٹرولیم کے نرخوں میںبرائے نام کمی بھی حکومت کے کاغذات میں کمی لیکن معمولی سا اضافہ قیمتوں میں بڑا اضافہ بن کر صارفین کے سامنے آتا ہے اور اشیائے خوردو نوش سے لیکر نقل و حمل کے اخراجات تک ہر چیز پر اس کے فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے تنخواہ دار اور روزانہ اجرت پرکام کرنے والے عوام الناس سبھی مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ جاتے ہیں۔ مزید برآں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شامل پیسوں کا عنصر ادائیگی کے وقت روپے میں بدل جاتا ہے جس کا فائدہ پیٹرول پمپ مالکان کو ہوتا ہے اور صارفین کو لوٹائے جانے والی بقایا رقم میں پیسے شامل نہیں ہوتے جو کہ روزانہ مجموعی طور پر لاکھوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ گزشتہ سال قیمتوں سے پیسوں کا عنصر

نکالے جانے کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع کردیا گیا ہے۔ روزانہ صارفین کی جیب سے نکلنے والی یہ بھاری رقم اگر ڈیموں کی تعمیر میں چلی جائے تو یہ اس کا ایک مفید استعمال ہوگا۔ ایک اور بات جو نئی وفاقی کابینہ کے پہلے باضابطہ اجلاس میں سامنے آئی، پیٹرولیم کے وزیر غلام سرور خان کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک ہی سطح پر لائے جانے کا عندیہ تھا چنانچہ ڈیزل کی حالیہ قیمتوں میں 6.37روپے کی کمی کی گئی ہے، امید ہے یہ قیمتیں بتدریج کم کرکے جلد پیٹرول کے برابر لے آئی جائیںگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں