آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (ٹی وی رپورٹ)تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے کلثوم نواز کے جنازے میں جانے میں کوئی قباحت نہیں ہے ، کلثوم نواز کے جنازے میں حکومت اور پی ٹی آئی کی نمائندگی ہونا چاہئے، شریف فیملی پر مشکل وقت ہے سخت باتیں نہیں کرنی چاہئیں، میں نے کبھی شریف فیملی کے خلاف ذاتی بات نہیں کی، قانون اگر عام آدمی کو لچک نہیں دے سکتا تو خاص آدمی کو بھی نہیں دینا چاہئے۔وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان محمد جنید سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو، ن لیگ کے رہنما میاں جاوید لطیف اور بیوروچیف جیو نیوز لاہور رئیس انصاری بھی شریک تھے۔مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ خورشید شاہ نے توہین آمیز بات نہیں کی ،ہمارے بیان کی نہیں چیف جسٹس کی تلخی کی زیادہ اہمیت ہے،عوام پر کسی معاملہ میں بوجھ پڑا تو پیپلز پارٹی احتجاج کرے گی۔جاوید لطیف نے کہا کہ کلثوم نواز سویلین بالادستی کی علامت اور سیاسی کارکن کا حوصلہ تھیں، بھاشا ڈیم کیلئے اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں سے چندہ مانگنا غلط نہیں لیکن یہ کام حکومت کا ہے اور اسے ہی کرنا چاہئے۔رئیس انصاری نے کہا کہ نواز شریف کل شام چار بجے سے چھ بجے تک خود لوگوں سے ملیں گے، نواز شریف اور مریم نواز کو صرف جنازہ کیلئے اجازت ملی

ہے وہ جاتی امراء کی حدود میں ہی رہیں گے،حسن اور حسین نواز اپنی والدہ کی تدفین میں شرکت کیلئے پاکستان نہیں آرہے۔فیصل واوڈا نےکہا کہ کل سانحہ بلدیہ ٹاؤن کو چھ سال گزرگئے جہاں ڈھائی سو بیگناہوں کو جلا کر مار دیا گیا، کلثوم نواز کی موت ہم سب کیلئے بہت غم کی بات ہے ، کلثوم نواز کی وفات پر ضرور تعزیت کی جائے اور نماز جنازہ میں شرکت بھی کی جائے، وزیراعظم عمران خان کے کلثوم نواز کے جنازے میں جانے میں کوئی قباحت نہیں ہے وہ ہمارے لئے بھی قابل عزت ہیں، یہاں نہ ہماری انا کا مسئلہ ہے نہ کسی سے ذاتی دشمنی ہے، کلثوم نواز کے جنازے میں حکومت اور پی ٹی آئی کی نمائندگی ہونا چاہئے۔فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ شریف فیملی پر مشکل وقت ہے سخت باتیں نہیں کرنی چاہئیں، میں نے کبھی شریف فیملی کے خلاف ذاتی بات نہیں کی، کلثوم نواز کی بیماری سے متعلق سیاسی وینٹی لیٹر کا لفظ کہا تھا جس پر معذرت بھی کی تھی، اگر کسی کی والدہ وینٹی لیٹر پر ہوں اور وہ سن گلاسز لگا کر اور اچھے کپڑے پہن کر شاپنگ کرتے نظر آئے گا تو یہی سوچا جائے گا کہ یہ شخص بے حس ہے یا ایسی کوئی بات نہیں ہے، کسی کی ذاتی زندگی پر حملے نہیں کرنے چاہئیں، نواز شریف اور ان کے بچوں کیخلاف الزامات کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے ، کیا وہ اپنی دولت بچانے کیلئے اپنی ماں کی تدفین میں شریک نہیں ہوں گے، اگر مجھ پر قتل کا مقدمہ ہو اور پھانسی ہونی ہو میں اپنے ماں باپ کیلئے ضرور آؤں گا، قانون اگر عام آدمی کو لچک نہیں دے سکتا تو خاص آدمی کو بھی نہیں دینا چاہئے۔فیصل واڈا نے کہا کہ عوام اس ملک کے مالک ہیں وہ کسی منصوبے میں اپنی خوشی سے حصہ ڈالیں تو اسے چندے کا نام دینا مناسب نہیں ہے، چیف جسٹس نے بھاشا ڈیم پر قدم بڑھا کر اور دوسرے اقدامات کر کے ہیرو والا کام کیا ہے، چیف جسٹس نے موبائل فون کارڈ پر عوام کے جو پیسے بچائے وہ ڈیم کیلئے استعمال کرلیے جائیں تو اربوں روپے جمع ہوجائیں گے، قوم کو صحیح راستے پر آنے کیلئے ہماری حکومت کے تحت تھوڑی سی تکلیف اٹھانی پڑی تو وہ خوشی سے قبول کرلیں گے، ہماری حکومت میں ٹیکس کا بوجھ پیسے والوں پر آنے والا ہے۔مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حکومت کو نواز شریف کے پیرول کی مدت بڑھانے کا اختیار ہے، حکومت کو اس موقع پر اچھے رویہ کا اظہار کرنا چاہئے، کلثوم نواز جس رات پولیس کے پہرے میں گاڑی میں بیٹھی تھیں اس وقت سے ان کی عزت کرتا ہوں، ن لیگ کے بڑے بڑے شیر آج دھاڑتے پھر رہے ہیں اس دن گھروں میں بیٹھے رہے، اعتزاز احسن نے کلثوم نواز کی بیماری سے متعلق اپنے بیان پر معافی مانگ لی تو اب یہ بات ختم ہوجانی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں