آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق صدر آصف علی زرداری کمال کی سیاست کرتے ہیں۔ وہ اپنے مخالفوں کو ہمیشہ اپنی مسکراہٹ اور خاموشی سے ماردیتے ہیں مگر طاقت کے کھیل میں آجکل زرداری ایک بار پھر مصیبت میں ہیں۔ غلطیاں کسی اور کی نہیں شاید ان کی اپنی ہی ہیں۔ جن سے کھیل میں موجود کچھ اور کھلاڑی فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہیں۔ جن کا مقصد کبھی انصاف رہا ہی نہیں صرف اپنا فائدہ ہوتا ہے۔ اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ مگر بساط بچھ چکی ہے ۔ اس بار زرداری کو جعلی اکائونٹس کیس کے اہم اور سنجیدہ الزام کا سامنا ہے۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ زرداری کو اسٹیبلشمنٹ کی تمام باتیں مان کر بھی ایف آئی اے جانا پڑے گا اور تو اورہر آئے دن کی پریشانی الگ ہوگی۔

دراصل جعلی اکائونٹس کیس کا آغاز سال دوہزار پندرہ میں ہوا تھا ۔ اس وقت ایف آئی اے کے سربراہ اکبر ہوتی تھے جبکہ شاہد حیات ایف آئی اے میں ہی تعینات تھے۔ شاہد حیات پیپلز پارٹی بلکہ خود آصف علی زرداری کے قریبی جانے جاتے ہیں۔ ان دنوں ایک سورس رپورٹ تیار ہوئی تھی ۔جس میںبتایا گیا تھا کہ آصف زرداری کے قریبی ساتھیوں نے جعلی اکائونٹس کے ذریعے اربوں روپے بیرون ممالک بھیجے ہیں۔ تاہم زرداری صاحب کےایف آئی اے میں خیر خواہوں نے معاملہ وقتی طور پرمعاملہ دبا دیا۔

سال دوہزار سولہ میں ایف آئی اے میں یکے بعد دیگرے دو افسران کو مختصرمدت کے لیے ڈی جی ایف آئی اے لگا کر ہٹا دیا گیا اورپھر پہلی بار سندھ سے تعلق رکھنے والے افسر بشیر احمد میمن کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کیا گیا۔ بشیر میمن کو سندھ سے پیپلز پارٹی کے دور میں نکال دیا گیا تھا۔ جرم یہ تھا کہ انہیں مبینہ طور پر اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے فون پر قتل کے کیس میں کچھ ملزمان کی سفارش کی تھی مگر میمن نے سفارش ماننے سے انکارکردیا تھا۔ صدر نے برا بھلا تو نہ کہا مگرصوبہ بدری سندھی میمن کا مقدربن گئی ۔ اب مسلم لیگ نے میمن کو ایف آئی اے میں تعینات کردیا ۔ اب باری بشیر میمن کی تھی۔

میمن کے آتے ہی جعلی اکائونٹس کے اس کیس کے بارے خصوصی طورپر بریفنگ دی گئی اور یہ بھی پتہ چلا کہ اس کیس میں کسی اور کی بھی دلچسپی ہے۔ سب سے پہلے میمن نے اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر فواد حسن فواد سے ملاقات کرکے اپنے بھروسے کے تمام افسروں کو ایف آئی اے میں تعینات کیا اور کیس میں پیشرفت ہونا شروع ہوگئی۔ میمن کا نام اچھے پولیس آفیسرزکے طور پر لیا جاتا ہے مگرایسا بھی نہیں کہ وہ فرشتے ہیں۔ ان پر ڈپٹی چیئر مین نیب امتیاز تاجورکے خلاف کرپشن کیس متنازع انداز میں ختم کرانے ، گرینڈ حیات کی تعمیر کا کیس اور ابراہیم کوکو کیس وغیرہ میں متنازع کردار ادا کرنے کے الزامات بھی ہیں۔ یہ بات زبان زد عام ہے کہ وہ طاقت کے ایک خاص مرکزسے جڑے ہوئے ہیں۔جب عام انتخابات قریب آئے تو ملک بھر کی بیوروکریسی آگے پیچھے کردی گئی مگر ڈی جی ایف آئی اے کو ہاتھ تک نہ لگایاگیا۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے بھی ہدایات دےرکھی تھیں۔ تاہم پیپلز پارٹی نے اس پر اعتراض کیا کہ بشیرمیمن کا سگا بھائی سندھ میں پیپلزپارٹی کے مخالف مسلم لیگ پگارا کا انتخابی امیدوار بھی ہے لہٰذا ڈی جی ایف آئی اے کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے ، مگر پیپلزپارٹی کا اعتراض بھی مستردکردیا گیا۔

جعلی اکائونٹس کا کیس آگے بڑھ گیا ۔ معاملہ چونکہ عدالت عظمی میں بھی پہنچ گیا تھااور چیف جسٹس ثاقب نثار بھی اس میں ذاتی دلچسپی لے رہے تھےلہٰذاعام انتخابات سے صرف سترہ روزقبل سابق صدرآصف علی زرداری ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ الزام تھا جعلی بینک اکائونٹس بنانے کا اور ثبوت تھا زرداری گروپ آف کمپنیز کے اکائونٹ سے جعلی اکائونٹس میں رقم کے لین دین کا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ زرداری گروپ آف کمپنیز کے قانونی سربراہ بلاول بھٹو زرداری ہیں جبکہ بختاور اور آصفہ بھی اس کی ڈائریکٹرز ہیں۔ فی الحال ان تینوں کا نام کہیں نہیں آیا۔

کیس رجسٹرڈ کرنے کے بعد تفتیشی ٹیم قائم کردی گئی ۔ جس کا سربراہ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈی جی نجف قلی مرزا کو تعینات کیا گیا۔ نجف قلی مرزا نوے کی دہائی میں سندھ میں بطور سپرنٹنڈنٹ جیل بھی تعینات رہے ہیں ۔اسی دور میں آصف علی زرداری پر جیل میں مبینہ تشدد کیا گیا تھابعد میں ایک مقدمہ بھی درج کیاگیا جس میں سابق وزیراعظم نوازشریف ، رانا مقبول اور دیگر کے ہمراہ نجف قلی مرزا کا نام بھی ملزمان کی فہرست میں رکھاگیا تھا۔ جب پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں چارٹرڈ آف ڈیموکریسی پر دستخط ہوئے تو کیس سے نوازشریف اور دیگر کا نام نکال دیا گیا جبکہ بیچارہ قلی مرزا اس کیس میں پھنسا رہ گیا ۔کیس آجکل داخل دفتر ہے ۔ ظاہر ہے مرزا کی تفتیشی ٹیم میں شمولیت پر بھی پیپلزپارٹی معترض ہوئی ۔

کیس کے اندراج کے بعد آصف زرداری اور فریال تالپور عدالتوں سے ضمانت لینے کے بعد چوتھے بلاوے پر ستائیس اگست کو ایف آئی اے اسلام آباد زون میں پیش ہوگئے ۔ اس کیس میں اومنی گروپ کے انورمجید پہلے ہی گرفتار ہوچکے تھے۔ جب آصف زرداری اور فریال تالپور ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تو ٹیم نے درخواست کی کہ وہ زرداری اور فریال سے الگ الگ تفتیش کریں گے۔ حیران کن طور پر زرداری نے ٹیم کے اس حکم کو مسترد کردیا۔ ایف آئی اے ڈائریکٹر اسلام آباد کے کمرے میں زرداری کمانڈ پوزیشن میں تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ زرداری تفتیشی ٹیم کے سامنے نہیں بلکہ ٹیم زرداری کے سامنے پیش ہوئی ہے۔ زرداری نے تمام کو بیٹا بیٹا کہہ کر پکارا اور پوچھتے رہے کہ ٹیم کے افراد کا تعلق کس کس صوبے اور ضلع سے ہے ۔ کسی سوال کا مناسب جواب نہ دیا اور سوالنامہ بھیجنے کا حکم دے کر نکل آئے۔

زرداری باہر نکلے تو میں نے پوچھا کہ ان کے خلاف یہ کیس اصل میں کس نے بنایا ہے زرداری بولے بدقسمتی سے یہ کیس نوازشریف کے دور میں بنا ہے ۔ میں نے عرض کی کہ کیس کہ پیچھے ہے کون بولے نوازشریف ہی ہیں۔ میں نےدوبارہ پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ اس کیس کے ذریعے آپ کو کنٹرول کیا جائے گا من مرضی کے فیصلے لیے جائیں گے تاکہ اپوزیشن متحد نہ ہوسکے؟ زرداری نے گاڑی میں بیٹھنے سے قبل مجھے مسکراتے ہوئے غور سے دیکھا اور کہا " اوہو۔۔ کون کہتا ہے؟" ۔ انہیں پتہ تھاکہ میں پوچھ کیا رہاہوں اور مجھے بھی پتہ تھا وہ بتا نہیں سکتے۔ لہٰذا وہ گاڑی میں بیٹھے اور چلے گئے۔

دوسری طرف ایف آئی اے تفتیشی ٹیم کی طرف سے مسلسل شکایات آرہی تھیں کہ سندھ میں ان کو اور ان کے اہل خانہ کوسنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ڈی جی ایف آئی اے کو پتہ چل گیا تھا کہ جب تک تمام ادارے کھل کران کے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے کیس میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے ۔ اسی پس منظر میں سپریم کورٹ کی طرف سے ایڈ یشنل ڈی جی ایف آئی اے احسان صادق کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کردی گئی جس میں خصوصی طور پر آئی ایس آئی کے بریگیڈئیر شاہد پرویز کو شامل کیا گیا ۔ سب کا انحصار انہی پر ہوگا۔ ڈی جی ایف آئی اے بھی خوش ہیں کہ یہ ٹیم قائم کردی گئی اور کھیل میں شامل باقی لوگ بھی مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے پراعتماد ۔ مجھے اس کیس کے اندراج کا کافی پہلے سے علم تھا جسکا اظہار میں نے گول مول انداز میںکئی ہفتے پہلے ٹویٹر پر کردیا تھا۔ مجھے کسی دوست کے ذریعے پتہ چلا تھا کہ یہ بھی کہا جا رہاہےکہ ،’’ہم نوازشریف اور مریم نواز کے جیل بھیجنے کو اسی وقت موثر ثابت کرسکتے ہیں کہ جب آصف زرداری اور ان کی بہن کو جیل بھیجا جائے گا‘‘۔

یہ بھی خیال کیا جا رہا تھاکہ عام انتخابات اور اس کے بعد صدارتی انتخابات تک اس کیس میں زرداری کو تنگ نہ کیا جائے ، دونوں مرحلے گزرگئے اب کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ کھیل کے اس مرحلے میں احسان صادق ، واجد ضیا کا کردار ادا کریں گے اور آصف علی زرداری اور فریال تالپور بالترتیب نوازشریف اور مریم نواز بنیں گے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں بلاول بھٹو زرداری اور دیگر بھی پیش ہونگے بالکل اسی طرح جس طرح نوازشریف کے بچے پیش ہوئے تھے۔

زرداری بلاول کو اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگرشاید بلاول سمیت کوئی بھی ان کی مدد نہ کرسکے ۔ اصل مقصد زرداری کی گرفتاری ہے ، سوال یہ نہیں کہ ایسا ہوگا یا نہیں اب تک سوال یہ ہے کہ ایسا ہوگا تو کب ہوگا؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں